۱۰ خرداد ۱۴۰۳ |۲۲ ذیقعدهٔ ۱۴۴۵ | May 30, 2024
عید نوروز

حوزہ|نتیجۂ فکر: جناب عباس ثاقبؔ/نعت کے آثار آنکھوں کو نظر آئے تو ہیں/جبرئیلِ فکر نے پَر اپنے پھیلائے تو ہیں

حوزہ نیوز ایجنسی|

نتیجۂ فکر: جناب عباس ثاقبؔ

آپ (ص) کی گلیوں سے چُن کر روشنی لائے تو ہیں
[تازہ نعتِ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چند اشعار]

نعت کے آثار آنکھوں کو نظر آئے تو ہیں
جبرئیلِ فکر نے پَر اپنے پھیلائے تو ہیں

پھر سنائی دے ہمیں اک اور ”إِقْرَأْ“ کی صدا
قافلے غارِ حرا کے پاس ٹھہرائے تو ہیں

شہر کے لہجوں میں نرمی ایک دن آ جائے گی
آپؐ کی دہلیز سے کچھ لفظ منگوائے تو ہیں

شاید اِس بستی سے گزرے زائرِ شہرِ نبیؐ
احتیاطاً راستے پھولوں سے مہکائے تو ہیں

دل کے گلشن میں اُگیں گے عشقِ احمدؐ کے گلاب
ہم نے دورانِ دُعا کچھ ابر برسائے تو ہیں

حاجتِ سُرمہ نہیں اب دیدہ ٔ بے نور کو
آپؐ کی گلیوں سےچُن کر روشنی لائے تو ہیں

مل ہی جائے گا ہمیں اذنِ زیارت ایک دن
کچھ عریضے زائروں کے ہاتھ بھجوائے تو ہیں

منعکس کردار میں بھی ہو اثر اشعار کا
شاعرانِ مصطفیٰؐ ہم لوگ کہلائے تو ہیں

خوف کیا ہو دھوپ کا ثاقبؔ! کہ زادِ راہ میں
شہرِ یثرب کے در و دیوار کے سائے تو ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عباس ثاقبؔ

تبصرہ ارسال

You are replying to: .