۲ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۲ شوال ۱۴۴۵ | Apr 21, 2024
مولانا سید حمید الحسن زیدی

حوزہ/ دور غیبت میں مرجعیت اور رہبری ہی وہ عظیم منصب ہدایت ہے جس نے تمام استعماری سازشوں کو ناکامی سے دو چار کیا ہے۔ 

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا سید حمید الحسن زیدی مدیر الاسوہ فاؤنڈیشن سیتاپور نے کہا کہ انسانی زندگی کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا شعور و ادراک ہے۔ آغاز تاریخ سے دیگر مخلوقات عالم یہاں تک کہ فرشتوں پر انسان کے امتیاز کی وجہ اس کی یہی سمجھداری تھی۔ اسی ضرورت کے پیش نظر خداوند عالم نے اپنی طرف سے بھیجے جانے والے تمام ہادیان دین و مذہب کو سماج کے سارے افراد سے زیادہ با شعور بنا کر بھیجا جس کا اعتراف اس زمانے کے تمام صاحبان فضل و کمال نے کیا۔

جیسا کہ دور جناب مسیحؑ میں اس دور کے اطباء ، دور جناب موسیٰؑ میں اس دور کے جادوگر اور دور پیغمبر اسلامؐ میں اس دور کے فصحاء و بلغاء کے اقوال تاریخ کے دامن میں محفوظ ہیں۔

پروردگار عالم نے انسان کی تخلیق کے بارے میں یہ اعلان کیا کہ تم اس عالم میں دنیا میں آئے جب کچھ نہیں جانتے تھے تو اسے پڑھانے کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء بھیجے۔ تعلیمات اسلامی کا آغاز لفظ اقرأ (پڑھو) سے ہوا۔ گویا اسلام نے غافل ذہنوں کی غفلت سے فائدہ اٹھا کر ان سے احکام دین ماننے کا مطالبہ ہرگز نہیں کیا بلکہ پہلے ذہن کو بیدار کیا، انہیں تعلیم و تربیت کی اہمیت کی طرف متوجہ کیا اور جب ان کا شعور بیدار ہو گیا تو اپنی الٰہی تعلیمات ان کے ذہن و دماغ تک پہنچائیں۔ یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں نے با شعور ہو کر دین سیکھا تھا اور خدا پر ایمان لائے تھے وہ سخت ترین مصائب و آلام کے با وجود اسی راہ پر گامزن رہے۔ جناب یاسر، جناب سمیہ، جناب بلال حبشی، جناب سلمان، جناب ابوذر ، جناب مقداد ،جناب عمار جیسی نہ جانے کتنی شخصیات ہیں جنہوں نے اپنے علم و شعور کی روشنی میں دین خدا کو قبول کیا تو آخری سانسوں تک اسی کے پابند رہے۔

اسی طرح مولائے کائنات حضرت علیؑ ابن ابی طالب ؑکے دور میں جناب مالک اشتر، جناب کمیل، جناب میثم، جناب اویس قرنی، جناب عدی ابن حاتم جیسی شخصیات نے الٰہی رہبر کی حمایت فرمائی جب کہ لا شعور افراد کی نمایاں فرد ابو موسیٰ اشعری نے اپنی حماقت کا ثبوت فراہم کرتے ہوئے خدائی رہبر کے خلاف فیصلہ دیا جس کے نتیجہ میں حکومت و خلافت حضرت علی ؑجیسے معصوم ہادی کے بجائے حاکم شام کےمنحوس ہاتھوں میں پہنچ گئی۔

صلح امام حسن کے موقع پر بھی دونوں طرح کے افراد کی مثالیں پائی جاتی ہیں۔

با شعور افراد نے پیغمبر اسلامؐ کی صلح حدیبیہ کی طرح امام حسن ؑکی صلح کو بھی نصرت اسلام اور حفاظت دین و ایمان کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا جب کہ بےشعور افراد نے اس صلح کو مومنین کی ذلت و رسوائی قرار دیا یہاں تک کہ فرزند رسولؐ کو زخمی کردیاگیا۔

اور پھر واقعۂ کربلا میں شعور اور لا شعور کی فیصلہ کن لڑائی ہوئی۔ با شعور افراد کی قلت کے با وجود کربلا کی جنگ کی داستان اس طرح رقم ہوئی کہ چند افراد نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے قیامت تک کے لئے انسانی شعور و بصیرت کی لاج رکھ لی۔

پھر واقعۂ کربلا کے بعد کربلا کے اسیروں نے اپنی اسیری کو اس عظیم واقعہ کے تئیں شعور و بصیرت پیدا کرنے کا ذریعہ بنایا اور کوفہ و شام خاص طور پر شام میں جہاں حاکم شام کی طرف سے پیدا کی جانے والی غفلت اور لاشعوری نے وہاں کے اذہان کو مفلوج کرکے رکھ دیا تھا، اپنے خطبوں سے ایک انقلابی کیفیت پیدا کر دی اور اسراء کے قافلہ کے پہنچنے سے پہلے جو شامی جنگ کی فتح پر جشن منا رہے تھے کربلا کے ان اسیروں نے چند دنوں میں ان کے ذہنوں کو اس طرح بیدار کیا کہ وہ افراد سرکار سید الشہداؑء کے عزادار قرار پائے۔

اس کے بعد ہر دور میں با شعور افراد کے ذریعہ دین خدا کی حفاظت ہوتی رہی۔ شعور و لا شعور کا یہ ٹکراؤ ہی تھاکہ لاشعوری کی بنیادپرزمانےکےائمہ علیہم السلام کی صحیح معرفت حاصل کرنے اور ان کا اتباع کرنے کے بجائے انہیں اذیت و آزار کا نشانہ بنایا گیا۔ یہاں تک کہ امام عصر ؑکو حجاب غیبت میں جانا پڑا۔

اگرچہ امام عصرؑ کی یہ غیبت جہاں عوام الناس کی لاشعوری کا نتیجہ ہے وہیں کچھ با شعور افراد کے شعور پر بھروسہ کا اعلان بھی ہے جو دور غیبت میں ہدایت امت کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں۔

دور غیبت میں مرجعیت اور رہبری ہی وہ عظیم منصب ہدایت ہے جس نے تمام استعماری سازشوں کو ناکامی سے دو چار کیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسلام دشمن طاقتیں ہمیشہ اس بات کے لئے کوشاں رہتی ہیں کہ کسی طرح صاحبان ایمان سے شعور و بصیرت سلب کر لیا جائے۔

اسلام بلکہ انسانیت کے ابتدائی دشمن شیطان سے لے کر نمرود و فرعون اور پھر ابو لہب و ابوجہل ابو سفیان سے لیکر أج تک دشمنان اسلام تک سب کی یہی کوشش رہی ہےکہ أزادذہن رکھنے والے خدا پرستوں سے شعور و بصیرت کو چھین کر انھیں غفلتوں کے اندھیروں میں ڈھکیل دیا جائے۔

حاکم شام کے ذریعہ جمعہ کی نماز بدھ کوپڑھایاجانا اسی شعور و بصیرت کے فقدان کا امتحان تھا جس کے ذریعہ یزید جیسے اس فاسق و فاجر کی بیعت لی جا سکے جو فرزند رسولؐ کا خون بہانے سے بھی گریز نہ کرے۔

آج بھی دشمنان اسلام کااسلام کے خلاف سب سے بڑا حربہ یہی ہے کہ کسی طرح انسانی شعور و بصیرت کو ختم کر دیا جائے۔شراب نوشی، مدہوشی، لہو و لعب، فحاشی، عیاشی جیسی تمام چیزیں انسان کے شعور کو سلب کرنے کا ذریعہ ہیں جنہیں استعمال کرکے انسان سے اس کی انسانیت سلب کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

مشکل یہ ہے کہ یہ شیطانی حربے کبھی کبھی شکل بدل کر مقدس لباس میں انسانی شعور کو سلب کرنے کی تدبیر کرتے ہیں جیسے خود اسلام اور دینداری کے نام پر ایسے امور کاانجام دیاجانا جو شعور و بصیرت کے منافی ہوں جس کی مثال مندرجہ ذیل امور ہو سکتے ہیں۔

عبادت کا نشہ جو اس کے مقابلہ میں دوسرے فرائض سے غافل کر دے۔

مستحبات میں اتنا کھو جانا کہ فرائض بالائے طاق رکھ دئے جائیں۔

انسانی خدمات کی راہ میں الٰہی فرائض سے غفلت جیسے نماز ور وزہ ترک کرکے سماجی خدمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینایا کسی خاتون کا سماجی خدمات کے ساتھ اپنے حجاب اور فرائض کا خیال نہ رکھنا۔

عزائے امام حسین ؑکے نام پر خدا نخواستہ فرائض سے غفلت یا معاذ اللہ محرمات کا ارتکاب اور روکنے والے پر دشمن عزاء ہو نے کا الزام لگانا۔

شعر گوئی اور شعر خوانی میں خود اہل بیتؑ کے درمیان حفظ مراتب کا خیال نہ رکھ کر ایک کی فضیلت کےلئے دوسرےکی اہمیت کو کم کرنا۔ بے وجہ تشبیہات کے ذریعہ فضائل کے بجائے توہین کرنا۔ خطابت میں نکتہ سازی میں صرف عوامی جذبات پر توجہ کرکے حقائق سے انحراف کرنا۔آیات و روایات پر توجہ نہ کرنا یا ان سے منمانے مطالب نکالنا۔ دوسرے مذاہب سے لئے ہوئے رسم و رواج پر توجہ کرتے ہوئے اوہام و خرافات پر اس طرح توجہ کرنا جس سے مقدسات اسلامی کی توہین ہوتی ہو۔ائمہ معصومین ؑکی تعلیمات کو چھوڑ کر جھوٹے عملیات کو ان کی طرف منسوب کرکے انہیں مولائیت کا نام دینا۔ یہ ایسے امور ہیں جن کو دیکھ کر شعور و بصیرت کے فقدان کا اندازہ ہوتا ہے ورنہ مومن ائمہ معصومین ؑکی تعلیمات پر توجہ کرتا ہے۔ جس کے چند نمونے یہاں ذکر کیے جارہے ہیں۔

پیغمبر اسلامؐ بچپنے میں جب اپنی دایہ حلیمہ سعدیہ کے یہاں تھے ، ایک دن اپنے رضاعی بھائیوں کے ساتھ صحرا میں جانے کے لئے تیار ہوئے تو رضاعی ماں جناب حلیمہ نے ایک گنڈہ جیسی چیز ان کے گلے میں ڈال دی کہ کہیں جن اور دیو کا سایہ نہ ہو جائے۔ آپ نے اسے توڑ کر پھینک دیا اور فرمایا: میرا خدا! میرے ساتھ ہے۔

اسی طرح پیغمبر اسلام کے بیٹے جناب ابراہیم کی وفات کے موقع پر جب سورج گہن ہوا تو لوگوں نے یہ سوچا کہ شاید اس سورج گہن کا تعلق فرزند نبیؐ کی وفات سے ہے جس کی آپ نے سختی سے تردید فرمائی۔

مولائے کائنات نے جنگ صفین کے موقع پر جاتے ہوئے مصلیٰ بچھایا اور جنگ کے ہنگامی حالات کو الٰہی فریضہ کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔

خود میدان کربلا میں حالت جنگ میں وقت نماز امام کے اصحاب نے نماز جماعت ادا کی۔ایک مومن کے لئے ان مثالوں پر توجہ اسے دین شناس مومن بناتی ہےجس سےدنیاوآخرت دونوں سنورسکتی ہیں شعوروبصیرت کی راہ میں تعلیم سب سےپہلا زینہ ہے ۔تعلیم کے ساتھ تربیت اس لئے رکھی گئی ہے کہ تعلیم بھی اندھے کے ہاتھ کا چراغ نہ ہو جو صرف دوسروں کو جلانے کا عمل انجام دے۔

صحیح اسلامی تربیت کے بغیر تعلیم تعلیم نہیں ہوتی بلکہ انسانی شکل کو بدنام کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے اور بظاہر انسان دکھائی دینے والا حقیقت میں حیوان سےبدتر ہو جاتا ہے ،آج پوری دنیا میں جو قتل و غارت گری اور لوٹ مار کا بازار گرم ہے وہ جہالت بے تربیتی اور لاشعوری کی دین ہے ایک طرف ہمارا عیار دشمن ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھاکر ہمارے جذبات و احساسات کو بھڑکا رہا ہے تو دوسری طرف ہم بغیر سوچے سمجھے اس کی عیارانہ چالوں میں پھنستے چلے جارہے ہیں۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .