۴ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۴ شوال ۱۴۴۵ | Apr 23, 2024
مولانا تقی آغا عابدی

حوزہ/ تمام آثار ہستی کی وجہ سے ہیں ہستی سے ہی سب ہے ہستی سے باہر جائیں تو عدم ہے جو درحقیقت کچھ نہیں ہے۔اس کائنات میں کوئی عدم ایسا نہیں ہے کہ جس کا کوئی نتیجہ ہو۔ ہستی ہی ہے جو نتیجہ لاتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ریوائیول احیاء درس علماء کا آن لائن درس اور عوام کے لائیو سوال و جواب میں مدرس جناب مولانا تقی آغا عابدی شرکت کرتے ہوئے کہا کہ ہماری گفتگو معرفت نفس کے عنوان سے جاری تھی جیسا کہ ایک شاعر نے کہا ہے کہ؛

لمحہ لمحہ منکشف ہوتا ہوا جیسا کے تو

محوِ حیرت آئینہ در آئینہ جیسا کہ میں

اس شعر کی روشنی میں حضرت آیۃ اللہ حسن زادہ آملی فرماتے ہیں کہ میں آئینے کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہوں اور آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود اپنے ہی بارے میں غور و فکر کرنے لگتا ہوں!

میں کون ہوں؟ اور اپنے آپ سے سوال کرتا ہوں کہ تو کہاں سے آیا ہے؟ اور کہاں جانے والا ہے؟ یہ تیرا دیکھنا کس طرح سے ہے یہ جو تیری آنکھ ہے اس سے تو کیسے دیکھتا ہے؟ یہ پیر ہے یہ سر ہے یہ گردن اور یہ زبان ہے اور یہ دہن یہ دندان۔ میں اپنے ہی دہن پر جب غور کرتا ہوں اس میں جو سامنے والے جو دانت تیز اور پیچھے والے دانت ایسے ہیں جیسے چکی کے پاٹ ہیں جس سے پیسا جاتا ہے اور میں اپنے آپ سے سوال کرتا ہوں کہ یہ دہن کا جو پانی ہے وہ شیریں ہے میٹھا ہے میرے دہن کا جو پانی ہے وہ میٹھا ہے، جبکہ میری آنکھ کا جو پانی ہے وہ کھارا ہے یہ آنکھ کا جو پانی ہے خوشی کے موقع پر ڈھنڈا ہوتا ہے اور غم کے موقع پر یہی پانی جب آنسو بن جاتا ہے تو گرم ہو جاتا ہے یہ جس طرح سے ایک ہی آنکھ سے نکلنے والا پانی کبھی سرد ہوتا ہے کبھی گرم ہوتا ہے یہی پانی جب دہن سے نکلتا ہے تو میٹھا ہوتا ہے اور جب آنکھ سے نکلتا ہے تو کھارا ہوتا ہے۔

مولانا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسی طرح یہ تمام کائنات ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے جیسے کہ ہمارا جسم جس میں دانت بھی ہیں بال بھی لیکن یہ ایک وجود ہے۔مثلاً اگر ہم کائنات کو ہوا سے الگ کر دیں تو کائنات میں کوئی حیات باقی نہیں رہے گی اور اگر ستارے نہ ہوں چاند نہ ہو تو نظام زندگی رک نہیں جاۓ گا اور یہ جو تمام نظام ہے سب کا ایک دوسرے پر اثر نہیں پڑتا۔ سورج کا اثر زمین پر نہیں پڑ رہا اور سورج کے بغیر کیا چاند کا وجود ممکن ہے یہ کائنات کی کڑیاں ہیں جو ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی ایک کڑی کو اگر ہلایا جائے تو پوری کائنات متأثر ہوتی ہے کوئی چیز عبث نہیں ہے کوئی چیز غیر ضروری نہیں ہے۔

مولانا تقی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ تمام درختوں کے اگنے کا بنیادی اصول ایک ہی ہے، لیکن پھل کوئی میٹھا ہے تو کوئی کڑوا حتی کہ ایک ہی درخت کا پھل ہے ہر پھل کا ذائقہ مختلف ہے،پھر کوئی تو چیز ہے جو یہ کڑواہٹ پیدا کر رہی ہے یا مٹھاس پیدا کر رہی ہے؟

تمام آثار ہستی کی وجہ سے ہیں ہستی سے ہی سب ہے ہستی سے باہر جائیں تو عدم ہے جو درحقیقت کچھ نہیں ہے۔اس کائنات میں کوئی عدم ایسا نہیں ہے کہ جس کا کوئی نتیجہ ہو۔ ہستی ہی ہے جو نتیجہ لاتی ہے۔

مولانا تقی آغا عابدی نے درس کے دوران دنیا بھر سے شرکت کرنے والوں کے سوالات کے جوابات انتہائی احسن انداز میں دیئے اور آخر میں دعا کروائی۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .