۵ تیر ۱۴۰۳ |۱۸ ذیحجهٔ ۱۴۴۵ | Jun 25, 2024
افتتاحیه بیستمین دوره طرح ادیب حوزه علمیه اصفهان

حوزہ / حوزہ علمیہ اصفہان میں ثقافتی و تبلیغی امور کے سرپرست نے علماء کرام کے لباس کو شیعہ معاشرے کی ثقافتی علامتوں میں ایک قرار دیتے ہوئے کہا: یہ لباس تبلیغِ دین کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور آج کل علماء کا لباس ایک پرچم کی طرح شیعہ مذہب، شیعہ ثقافت کو فروغ دینے کا سبب بنتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ اصفہان میں ثقافتی و تبلیغی امور کے سرپرست حجت الاسلام والمسلمین سید حسین مومنی نے کہا: وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حق و باطل کے محاذ کی حد بندی ہو چکی ہے۔ جتنا ہم مسلمان ترقی کر رہے اور آگے بڑھ رہے ہیں، دشمنانِ اسلام کے میڈیا پر اسلام مخالف سرگرمیاں اتنی ہی تند و تیز ہوتی جا رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا: اس دوران عالم تشیع میں جو شعبہ سب سے زیادہ واضح ہوتا ہے وہ علماء کرام ہیں کیونکہ ہم علماء کا اپنا کہنا ہے کہ ہم سب سے پہلے خود دین کے احکامات پر عمل کرتے ہیں اور پھر اس کی تبلیغ کرتے ہیں۔

حجت الاسلام مومنی نے کہا: لوگ ہم سے ایک طالب علم کی حیثیت سے سب سے پہلے دینداری اور پھر دین کے مبلغ ہونے کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن اگر ہم پہلی شرط پر ہی پورا نہ اتریں تو ان کا ہماری نسبت ایمان و یقین کمزور ہو جائے گا اور اس طرح دین کو نقصان پہنچے گا۔

انہوں نے کہا: طلباء اور علماء کے اندر دینداری اور اخلاق کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ لوگ طلباء سے دینداری اور اخلاق کی توقع رکھتے ہیں لہذا طلباء دین کا پہلا قدم بھی دین اور اخلاق کی حفاظت ہونا چاہئے۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .