تحریر: ڈاکٹر پیام اعظمی
حوزہ نیوز ایجنسی I سورج ہماری زمین، ہمارا چاند اور کئی سیاروں پر مشتمل اپنے خاندان کے ساتھ افلاک کی لامحدود فضاؤں میں ، قدرت کے بنائے ہوئے نظام کے مطابق محو سفر ہے۔ سب کے راستے ، سب کی رفتار اور آپس کے درمیانی فاصلوں کا پورا حساب اور پورا نقشه احسب الحاسبین کا بنایا ہوا ہے۔ اسکے جلال و جبروت کی نگرانی اس نظام اور اس حساب میں بال برابر بھی فرق نہیں پیدا ہونے دیتی۔
اور سورج اپنے ٹھکانے کی طرف چلا جا رہا ہے، یہ عزیز علیم کا معین کیا ہوا حساب ہے۔ اور چاند، اسکے لئے بھی ہم نے منزلیں معین کر دی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ پھر پلٹ کے کھجور کی ٹہنیوں جیسا ہو جاتا ہے ۔ نہ آفتاب کے بس میں ہے کہ وہ چاند کو پکڑ لے اور نہ رات کے لئے ممکن ہے کہ وہ دن سے آگے بڑھ جائے ۔ سب اپنے اپنے فلک میں اپنے اپنے مدار پر تیر رہے ہیں۔ یس (۳۹-۴۰)
سورج اپنے ستاروں کے درمیان مرکزی حیثیت کا مالک ہے اس سے وابستہ ستارے اس کے گرد اپنے اپنے مدار پر ، اپنی اپنی رفتار سے چکر لگا رہے ہیں ۔ سب ایک ان دیکھے رشتے میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
ہماری زمین بھی ہر وقت سورج کے طواف میں مشغول ہے۔ سورج کے گرد زمین اپنا ایک چکر تین سو پینسٹھ (۳۶۵) دن اور چھ (۶) گھنٹے میں پورا کرتی ہے۔ اور اس طرح زمین سورج کے اطراف میں انیس (۱۹) کروڑ میل کا دائرہ بناتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ سورج کے گرد چکر لگاتے ہوئے اپنی جگہ لقو کی طرح رقص کرتی جاتی ہے۔
اپنی جگہ گھومنے میں زمین کی رفتار ہزار میل فی گھنٹہ ہے۔ اور یہ عمل ۲۴ گھنٹوں میں پورا ہو جاتا ہے یعنی زمین کی گولائی ۲۴ ہزار میل ہے۔
سورج کے گرد زمین کے سفر سے موسم یعنی سردی اور گرمی کے زمانے عالم وجود میں آتے ہیں اور دن کبھی چھوٹا کبھی بڑا ہو جاتا ہے۔ اپنی جگہ زمین کے گھومنے سے دن اور رات بنتے ہیں۔ یعنی زمین کا جو حصہ سورج کے سامنے ہوتا ہے وہاں دن ہوتا ہے اور جس حصے پر سورج کی روشنی نہیں پڑتی وہاں رات ہوتی ہے۔
چاند کو اللہ نے زمین سے وابستہ کر دیا ہے۔ وہ روز آفرینش سے زمین کا ساتھی اور خدمت گزار ہے بالکل اسی طرح جس طرح زمین سورج سے وابستہ ہے وہ ایک معتین فاصلے پر زمین کے گرد طواف کرتا رہتا ہے۔ چاند یہ طواف ساڑھے ۲۹ دن میں پورا کرتا ہے اور زمین سے دو لاکھ چالیس ہزار میل کے فاصلے پر اپنے طواف سے تقریباً پندرہ لاکھ میل کا دائرہ بناتا ہے اور اسکی رفتار تقریبا پچاس ہزار میل یومیہ ہے ۔ چاند زمین کے مقابلے میں بہت چھوٹا ہے جیسے زمین سورج کے مقابلے میں بہت چھوٹی ہے۔ چاند میں بھی زمین کی طرح کوئی روشنی نہیں ہے۔ وہ سورج کی روشنی کی وجہ سے چمکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ یعنی سورج کی روشنی کے انعکاس کی وجہ سے ہم اسے چمکتا ہوا دیکھتے ہیں اور اسکے جتنے حصے سے روشنی کا انعکاس زمین کی طرف ہوتا ہے اتنا حصہ اہل زمین کو چمکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
سورج کے گرد زمین کے طواف میں چاند زمین کا ساتھ نہیں چھوڑتا مگر ساتھ ہی ساتھ زمین کے گرد اپنا ذاتی سفر جاری رکھتا ہے۔ اسکے راستے میں نہ کہیں عقرب ہے نہ میزان " قمر در عقرب کا اس کا ئناتی نظام سے کوئی تعلق نہیں۔
زمین اپنی جگہ جو چکر ۲۴ گھنٹوں میں پورا کرتی ہے اسمیں چاند زمین کا ساتھ نہیں دیتا مگر اپنے سفر میں مشغول رہتا ہے۔ اور زمین کے اپنی جگہ گھومنے کی وجہ سے ڈوبتا اور نکلتا ہوا دکھائی دیتا ہے جیسے سورج ڈوبتا اور لکھتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
چاند کے گولے کا نصف حصہ ہر وقت سورج کے سامنے رہتا ہے مگر وہ روشن حصہ ہر وقت زمین کے سامنے نہیں ہوتا ۔ صرف مہینہ کی چودھویں شب کو چاند کا پورا روشن حصہ زمین کی طرف ہوتا ہے اور پورا چاند چہکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ زمین پر جہاں جہاں رات ہوتی ہوتی جائے گی پورا چاند دکھائی دیتا جائیگا۔ مگر چاند مسلسل گردش کی وجہ سے اپنا زاویہ بدلتا رہتا ہے اس لئے پندرہویں شب میں اسکا روشن حصہ ایک پیکی قاش کے برابر زمین کی نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا ہے اور اتنا ہی بڑا تاریک حصہ نگاہوں کے سامنے آ جاتا ہے۔ یہ کٹاؤ روزانہ اللہ کے معین کئے ہوئے حساب کے مطابق بڑھتا ہوا دکھائی دیتا ہے یعنی چاند کا روشن رخ زمین کی نگاہوں سے اوجھل ہوتا رہتا ہے۔ اور آخر میں صبح کو مشرق میں چاند کے روشن حصے کا ایک پتلا سا کنارہ دکھائی دیتا ہے۔ پھر ۳۶ گھنٹہ تک چاند کا روشن رخ بالکل زمین کے مخالف ہونے کی وجہ سے بالکل نہیں دکھائی دیتا۔ اور ایسا لگتا ہے کہ چاند افق سے غائب ہو گیا ہے۔ اس وقفہ میں چاند دنیا کے کسی حصے میں نہیں دکھائی دے سکتا اس وقفہ کو ہماری شرعی اصطلاح میں محاق یا تحت الشعاع کہتے ہیں۔ ہندوستان میں اسے اماوس کہا جاتا ہے ۔ ۳۶ گھنٹے گزرنے کے بعد چاند کے روشن رخ کا ایک پتلا کنارہ پھر زمین کے سامنے آ جاتا ہے۔ زمین کے جس حصے میں اس وقت شام ہوتی ہے وہاں کے لوگ اسے دیکھ سکتے ہیں۔ اس کو ہلالِ شب اول کہتے ہیں۔ شعراء اسے سونے کی کشتی اور معشوقہ کے کئے ناخن سے تشبیہ دیتے آئے ہیں۔ پھر یہی ہلال شب اول بڑھتے بڑھتے بدر کامل بن جاتا ہے پھر دکھائی دینے کی مقدار گھٹتے گھٹتے محاق پھر رویت ۔ ساڑھے ۲۹ دن کا یہ چکر روز آفرینش سے چل رہا ہے اور اس وقت تک چلتار ہیگا جب تک کہ فیصلہ الہی آسمان کو پیٹ کے چاند پھاڑ کے زمین کو روٹی کی طرح دھنک نہیں دیگا۔
یہ ہے رویت ہلال کا تکوینی مفہوم چاند، انسانوں کی چلائی ہوئی کوئی ٹرین نہیں جسکے لئے نہیں کہا جاسکتا کہ کب اپنے وقت سے پہلے پلیٹ فارم پر پہنچ جائیگی اور کب دو چار گھنٹے لیٹ ہو جائے گی ۔ نہ وہ کسی فقہی اسکول کا مقلد ہے نہ کہ فتوؤں کا انتظار کریگا۔ ایک رویت کے ساڑھے ۲۹ دن کے بعد حتما دوسرے مہینے کی رویت ہو جائے گی نہ ایک لمحہ کم ہو سکتا ہے نہ زیادہ۔ اسلئے ہمارے قمری مہینے کبھی ۲۹ دن کے ہوتے ہیں کبھی ۳۰ دن کے یعنی رویت کے بعد کے ۱۲ گھنٹے چاند کے کسی دورانیئے سے نکل کے دوسرے دورانیے میں جو جاتے ہیں جس سے نکلتے ہیں وہ ۲۹ دن کا شمار ہوتا ہے اور جس میں مجھتے ہیں وہ ۳۰ دن کا شمار ہوتا ہے۔
اگر انسان چاہے تو اپنے کمرے میں بیٹھ کے حساب کے ذریعے معلوم کر سکتا ہے کہ رویت کسی خطہ زمین کے افق پر ہوگی اور اسوقت دن یا رات کے کتنے بج کر کتنے منٹ اور کتنے سکنڈ ہوں گے۔ اور اسی طرح کسی ایک مہینے کی رویت نہیں بلکہ آنے والے ہزاروں اور لاکھوں مہینوں کی رویت کا وقت اور جگہ معلوم کر سکتا ہے ۔ بلکہ علوم فلکیات کے شعبے اسکا اعلان بھی کرتے رہتے ہیں بالکل اسی طرح جس طرح ہم آسانی سے بتا سکتے ہیں کہ اگلے سال جنوری کی پہلی تاریخ کو لکھنو میں نماز صبح کا وقت کیا ہوگا اور زوال کا وقت کیا ؟ اب کوئی نہ شاخس نصب کر کے زوال کا پتہ لگا تا ہے نہ نماز صبح پڑھنے کے لئے افق مشرق میں سیاہ وسفید ڈورے تلاش کرتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ اسکا قطعی حساب لگایا جا چکا ہے اب ہر مسلمان گھڑی دیکھ کے نماز پڑھ لیتا ہے۔
لیکن رویت کا فقہی مفہوم کیا ہے؟ ہم یہ طے کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے یہ کام مراجع کرام کا ہے۔ ہم مقلد ہیں ہماری ذمہ داری ہے کہ بے چوں چرا انکے فتوؤں پر عمل کریں ہمارے نزدیک قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا لا قانونیت ہے اور شریعت سے بغاوت ہے حالانکہ اس شہادت کہ الفت میں جب لگا تار دو۔ دو اور تین۔ تین عیدیں ہوتی ہیں، یا جب ۴ بجے دن میں کوئی عالم دین اعلان کرتا ہے کہ آج عید کا دن تھا روزہ توڑ دیجئے نماز عید کل پڑھئے گا۔ یا جب باپ عید مناتا ہے اور بیٹا روزے سے ہوتا ہے تو قوم خود قوم کی نظر میں کارٹون بن جاتی ہے۔
اور ہمیں قرآن کے اس اعلان کو سمجھنے میں الجھن ہوتی ہے۔
اے نبی لوگ تم سے چاند کی گھٹتی بڑھتی صورتوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ کہو کہ یہ لوگوں کے لئے تاریخوں کے تعیین اور حج کی علامتیں ہیں ۔ (بقره (۱۸۹)
اور سمجھ میں نہیں آتا کہ نماز عید کے قنوت میں
هذ اليوم الذي جَعَلْتَهُ لِلمُسلِمينَ عيدا ( آن کا ان لو نے تمام دنیا کے مسلمانوں کے لئے عید قرار دیا ہے ) عید کا وہ ایک
دن کہاں ہے ؟
ہم علامہ اقبال کی طرح " آہ محکومی تقلید وزوال تحقیق " کہنے کی جسارت تو نہیں کر سکتے مگر ہر سال عید کے دن جس مضحکہ انگیز صورت حال سے گزرنا پڑتا ہے اسکی فریاد ضرور کرتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ