۲۴ مرداد ۱۴۰۱ |۱۷ محرم ۱۴۴۴ | Aug 15, 2022
شیخ علی نجفی

حوزہ/ دفتر حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی سے عراقی انتخابات کے حوالے سے جو بیان جاری ہوا ہے مرجع عالیقدر آیۃ اللہ العظمی حافظ بشیر نجفی اسی بیان کو کافی سمجھتے ہیں اس لیے کہ اس میں عراقیوں کے لیے مستقبل کے لیے واضح امور بتا دئیے گئے ہیں اور بیان مخلصانہ نصیحتوں پر مبنی ہے ۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،مرجع مسلمین و جہانِ تشیع حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ الحاج حافظ بشیر حسین نجفی کے فرزند اور مرکزی دفتر کے مدیر حجۃ الاسلام شیخ علی نجفی نے عراقیہ ٹیلی ویژن سے اپنی خصوصی بات میں فرمایا کہ عہد جدید میں مرجعیت نجف اشرف نے ہمیشہ یہی کوشش کی ہے کہ پارلیمنٹ اور حکومت میں اپنے نمائندوں کے اختیار کا حق خود عوام کے ہاتھ میں ہو ۔انہوں نے فرمایا کہ عراق اپنے نئے سیاسی نظام کی تشکیل نو ملک کے نئے آئین اور حکومتوں کی تشکیل کے نظام کی تاسیس اور تنفیذکے مرحلے میں تھا ۔

حجۃ الاسلام شیخ علی نجفی نے مزید کہا کہ مرجع عالیقدر حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ الحاج حافظ بشیر حسین نجفی کی رائے عراقی انتخابات کو لے کر وہی ہے جو دفتر حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی سے جاری ہوا ہے وہ اسی بیان کو کافی سمجھتے ہیں اس لیے کہ وہ بیان مخلصانہ نصیحتوں پر مشتمل ہے اور اس بیان میں وہ باتیں ہیں کہ جن کو اپنا کے عراقی ووٹر اچھی طرح بہتر سے بہتر امیدوار  کا انتخاب کر سکتا ہے تا کہ وہ آئندہ اس کا نمائندہ بن کر پارلیمنٹ اور حکومت میں شامل ہو۔ 

موصوف نے امید ظاہر کی کہ آنے والی پارلیمنٹ گزشتہ پارلیمنٹوں سے الگ ہوکہ جو عراق کی استقلالیت کو مزید تقویت بخشے اور عراقی عوام کے حق میں قوانین بنائے اور فیصلے دے۔

حجۃ الاسلام شیخ علی نجفی نے مزید کہا کہ مرجعیت ِنجف اشرف نے ہمیشہ یہی کوشش کی کہ ایسے حساس مرحلے سے نکلنے میں عوام کے سامنے واضح بیان رکھے جائیں تا کہ وہ کثیر تعداد میں انتخابات میں شرکت کریں اور اپنے نمائندے کے اختیار میں خود ذمہ داری سنبھالیں تا کہ ان کے ذریعہ ہی جن کا انتخاب کیا گیا ہے وہ پارلیمنٹ اور آئندہ حکومت میں ان کی نمائندگی کریں اور سوء اختیار اور انتخاب میں شرکت نہ کرنے کی وجہ سے پیش آنے والی مشکلات سے بچا جا سکے ۔

حجۃ الاسلام شیخ علی نجفی نے مزید بیان کیا کہ حالیہ انتخابات کے قوانین نے شہر کے جغرافیائی اعتبار سے نمائندے معین کئے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ عوام کو بخوبی پتہ ہونا چاہیے کہ ان کی جگہ سے کون کون امید وار ہے چاہے وہ پہلی مرتبہ الیکشن لڑ رہا ہو یا پرانا ہو اور مکمل تحقیق کریں اور وہ ضوابط جو مرجعیت نجف اشرف نے معین کئے ہیں اس کے حساب سے اپنے نمائندے کا انتخاب کریں خاص کر ایسے لوگوں کے حق میں ووٹ نہ دیں کہ جنہوں نے گزشتہ مراحل میں عوام کی خدمت میں کوتاہی کی ہے اور عراق کی ثروت و دولت سے غیر ذمہ دارانہ رویہ جاری رکھا، عراق کی استقلالیت امن و سلامتی کو توجہ نہ دی ۔

انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن کی بھی بڑی ذمہ داری ہے امید کرتے ہیں کہ استقلالیت ،شفافیت کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کو صحیح انداز میں انجام دیں گے اسی طرح مسلح افواج کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ الیکشن، لوگوں کی جانوں ،ان کے ووٹوں کی حمایت میں استقلالیت اور تمام سیاسی پارٹیوں سے خود کو الگ رکھتے ہوئے اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
3 + 14 =