تحریر: فدا حسین بالہامی
حوزہ نیوز ایجنسی | وہ علی علیہ السلام جس کی بہادری و شجاعت کے کارنامے سن کر آج بھی جبین باطل سے خجالت و شرمساری کا پسینہ ٹپکے، جسکی شجاعت کے آگے رستمان دہر کی زور آزمائی بازیچۂ اطفال دکھائی دے۔ جس کے قدموں کی آہٹ سے دل رزمگاہ دہل اٹھے۔ کوہ احد کا جلال وثبات جس کی ثابت قدمی کے سامنے ہیچ نظر آئے۔ وہ خیبر شکن جس نے ہزاروں انسانوں کے قلوب بھی مسخر کئے۔ جس نے بے لگام طاقت و قوت کو شجاعت کے زرّیں اصولوں سے آشنا کیا۔ جس کی تلوار دشمنان اسلام پر بجلی کی مانند کچھ اس انداز سے کوندھی کہ کفر و شرک کے خرمن خس و خاشاک کو خاکستر بناڈالا۔
مرحب و عنتر اور عمر ابن عبدود جیسے سورماؤں کو جس نے ریت پر بنی بے جان تصویروں کی مانند صفحہ ہستی سے مٹادیا بقول علامہ اقبالؒ ’’جسکے زورحق نواز سے قیصر و کسریٰ کے استبداد کاخاتمہ ہوا‘‘۔۔ِ پیغمبرِ صادق ؐ کے مطابق جس کی یوم ِ خندق کی ضربت جن و انس کی عبادت پر بھاری قرار پائی (مستدرک حاکم جلد ۳ صفحہ ۳۲)جس کے زور بازو کی بدولت دین اسلام نے اپنے سخت ترین مخالفوں کی ناک زمین پر رگڑ دی۔ جس کے سائے کی بھنک پاکر مغلوبیت اور ناکامی اپنا رُخ بدل دیتی تھی۔
ایسا غازی جسکے جلال کے آگے پیچھے فتح و ظفر ایک ادنیٰ باندی کی طرح دست بستہ کھڑی رہتی تھی… وہی شیرِ جبارؑ حیدر ِکرارؑ صاحب ِذوالفقار موت کی تمنا کرے، اپنے شجاعانہ کارناموں پر شہادت کو ترجیح دے۔ راہ خدا میں مرنے کو مارنے سے بالاتر سمجھے۔ شہادت کو باعث افتخار اور منزل مقصود سمجھے تو عقلِ نارسا انگشت بدنداںہوکر رہ جاتی ہے اور ناقص سوچ کے پیمانوں کو بروئے کار لاکر کچھ اس طرح کے خیال میں غرق ہو جاتی ہے کہ موت کی تمنا تو اسے کرنی چاہئے جو میدان جنگ سے مغلوب و مقہور ہوکر لوٹ آئے۔
آج تک کسی بھی کامیاب غازی نے مرنے کی تمنا نہیں کی ہے۔ فاتح سپہ سالار تو دوسرو ں کو مارتے مارتے یہ بھی بھلا دیتا ہے کہ ایک دن اُسے بھی موت کے گھاٹ اُترنا ہے۔ وہ بزعمِ خود اپنے آپ کو ماورائے موت سمجھنے لگتا ہے۔ یاالہٰی ! یہ کیسا پر اسرار مجاہد ہے۔ جس کی ’’تمنائے شہادت‘‘، ’’سمرہائے شجاعت‘‘ کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتی.؟
خلافتِ علوی (ع) کے مخالفوں کی فتنہ پردازیوں سے صرف نظر کرکے اگر صرف حضرت علی ع کے تصور حاکمیت، طرز حکومت، زرّیں اصول و قوانین لافانی منشور و ہدایات، اور حر کی بنیادوں (Dynamic Basis)پر نئے اداروں کی تشکیل وغیرہ پر طائرانہ نظر دوڑائی جائے تو محسوس ہوگاجیسے آپ ٰکو حکومت کرنے کے لئے نہایت ہی پُرسکون ماحول نصیب ہوا تھا۔
آپ کا تبصرہ