۱۵ مهر ۱۴۰۱ |۱۱ ربیع‌الاول ۱۴۴۴ | Oct 7, 2022
حکیم نظامی

حوزہ/ جناب دکتر حداد عادل رئیس بنیاد سعدی و فرہنگستان ہنر نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ حکیم نظامی صاحب کی کتاب کو جناب مہدی خواجہ پیری صاحب نے دوبارہ زندہ کیا جو ہندوستان اور ایران کی مشترک میراث ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،نئی دہلی/ ہندوستان اور ایران کے قدیم تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے ہندوستان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیرڈاکٹرعلی چگینی نے کہا کہ ہندوستان کے برہمن اور ایران کے حکماء ایک ساتھ مل جائیں بہت سارے مسائل حل ہوجائیں گے۔ یہ بات انہوں نے ایران کلچرل ہاؤس اور انٹر نیشنل میکرو فلم نورکے تعاون سے ایران کے مشہور شاعر حکیم نظامی کی کتاب’خمسہ نظامی‘ کے رسم نمائش کے موقع پر کہی۔

انہوں نے کہاکہ ہندوستان کے شعراء اور ایران کے شعراء ایک دوسرے کو پڑھ لیں تو یہاں کے بہت سارے مسائل حل ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ دونوں شعراء کے یہاں کلام میں تشدد نہیں ہے بلکہ محبت ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایرانی تہذیب اور ہندوستانی تمدن سے دنیا کو بہتر بناسکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ انسان نے چاند پر کمند ڈال دیا ہے اور زمین کو روند دیا ہے لیکن وہ انسان سے دور ہوگئے لیکن اگر ہندوستان کے برہمن اور ایران کے حکماء چاہیں تو انسانیت کوزندہ کرتے ہوئے ہمارے معاشرتی مسائل کو حل کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ جس طرح ہندوستان مختلف تہذیبوں کا ملک ہے اسی طرح ایران بھی مختلف تہذیبوں کا ملک ہے اور دونوں کی تہذیب و ثقافت میں یکسانیت ہے۔ انہوں نے کہاکہ دونوں ملک اس ضمن میں کوشش کریں کہ ملک کے ماحول میں تبدیلی آئے گی اور دونوں ملک کے اساتذہ اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

وزارت خارجہ میں مشرقی زون کے سربراہ سوربھ کمار نے ہندوستان اور ایران کے گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اس طرح کے پروگرام دونوں ملکوں کے تعلقات مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔انہوں نے پروفیسر شریف قاسمی کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ہندوستان میں نہ صرف فارسی چھ سو سال قبل فارسی زبان تھی بلکہ تہذیبی زبان بھی تھی۔ انہوں نے کہاکہ حکیم نظامی کی کتاب سے ہند ایران کے تعلقات کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہاکہ میری اہلیہ نے حافظ، سعدی، شیرازی وغیرہ شعراء شاعری اور اس کی اہمیت سے آگاہ کیا اور کہاکہ ہندوستان اورایران کے تناظر میں ان لوگوں کی شاعری بڑی اہمیت ہے۔

رکن پارلیمنٹ ٹی جی وینکٹیش نے کہاکہ ہندوستان اورایران میں کافی یکسانیت پارئی جاتی ہے اوردونوں ممالک کی ثقافت بھی تقریباًیکساں ہے جس سے نسل نوکواستفادہ کرناچاہئے۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت نے ہند-ایران روابط کومزیدمضبوط کرنے کی سمت میں کئی اقدامات کئے ہیں۔

آغا خاں فاؤنڈیش کے ڈائرکٹر رتیش نندہ نے کہاکہ ہمایوں ٹومب کی تزئین کاری پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ یہاں کے کلچرل پر ایران کے گہرے اثرات ہیں اور یہ اثرات تمام جگہ دیکھنے کو ملتا ہے۔دہلی یونیورسٹی کی شعبہ اردو کی صدر پروفیسر نجمہ رحمانی نے کہاکہ فارسی زبان میں اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ اردو اگر جسم ہے تو فارسی روح ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر اردو سے فارسی کوالگ کردیا جائے تو اردو ادھوری رہ جائے گی۔ انہو نے مزید کہاکہ ایران اور ہندوستان کا رشتہ جسم اور روح کا ہے اور فارسی کی شیرینی صرف زبان میں ہی نہیں بلکہ تہذیب میں بھی ہے۔

ایران کی یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر خاقانی نے کہاکہ ایران اور ہندوستانی شاعروں کے مشترکہ تعلقات ہیں اور اس سمت آگے بڑھ رہے ہیں۔

ایران کلچرہاؤس کے کلچرل کونسلر ڈاکٹر محمد علی ربانی نے استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے کہاکہ اس نمائش گاہ کی شکل میں آج ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ ہند ایران کے مشترکہ مزاج کا امتزاج ہے۔

انہوں نے کہاکہ نمائش میں پیش کی گئی نقاشی اورکیلی گرافی ان کاشوں کانتجہ ہیں جوہندوستان اورایران کے ہندواورمسلمان کاتبوں کے فن کامظاہرہ ہے بہترین ادبی اورثقافتی شاہکارہے۔ڈاکٹرربانی نے کہاکہ آج جب دنیامیں نفرتوں کابازار گرم ہے ایسے وقت اس طرح کالٹریچربہت مفیدہے اوریہ دنیاکے انسانی معاشرے کے لئے ضرورت ہے۔جس سے دنیامیں اخوت اورآرامش، دوستی اوراس قسم کی چیزوں کامشاہدہ کیاجاسکے جس سے ایک بہترانسانی معاشرہ وجدمیں آسکے۔

دہلی آرٹس کالج کی پروفیسر امبریک چندوک نے کہاکہ نظامی کی سماجی، رومانی شاعر تھے۔ وہ نہ صرف فارسی کے اسکالرتھے بلکہ اسلامی، نباتات دیگر علوم کے بھی ماہر تھے۔
ڈاکٹرمہدی باقرخان کی نظامت میں ہوئے پرورگرام سب سے پہلے مجلس شوریٰ ایران کے سابق رکن حدادعادل نے ایران سے بذریعہ ویڈیوحکیم نظامی کے اشعارکے خصوصیات بیان کئے۔اس کے بعدانٹرنیشنل نورمائکروفلم سینٹراکے بانی ڈاکٹرمہدی خواجہ پیری نے اپنے ویڈیوپیغام میں حکیم نظامی سے متعلق گفتگوکرتے ہوئے بتایاکہ سردست’خمسہ نظامی‘جسے نورمیکروفلم سینٹرنے تیارکیاہے وہ بادشاہ اکبرکی براہ راست نظارت میں تیارکی گئی حکیم نظامی کی یادگارنوشت ہے۔

جناب دکتر حداد عادل رئیس بنیاد سعدی و فرہنگستان ہنر نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ میں ہزاروں کلومیٹر دور ہونے کے بعد بھی پیغام کی صورت میں شامل ہوں اور میں ایرانی اور ہندوستانی تمام شرکت کنندگان کا شکرگزار ہوں۔ حکیم نظامی صاحب کی کتاب کو جناب مہدی خواجہ پیری صاحب نے دوبارہ زندہ کیا جو ہندوستان اور ایران کی مشترک میراث ہے۔

واضح رہے کہ خمسہ نظامیؔ کا ایک قلمی نسخہ برطانیہ کی لائبریری میں سونے کی تزئین کے ساتھ شمارہ 12208 پر موجود ہے جو تصاویر کے ہمراہ ہے، یہ کتاب مغل بادشاہ ''اکبر'' کے لئے لکھی گئی تھی اور اس پر ایک گروہ نے مل کر کام کیا تھا۔ خوش نویسی کے علاوہ اس کتاب میں چالیس بہترین تصاویر بھی موجود ہیں جو اہمیت کی حامل ہیں۔ یہ کتاب ایرانی فنکاری کی ایک بہترین مثال پیش کرتی ہے۔

اس کتاب میں موجود خوبصورت تصاویر تقریباً بیس فنکاروں کی محنت ہے جن میں سے اکثریت ہندو لوگوں کی تھی۔ اگرچہ اس کا اصلی فنکار ''خواجہ عبد الصمد'' تھا جو مسلمان ایرانی تھا۔ عبدالصمد وہ انسان تھا جو ہمایوں کے دور میں بہترین فنکار تھا جس کو ہمایوں اپنے ساتھ لایا تھا۔اس زمانہ میں عبدالرحیم، عنبران قلم نامی کاتب زمانہ کا بہترین کاتب شمار ہوتا تھا۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
5 + 4 =