۱ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۱ شوال ۱۴۴۵ | Apr 20, 2024
انگریزی ترجمہ قرآن

حوزہ/ آستان قدس رضوی کے شعبہ بین الاقوامی امور کے تعاون سے ہندوستانی پروفیسر اور محقق نے اس قرآن کو جسے اس نے انگریزی میں ترجمہ کیا تھا، آستان قدس رضوی کو عطیہ کر دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،آستان قدس رضوی کے شعبہ بین الاقوامی امور کے تعاون سے ہندوستانی پروفیسر اور محقق نے اس قرآن کو جسے اس نے انگریزی میں ترجمہ کیا تھا، آستان قدس رضوی کو عطیہ کر دیا۔

آستان قدس رضوی کے شعبہ بین الاقوامی امور کے سربراہ نے اس سلسلے میں آستان نیوز کے نمائندہ کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس مترجم کا تعلق ہندوستان سے ہے جس نے گریجویشن لندن میں اور ادیان کے موضوع پر پی ایچ ڈی مصر کی یونیورسٹی الازہر میں کی ہے اور اس وقت ہندوستان میں زندگی بسر کر رہا ہے۔

حجت الاسلام و المسلمین فقیہ اسفند یاری نے مزید یہ بتایا کہ یہ ہندوستانی مترجم اہلسنت ہے جس نے تقریب المذاہب کی نگاہ کے ساتھ قرآن کا ترجمہ انجام دیا ہے۔

گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے اس قرآنی نسخہ کی خاص خصوصیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کے پروفیسر نے اپنے اس واحد قرآنی نسخہ کو آستان قدس رضوی کے لیے عطیہ کیا تاکہ اس قرآن کی آستان قدس رضوی کی جانب سے نشر و اشاعت کی جا سکے، اگرچہ پہلے بھی قرآن انگریزی میں ترجمہ کیا جا چکا ہے لیکن اس قرآن کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں ترجمہ کے ساتھ تفسیری نکات کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے اور اسی چیز نے اسے خاص بنایا ہے۔

حجت الاسلام فقیہ اسفند یاری نے اس مترجم کی تقریب المذاہب نگاہ کو اس قرآن کی ایک اور خصوصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک اہلسنت نے اپنی زندگی کے دس سال جس قرآن کا ترجمہ کرتے گزار دئے اس واحد نسخہ کو آستان قدس رضوی کو عطیہ کرنا قابل قدر ہے۔

انہوں نے کہا کہ انگریزی بولنے والوں کی جانب سے اس اقدام کا خیر مقدم کیا جائے گا اور ضروری تحقیقات کے بعد اسے پہلے مرحلے میں محدود تعداد میں اور بعد کے مراحل میں زیادہ تعداد میں شائع کیا جائے گا۔

آستان قدس رضوی کے شعبہ بین الاقوامی امور کے سربراہ نے قرآن کریم کی حالیہ توہین کا حوالہ دیتے ہوئے اس اقدام کو توہین کا جواب قرار دیا۔اسی طرح مختلف زبانوں میں قرآن کا ترجمہ کیا جانا اس لئے ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ اقوام اس انسان ساز کتاب سے بہرہ مند ہو سکیں۔ انہوں نے نیز اس اقدام کو اہلسنت کی امام رضا علیہ السلام سے محبت کی علامت قرار دیا.

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .