تحریر: مولانا سید کرامت حسین جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی I تاریخ انسانیت کے اوراق میں ایسے حکمران کم ہی ملتے ہیں جنہوں نے اپنی حکومت میں عدل و انصاف کو مذہب، نسل اور ذات پات سے بالاتر ہو کر نافذ کیا ہو۔ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام وہ منفرد شخصیت ہیں جنہوں نے اسلامی اصولوں کے مطابق حکمرانی کرتے ہوئے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان مساوی انصاف کا عملی نمونہ پیش کیا۔ آپ کے طرزِ حکمرانی میں عدل ایک بنیادی قدر تھی، اور یہی وجہ ہے کہ آپ کی حکومت میں ہر شہری کو اس کے حقوق دیے گئے، خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب یا قوم سے ہو۔
اسلامی نقطۂ نظر سے عدل و انصاف کی اہمیت
عدل اسلامی تعلیمات میں بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اللہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جو نہ تمہارے خلاف جنگ کرتے ہیں اور نہ ہی تمہیں تمہارے گھروں سے نکالتے ہیں۔ بے شک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔” (سورۃ الممتحنہ)
یہ آیت ایک عمومی اصول کو واضح کرتی ہے کہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ غیر مسلموں کے ساتھ بھی عدل و انصاف کریں، جب تک کہ وہ دشمنی یا جارحیت کا مظاہرہ نہ کریں۔ حضرت علی علیہ السلام نے اس قرآنی ہدایت کو اپنی حکومت میں نہایت خوبصورتی سے عملی شکل دی۔
حضرت علی علیہ السلام اور غیر مسلموں کے حقوق
حضرت علی علیہ السلام کی خلافت میں غیر مسلموں کو وہ تمام حقوق حاصل تھے جو ایک مسلمان شہری کو دیے جاتے تھے۔ آپ کے عدالتی اور حکومتی فیصلوں میں کبھی بھی مذہبی امتیاز نظر نہیں آتا۔ آپ نے ہمیشہ انصاف کو بنیادی حیثیت دی اور غیر مسلموں کے ساتھ رواداری اور مساوی سلوک کیا۔
بوڑھے غیر مسلم کے لیے بیت المال سے وظیفہ مقرر کرنا
ابن ابی الحدید اپنی مشہور تصنیف شرح نہج البلاغہ میں ایک واقعہ نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام نے ایک دن ایک غیر مسلم بوڑھے کو بھیک مانگتے ہوئے دیکھا۔ آپ نے فوراً ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:
“یہ کیا انصاف ہے کہ جب یہ شخص جوان تھا تو اس سے کام لیا گیا، اور جب یہ بوڑھا ہو گیا تو اسے بے سہارا چھوڑ دیا گیا؟ اس کا وظیفہ بیت المال سے مقرر کرو!”
(شرح نہج البلاغہ، جلد 17، صفحہ 41)
یہ ایک نہایت اہم مثال ہے، کیونکہ جدید دور میں جو فلاحی نظام اور پینشن اسکیم متعارف کرائی گئی ہیں، ان کی عملی بنیاد چودہ سو سال پہلے حضرت علی علیہ السلام نے رکھ دی تھی۔ یہ آپ کی حکمرانی کا ایسا پہلو ہے جو آج بھی قابلِ تقلید ہے۔
عدالتی انصاف: جب غیر مسلم کے حق میں فیصلہ دیا
حضرت علی علیہ السلام کے عدل کی سب سے نمایاں مثال وہ مقدمہ ہے جو ایک یہودی اور حضرت علی علیہ السلام کے درمیان پیش آیا۔
یہودی اور زرہ کا مقدمہ
ابن سعد اور مسعودی بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام کی زرہ کھو گئی تھی۔ کچھ دن بعد وہ ایک یہودی کے پاس دیکھی گئی۔ حضرت علی علیہ السلام نے یہودی کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔
قاضی شریح نے حضرت علی علیہ السلام سے پوچھا: “کیا آپ کے پاس کوئی گواہ ہے کہ یہ زرہ آپ کی ہے؟”
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ ان کے بیٹے حسن اور غلام قنبر اس کی گواہی دے سکتے ہیں، مگر قاضی نے کہا کہ بیٹے کی گواہی والد کے حق میں قبول نہیں کی جا سکتی۔ چونکہ حضرت علی علیہ السلام کے پاس دوسرا گواہ نہیں تھا، اس لیے قاضی نے فیصلہ یہودی کے حق میں دے دیا۔ یہ دیکھ کر یہودی حیران ہو گیا اور کہنے لگا:
“یہی وہ عدل ہے جو انبیاء کی تعلیمات میں پایا جاتا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ کا دین برحق ہے۔”
(طبقات ابن سعد، جلد 3، صفحہ 34)
یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے اپنے فیصلوں میں کبھی بھی مذہب یا حیثیت کو معیار نہیں بنایا، بلکہ ہمیشہ عدل کو فوقیت دی۔
جنگ کے دوران غیر مسلموں کے حقوق کا تحفظ
حضرت علی علیہ السلام نے کسی بھی غیر مسلم قوم کے خلاف جنگ میں پہل نہیں کی۔ اگر کوئی غیر مسلم اسلامی حکومت کے تحت رہنے کا معاہدہ کرتا، تو ان کے جان و مال کی مکمل حفاظت کی جاتی تھی۔
نجران کے عیسائیوں کے ساتھ معاہدہ
ابن کثیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام نے اہلِ نجران کے عیسائیوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا، جس میں درج تھا:
“نجران اور اس کے گرد و نواح کے تمام عیسائیوں کو مکمل تحفظ حاصل ہوگا۔ ان کے مذہبی مقامات محفوظ رہیں گے، نہ ان کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچایا جائے گا، نہ انہیں زبردستی مسلمان بنایا جائے گا اور نہ ہی ان پر کسی قسم کا ظلم کیا جائے گا۔”
(البدایہ والنہایہ، جلد 7، صفحہ 337)
یہ معاہدہ آج کے دور میں اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے اصولوں سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ حضرت علی علیہ السلام نے یہ ثابت کیا کہ ایک اسلامی حکومت میں غیر مسلم بھی مکمل تحفظ اور آزادی کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں۔
بین المذاہب مکالمہ اور علم و حکمت
حضرت علی علیہ السلام غیر مسلم علماء اور دانشوروں سے مکالمہ بھی کرتے تھے اور ہمیشہ حکمت و استدلال سے ان کے سوالات کے جوابات دیتے تھے۔ آپ کے طرزِ گفتگو میں منطق، استدلال اور علمیت پائی جاتی تھی، جس سے اکثر غیر مسلم متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیتے تھے۔
عیسائی عالم سے مکالمہ
ابن عساکر اپنی کتاب میں ایک واقعہ نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک عیسائی عالم نے حضرت علی علیہ السلام سے سوال کیا:
“آپ خدا کی وحدانیت پر کیا دلیل دیتے ہیں؟”
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:
“میں دیکھتا ہوں کہ ہر شے میں ایک ترتیب اور حکمت ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا خالق ایک ہے۔ اگر دو خدا ہوتے تو نظام میں بے ترتیبی اور اختلاف ہوتا، مگر پوری کائنات ایک ہی اصول کے تحت چل رہی ہے۔”
(تاریخ دمشق، جلد 42، صفحہ 457)
یہ جواب سن کر عیسائی عالم نے کہا:
“واقعی، آپ کے پاس علم کا خزانہ ہے، اور آپ کی حکمت کسی عام انسان کی نہیں ہو سکتی۔”
حضرت علی علیہ السلام کی شخصیت عدل و انصاف کا ایک ایسا روشن مینار ہے جو تمام مذاہب کے ماننے والوں کے لیے یکساں طور پر روشنی فراہم کرتا ہے۔ آپ کی خلافت ایک ایسی حکومت کی اعلیٰ مثال تھی جہاں مسلم اور غیر مسلم شہریوں کو برابر کے حقوق دیے گئے۔ آپ کے عدل و انصاف کے اصول آج کے ترقی یافتہ معاشروں کے لیے بھی رہنمائی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
حضرت علی علیہ السلام کی سیرت نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک عظیم نمونہ ہے۔ وہ صرف ایک مذہبی رہنما نہیں بلکہ ایک عظیم حکمران، قاضی، دانشور اور بین المذاہب ہم آہنگی کے داعی تھے۔ آج بھی اگر دنیا ان کے اصولوں کو اپنائے تو ایک عادلانہ اور پرامن معاشرہ قائم ہو سکتا ہے۔
حوالہ جات
1. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، جلد 17، صفحہ 41۔
2. ابن سعد، طبقات الکبریٰ، جلد 3، صفحہ 34۔
3. مسعودی، مروج الذہب، جلد 2، صفحہ 385۔
4. ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، جلد 7، صفحہ 337۔
5. ابن عساکر، تاریخ دمشق، جلد 42، صفحہ 457۔
آپ کا تبصرہ