۷ بهمن ۱۴۰۱ |۵ رجب ۱۴۴۴ | Jan 27, 2023
ڈاکٹر صابر ابو مریم انٹرویو

حوزہ/ فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم کے ساتھ "مسئلۂ فلسطین اور اس کا راہِ حل" کے حوالے سے حوزہ نیوز ایجنسی نے خصوصی گفتگو کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم نے "مسئلۂ فلسطین اور اس کا راہِ حل" کے حوالے سے حوزہ نیوز ایجنسی کو خصوصی انٹرویو دیا ہے۔ جسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے:

حوزہ نیوز: سب سے پہلے قارئین کی خدمت میں مسئلہ فلسطین کی اہمیت کو بیان کریں۔

ڈاکٹر صابر ابو مریم: فلسطین ایک ایسا خطہ ہے یا ایک ایسا مقام ہے جو تین حوالوں سے ہمارے نزدیک اہمیت کا حامل ہے؛ پہلی بات یہ ہے کہ بطور انسان اگر ہم حالیہ فلسطین کو ہی دیکھیں تو یہ عرصہ 74 سال سے قبضے میں ہے۔ صہیونی ریاست اسرائیل وہاں پر قائم ہے، مخصوصا اس خطہ میں ظلم و ستم کا دور دورہ ہے۔

فلسطین؛ فلسطینیوں کا وطن ہے / برصغیر کے مسلمان فلسطینیوں کے ساتھ انجام دئے جا رہے ظلم اور خیانت پر کبھی خاموش نہیں بیٹھیں گے

بطور انسان ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس کی اہمیت اس لئے بھی زیادہ ہے کہ وہاں پر جو لوگ ہیں وہ بالآخر انسان ہیں اور ان پر جو ظلم ڈھایا جارہا ہے، ان پر جو گذشتہ 74 سال سےظلم و غارت کی جا رہی ہے بلکہ اس سے بھی پیچھے چلے جائیں سو سالوں سے ان کے ساتھ یہ ظلم ہورہا ہے یعنی صہیونیوں نے جو کچھ ان کے ساتھ کیا ہے، پوری تاریخ ہمارے سامنے موجود ہے جو صہیونی ہولوکاسٹ کے نام پر اپنے لئے جھوٹ کا پروپیگنڈا کرتے تھے وہ انہوں نے کچھ وہاں پر فلسطینی انسانوں کے خلاف کرکے ثابت کردیا ہے۔ پس بطور انسان یہ ہماری ذمہ داری ہے اور اس کی اہمیت ہے کہ ہم ان انسانوں کی کہ جو بے دست و پا ہیں، جو تنہا ہیں اور نہتے ہیں ان کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے ہمارا دل اس پر تکلیف میں ہونا چاہئے۔ اگر ہم انسان ہیں اور انسانیت کا درد رکھتے ہیں تو بطور انسان ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم انسانیت کی بقا کیلئے، انسانیت کی خاطر ہم ان کے درد کو محسوس کریں اور ان کیلئے آواز اٹھائیں اور آنے والی نئی نسلوں کو بتائیں کہ یہ ماجرا کیا ہے۔

دنیا کے جتنے بھی مظلوم ہیں ان کا ہمیں ساتھ دینا ہے اور ظالموں کے خلاف جدوجہد کرنی ہے !

دوسری بات: انسان ہونے سے ہٹ کر ہم مسلمان بھی ہیں۔ ہم پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں سے ہیں اور پیغمبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جو متعدد احادیث ہیں اور ان کا خود کا عمل بھی ہے وہ بھی ہمیں یہ بتاتا ہے کہ دنیا کے جتنے بھی مظلوم ہیں ان کا ہمیں ساتھ دینا ہے اور ظالموں کے خلاف جدوجہد کرنی ہے۔ تو اس فارمولے کو بھی اگر دیکھیں گے تو ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ آپ بلکہ آپ سے پہلے جتنے بھی انبیا تشریف لائے ہیں سب نے انسانیت کیلئے اور مظلوموں کا ساتھ دینے کیلئے کام کیا ہے تاکہ ظالم کے ظلم کو روکا جائے اور جو ان کےظالمانہ اقدامات ہیں ان کو ختم کیا جائے، ان کے خلاف کام کیا جائے ۔ ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بھی یہی تعلیمات رہی ہیں کہ آپ مظلوموں کا ساتھ دیں اور ظالم کے دشمن بنیں اور مظلوم چاہے دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو، چاہے فلسطین کے اندر ہو وہ یمن میں ہو، وہ کشمیر میں ہو وہ لبنان میں ہو، شام میں ہو یا کسی بھی جگہ پر ، جہاں بھی دنیا بھر میں ہو مظلوموں کا ساتھ دینا اور ظالم کے خلاف آواز اٹھانا یہ بطور مسلمان ہمارا فرض ہے اور یہی فلسطین کی اہمیت بھی ہمیں بتاتی ہے کہ دنیا میں شاید ہی کوئی خطہ اس وقت ایسا ہے جہاں پر فلسطین سے زیادہ ظلم ہو۔

تو جب فلسطینی اس ظلم کا شکار ہیں اور ہم بطور مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ وہاں پر ہمارے مقدسات ہیں، شبِ معراج کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد الحرام سے مسجد الاقصی تشریف لے گئے۔ ان کی واضح آیات موجود ہیں اور وہاں پر آپ نے انبیاء کرام کی امامت فرمائی اور اس کے بعد جو آیاتِ خدا جب دکھانے کا جو سفر کیا تو یہ وہ چیزیں ہیں جو ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ فلسطین کی اہمیت کو درک کریں، محسوس کریں اور ہم بطور مسلمان اب ہماری کیا ذمہ داری بنتی ہے اور ہم کیوں فلسطین کی خاطر بات کریں اس کا ایک زاویہ اور بھی ہے۔وہاں پر جتنے بھی مقدس مقامات ہیں، مسیحی مقدسات ہیں، حضرت موسی علیہ السلام سے متعلق مقدسات ہیں اور اسی طرح مسلمانوں سے متعلق مقدسات ہیں۔ ہم بطور مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ ہم سب انبیا پر ایمان رکھتے ہیں حضرت آدم سے سے لے کر حضرت ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک۔ جتنے بھی انبیاء ہیں وہ ہمارے لئے مقدس ہیں۔ ہم یہ نہیں کرسکتے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقدسات کو مانیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے منسوب مقدسات کو نہ مانیں۔ اسی طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ ہم ہی اس کے اصل وارث ہیں اور یہیں ایک اور بات بھی کرتا چلوں کہ یہی وہ وجہ ہے کہ عالمی صہیونیزم نے اسی وجہ کو دیکحتے ہوئے کہ چونکہ مسلمان سب کا احترام کرتے ہیں، یہ مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے تو انہوں نے ایک نئی سازش کی ہے جو آپ کے سامنے جدید دنیا کے اندر داعش اور دیگر شکلوں کے اندر سامنے آئی۔ جس نے مقدس مقامات کو تباہ کرنا شروع کیا، مقامات مقدسہ کو نشانہ بنایا۔ اولیاء کرام اہل بیت علیہم السلام کے مزارات کو تہس نہس کیا اور شہید کیا، چرچ کہ جو مسیحیوں کے مقدس مقامات تھے، تاریخی مقامات تھے انہوں نے ان کو بھی برباد کیا۔ صرف یہ دکھانے کیلئے کہ یہ اسلام کے نام پر، داعش کے نام پر یہ سارے مقدسات کے خلاف ہیں لہذا اسلام کا نام نہیں ہونا چاہئے بلکہ یہودیوں کا ہونا چاہئے۔

ایک سازش یہ بھی ہے کہ بطور مسلمان، بطور انسان اور تیسرا میرے لئے فلسطین کی اہمیت ہے وہ بطور پاکستانی ہے۔ ہم پاکستانی ہیں، قائد اعظم محمد علی جناح ہمارے فاونڈر ہیں، پاکستان کو انہوں نے بنایا اور علامہ اقبال اور دیگر ہمارے بانیان۔ ہمیں ان کی تاریخ سے ملتا ہے۔ ہمارے ان بانیان نے جب برصغیر کی تقسیم ہورہی تھی ایک طرف ہند آزاد ہورہا تھا اور دوسرے طرف پاکستان ہورہا تھا تو اس زمانے میں بھی ہمارے ان بزرگوں نے جو فلسطین کے خلاف سازش مغربی ایشیا کے اندر ہورہی تھی تو یہاں جنوبی ایشیا میں قائد اعظم ان سے آگاہ تھے، واقف تھے اور اس کی مذمت کررہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے کہ یہودیوں کی اس مقام کی طرف ہجرت کروانے کی جو کوشش ہے یہ ناجائز ہے ہم اس پر احتجاج کریں گے۔ قائد اعظم (رہ) نے اس کو واضح کرکے کہا کہ برطانیہ کو اس اقدام سے پیچھے ہٹنا چاہئے، ہم اس پر خاموش نہیں بیٹھیں گے اور یہ ان کا تاریخی جملہ تاریخ میں ثبت ہے کہ "برصغیر کے مسلمان اس ظلم اور خیانت پر جو فلسطینیوں کے ساتھ انجام دی جا رہی ہے خاموش نہیں بیٹھیں گے"۔

اور یہ کئی شہروں حتی ہندوستان میں قائداعظم نے ہڑتال کی کال کی۔ آل انڈیا مسلم لیگ کے جلسوں میں کئی مرتبہ ہڑتالیں ہوئی ہیں اور جیسے ہم روز قدس مناتے ہیں اسی طرح روز فلسطین وہاں پر منایا گیا اور ایک تاریخی چیز جو واقع ہوئی وہ 23 مارچ 1940ء کو میں ارِ پاکستان لاہور میں جو قرار داد پاکستان ہوئی تھی اس دن محمد علی جناح نے اس اجلاس میں قرار داد پاکستان کے ساتھ قرار داد فلسطین بھی پیش کی۔ یہ تاریخی واقعات ہیں جو ہمیں بطور پاکستانی اس بات پر باؤنڈ رکھتے ہیں کہ ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اپنے آباؤاجداد، اپنے قائدین، اپنے بانیوں کی فکر و نظریات اور ان کے افکار کو زندہ رکھیں اور اس کو نئی نسلوں تک منتقل کریں۔ یہ ہمارا افتخار ہے، یہ ہمارے لئے باعث عزت ہے، باعث شرف ہے۔ بطور پاکستانی یہ تین وجوہات ہیں جو مسئلہ فلسطین کو خاص طور پر موجودہ حالات میں ہمیں یہ کہتی ہیں کہ ہم اس کی طرف حرکت کریں اور اس کیلئے آواز اٹھائیں اور جو کچھ وہاں مسلمانوں کے خلاف ہورہا ہے اس کے خلاف کھڑے ہوجائیں بطور انسان بطور مسلمان اور بطور پاکستانی۔

حوزہ نیوز: فلسطین کی جغرافیائی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے بتائیں رژیم صیہونستی نے فلسطین کو ہی کیوں نشانہ بنایا ہے؟

ڈاکٹر صابر ابو مریم: فلسطین کی اپنی جیوگرافی طور پر ایک پوزیشن ہے۔ ایک سوئس کانال ہے کہ جو ایشیا کے اندر آنے کا ایک سمندری بہت ہی شارٹ راستہ ہے۔ جو لوگ سمندری راستوں سے جانتے ہیں وہ اس کو بخوبی دقت سے سمجھ سکتے ہیں کہ جب یورپ سے کوئی جہاز چلےتو اس کو ایشیا میں داخل ہونے کیلئے یا تو یمن میں سے بندر سے آنا پڑتا ہے۔ جو ہماری سوئس کانال ہے ہاں سے اس کو داخلہ ہوتا ہے۔ سوئس کانال ایک ایسا سمندر ہے کہ جسے آسان لفظوں میں یوں سمجھ لیں کہ یہ ایک ایسا شارٹ راستہ ہے کہ ایک بڑے جہاز کو جو یورپ سے ایشائی منڈی میں آرہا ہوتا ہے تو اس کو آنے کیلئے 20 دن کا راستہ درکار ہے حالانکہ یہی راستہ اس کو سوئس کانال سے پانچ دن کا رہ جاتا ہے۔ تو یہ ایک دنیا کی معیشت سے وابستہ معاملہ ہے کہ اگر ایک جہاز بیس دن کا چکر کاٹ رہا ہے اور پانچ روپے کی چیز پچاس روپے تک جاسکتی ہے یا اگر پانچ دن میں چیز سپلائی ہوتی ہے تو وہ اپنی اصل قیمت میں آسکتی ہے تو اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ (یہودیوں نے) من گھڑت تاریخ کے ذریعہ اور ایک اپنا مذہبی ایک بنایا ہے کہ "یہ ایک ہماری ارضِ موعود ہے"۔ یہ بھی ایک جھوٹ پر مبنی ہے آپ دیکھیں قرآن مجید کے اندر حضرت موسی علیہ السلام کے قصے موجود ہیں۔ خدا نے جو بھی اس تاریخ کو قرآن میں بیان کیا ہے اس میں دیکھ رہے ہیں کہ یہ وہ قوم ہے کہ جو خود سے حضرت موسی علیہ السلام فرعون سے بچا کر یہاں لائے تھے، ان سے کہا گیا کہ سامنے والے قبیلے سے جنگ لڑو تو انہوں نے نافرمانی کی۔ انہوں نے موسی علیہ السلام سے کہا تم اور تمہارا خدا لڑیں ہمارا کوئی کام نہیں ہے یہ مزید ناشکری کرتے رہے ۔ کہتے رہے "ہمارے پاس فلاں چیز نہیں ہے، فلاں چیز نہیں ہے"۔ مطلب ایک بدبخت لوگ تھے۔ خدا نے ان کو آسمان سے کھانے دئیے۔ سب کچھ کیا لیکن یہ پھر بھی ناراض تھے اورخود زمین کو چھوڑ کر گئے۔

فلسطین؛ فلسطینیوں کا وطن ہے / برصغیر کے مسلمان فلسطینیوں کے ساتھ انجام دئے جا رہے ظلم اور خیانت پر کبھی خاموش نہیں بیٹھیں گے

یہ بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ان کو کسی نے (اس زمین سے) نکالا نہیں ہے۔ ان کو آپ نے مسلمانوں نے یا کسی دوسرے نے ادھر سے نکالا نہیں ہے ان کو پیغمبر لے کر آئے تھے موسی علیہ السلام۔ یہ خود بھاگ گئے تھے پھر ان کو لایا گیا اور یہ پھر چھوڑ گئے، خود چلے گئے۔ کسی نے انہیں کہا نہیں کہ تم نکلو یہاں سے، یہ خود چھوڑ کر بھاگ جاتے تھے۔

یہاں ان کے بہانے ہوتے تھے۔ تو اب یہ کہتے ہیں یہ ارض موعود ہے۔ تو ارض موعود تو تب ہوگی جب کوئی انہیں نکال دیتا ہے، کوئی قتل کرتا ہے وغیرہ تو پھر آپ کہتے کہ "یہ ہماری ارض موعود ہے"۔ خود دوسرے ملکوں میں چلے گئے اور دوسرے ملک کو اپنی زمین بنایا۔ آپ یورپ چلے گئے، سپین چلے گئے۔ آپ کا قتلِ عام سپین ہوا، آپ کا قتل جرمنی میں ہوا، یورپ میں ہوا۔ تو یہ ایک اس بنیاد پر انہوں نے اس زمین کا رخ کیا اور برطانوی استعمار جو اس زمانے میں جس کا ایک طرف ویسٹ ایشیا کے اندر سلسلہ تھا۔ تو جب انہوں نے دیکھا کہ ساؤتھ ایشیا کے اندر کمپنی ٹوٹ رہی ہے، ہندوستان بھی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے، پاکستانی بھی ایک پاکستان چاہتے ہیں، مسلمان چاہتے ہیں وہاں پر ان کی حکومت ختم ہوگئی۔ اسی طرح ویسٹ ایشیا میں یہاں بھی ان کے ہاتھ سے بہت ساری چیزیں نکل رہی تھیں۔ تو انہوں نے ایک ریاست بنائی ایک خود ان کا نظریہ کو کیچ کیا۔ تو انہوں نے بنیاد رکھی تھی کہ ہماری ارض موعود ہے اور صہیونیوں نے اس کیلئے وہ کام کیا۔ ایک لمبی تاریخ ہے کہ کس طرح برٹش نے اس سے فائدہ اٹھایا۔

برٹش نے اپنے فائدے کیلئے اس کو بٹھایا کہ کس طرح کنٹرول ہوگی۔ معیشت کا روال ہمارے ہاتھ میں ہوگا۔ اس پورے ویسٹ ایشیا کے جتنے مسائل، جتنی چیزیں ہیں اس کو ہم کنٹرول کریں گے۔ بے شک براہ راست ہم نہیں ہوں گے لیکن بالواسطہ ہم ہی ہوں گے۔ یہ وہی ہیں یہ ابھی تک برٹش کمپنی کی جنگ ہے ابھی تک وہی چل رہی ہے۔ پہلے براہ راست خود ہی بیٹھ کر کام کرتے تھے اب بالواسطہ کام کرتے ہیں، بطور داعش کرتے ہیں، بطور القاعدہ کرتے ہیں اور بہت ساری چیزوں کیلئے وہ اسی کو چلاتے ہیں۔

تیسری اہم بات ویسٹ ایشیا کے اندر سو سو بڑے تیل کے ذخائر ہیں، معدنیات کے ذخائر ہیں، یہ بھی ان کی بہت نہ صرف یہ کہ تجارتی راستوں کو کنٹرول کرنا تھا بلکہ خطے کے جو ذخائر تھے ان پر بھی قابض ہونے کیلئے ان کو ایک ایسی چیز چاہئے تھی کہ جب وہ نکل رہے تھے تو ان کیلئے کوئی ایسا ہو جو ان کے لئے کام کرے۔

صہیونی مارے مارے پھرتے تھے کہ ہمارے لئے ریاست ہونی چاہئے، یہودی ریاست ہونی چاہئے۔ تو یہ برطانوی مل جل بیٹھے اور پھر کمیشن بنایا گیا اور مخلتف چیزیں تاریخ میں موجود ہیں اور بالآخر 1948ء میں اس جلسوں میں وہاں پر جبری طور پر زبردستی لاکر وہاں کھڑا کیاور جو مقامی لوگ تھے وہ آگئے۔ ان کو وہاں سے نکال باہر کیا اور دنیا کی سب سے بڑی ناانصافی کی گئی اور اس ناانصافی کی وجہ میں ایک اور بات عرض کروں کہ آج بھی دنیا کہتی ہے کہ فلسطین اور اسرائیل کے معاملے میں امن قائم ہونا چاہئے، یونائیٹڈ نیشن وہاں امن کی بات کرتی ہے۔ دنیا کے جو مختلف حکمران ہیں جو اس مسئلے کی حقیقت کو نہیں سمجھتے یا سمجھنا نہیں چاہتے وہ بھی رسمی طور پر یہ بیان دیتے ہیں کہ امن قائم کرنا ہے، امن قائم کرنا ہے، یہاں انصاف ہونا چاہئے۔ جو جس کی قضا ہے اس کو وہ ملنی چاہئے۔ امن تو اس کے درمیان ہوتا ہے کہ جہاں دو برابر کی چیزیں آپس میں لڑ رہی ہوں مثلا پاکستان اور ہندوستان کی بات کریں اگر کشمیر پر لڑائی ہوجائے تو کوئی ثالث یہ کہہ سکتا ہے کہ آپس میں لڑنا بند کردیں ۔

امن ایسی مثالوں میں قائم رکھا ہے کہ دو ممالک آپس میں لڑ پڑے اب کوئی تیسری طاقت آئے، چوتھی آئے اور کہے کہ آپس میں لڑو نہیں۔ قتل ہورہا ہے خونریزی ہورہی ہے۔ آپ آپس میں امن قائم کرو۔ یہاں پر تو ایک بیرونی غاصب ہیں جو زبردستی آئے ہیں، جنہوں نے آپ کے گھروں پہ قبضہ کیا ہے۔ کھیتوں میں، کھلیانوں پر، باغات پر، آپ کی چیزوں پر قبضہ کرکے آپ کو اس سے نکال دیا ۔ یہ کس چیز کا امن ہے؟! ان کے ساتھ جسٹس ہونا چاہئے۔ فلسطین فلسطینیوں کا ہے اور فلسطینیوں کو دینا چاہئے۔ اب اس کے اندر یہودی فلسطینی بھی ہے، عیسائی فلسطینی بھی ہے، مسلمان فلسطینی بھی ہے۔ اور یہ صہیونی جو دنیا بھر سے آئے ہیں ان کو یہ جہاں سے بھی آئے ہیں انہیں چاہئے کہ وہاں واپس جائیں۔

حوزہ نیوز: ایران اور مسلم ممالک کا مسئلہ فلسطین کے حل میں کیا کردار رہا ہے؟

ڈاکٹر صابر ابو مریم: دیکھئے جب 1948 میں یہ ساری داستان شروع ہوئی اور فلسطین پر اسرائیل بنا دیا گیا تو آپ دیکھ رہے ہیں کہ 1948ء میں جو فلسیطن پر اسرائیل بنا تو اسرائیل نے اپنے ان عزائم کو آشکار کیا جو اس زمانے کے بزرگ رہنماؤں نے اسرائیل کے بنتے وقت ہی یہ بیان کر دیا تھا کہ اسرائیل صرف فلسطین پر قبضہ کرنے کیلئے نہیں بنایا جارہا بلکہ اس کے عزائم ہیں کہ دوسرے ملکوں پر بھی یہ قبضہ کرے گا اور "گریٹر اسرائیل" کے فارمولے پر چلے گا۔ پھر 1967ء عرب اسرائیل جنگ ہوئی جس کے اندر عرب ممالک نے کوشش کی کہ وہ فلسطین کو بچائیں وہ اس میں ناکام ہوگئے اسرائیل کو فتح ہوگئی۔ اسرائیل اور طاقتور ہوگیا، طاقت کا نشہ اس میں اور بڑھ گیا اور اس نے اپنی طاقت و گھمنڈ کو بڑھایا اور القدس تک اپنے پنجے بڑھا دئیے۔

پھر 1969ء مسجد اقصی کو ایک صیہونی نے جاکر نذر آتش کردیا ۔دنیا کے اندر کوئی ری ایکشن نہیں آیا۔ عربوں نے تھوڑا سا شور کیا، پاکستان کے اندر ذوالفقار بھٹو نے او آئی سی کا اجلاس بلایا، یہ چیزیں ہوئیں لیکن عملی طور پر اسرائیل پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔

پھر آپ نے دیکھا 1973ء میں فورا بعد ایک اور اسرائیل عرب جنگ کھڑی ہوگئی۔ جس کا مقصد فلسطینیوں کو نجات دلانا لیکن بدقسمتی سے عرب اپنے اتحادکے نہ ہونے یا کمزوری کے باعث اس جنگ کو بھی جیتنے میں ناکام رہے اور پھر وہ وقت آیا کہ جو عرب فلسطینیوں کیلئے جنگیں لڑ رہے تھے، فلسطینیوں کیلئے آواز اٹھا رہے تھے۔ یہ عرب ریاستوں کا زیادہ فرض تھا کہ وہ اپنے پڑوسی کو بچائیں کیونکہ ان کو زیادہ خطرہ تھا ۔ ان کو معلوم تھا کہ وہ اسی لئے فرض ادا کررہے تھے وہ فلسطینیوں پر احسان نہیں کررہے تھے اور فلسطینی بھی یہ بات جانتے تھے کہ پڑوسیوں سے ہی ہمیں کوئی مدد ملنی ہے۔

یہ ایک قانون ہے ہم محلہ میں بھی رہتے ہیں تو ہمیں کوئی تکلیف ہوتی ہے تو ہمیں اپنے پڑوسی یا کسی دوست سے یہ توقع ہوتے کہ وہ ہماری مدد کرے۔ یہ عربوں نے کیا۔ لیکن 1973ء کے بعد دیکھیں کہ یہ عرب کمزور ہوگئے، ان کی طاقت ختم ہوگئی فسلطینیوں کی رہی سہی جان بھی ان کی وجہ سے جاتی رہی اور 1978ء میں ایک حادثہ ہوا جو کیمپ ڈیوڈ کے اندر ہوا۔ جس کو ہم تاریخ کا ایک جو کو کہنا چاہئے جس کو اہرام مصر، انبیاء کی سرزمین پر آمد۔ جس کو یوسف علیہ السلام کے عنوان سے اور فرعون کے عنوان سے ہم اس سرزمین کو جانتے تھے، ایک تاریخی ملک تھا اور طاقتور فوج اس زمانے میں بالآخر جاکر اس نے اسرائیل کے سامنے گھٹنے ٹیک دئیے۔ مذاکرات میں آئے اور اسرائیل کے ساتھ دوستی کر لی۔ جو 1978ء میں اس واقعہ کے بعد تو فلسطینوں کی جان ہی نکل گئی۔ فلسطینی جو پتھر سے بھی لڑ رہے تھے، غلیل سے بھی لڑ رہے تھے اب ان کو یقین ہوگیا تھا کہ ہمارا اتنا بڑا پڑوسی ہم سے دور چلا گیا تو ہم کیا کریں؟۔ ان کو امید چھوڑ گئے تھے۔

اسی زمانے میں اسرائیل نے لبنان پر چڑھائی کردی۔ جب وہ مصر انہوں نے لبنان پر چڑھائی کی اور 1978ء میں جولان کی پہاڑیاں انہوں نے اپنے قبضہ میں لے لیں۔ اب اس زمانے میں پھر ایک سال بعد 79 میں جو انقلاب اسلامی کی تحریک یہاں ایران میں چل رہی تھی وہ 79 حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں کامیاب ہوگئی اور حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے انقلاب کی کامیابی کے فورا بعد جو پہلا اقدام فرمایا وہ انہوں نے جو ایران کے اندر اسرائیل کا سفارت خانہ تھا اس کو ختم کیا۔ فلسطینی پرچم اور اس فلسطینی سفارت خانہ پر قائم کیا اور پی-ایل-او جو اس وقت فلسطینیوں کی نمائندہ جماعت تھی، "فلسطینین لبریشن آرگنائزیشن" یاسر عرفات جس کے سربراہ تھے ۔ اس اقدام نے فسلطینیوں کو ایک جان بخشی اور ایک تقویت دی کہ بالآخر یہ جو عرب تھے ان کے ڈوبنے کے بعد کوئی ہے جو اب ہمارے لئے بات کررہا ہے، جس نے فلسطینی سفارت خانہ قائم کیا ہے۔ چونکہ اسرائیل کو ختم کرکے فلسطینی سفارت خانہ قائم کرنا بہت بڑی بات تھی ۔ پھر یہاں تک ہی نہیں بلکہ یوم القدس کو دیکھیں حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے انقلاب سے پہلے بھی اس کی حمایت کی۔ انقلاب کے بعد چونکہ قدرت تھی، طاقت تھی تو اس زمانے میں یوم القدس کو زیادہ تقویت ملی۔ جو دنیا کے اندر وقت کے ساتھ ساتھ پھیلا اور فلسطینیوں کو یقین ہوا اور فلسیطنی مزید طاقتور ہوگئے کہ فلسطین کی بات کر رہے ہیں کہ ہمارے پیچھےہمارا پشت پناہ موجود ہے۔

فلسطین انقلاب اسلامی ایران سے طاقت حاصل کر رہا ہے جو اب زیادہ مضبوط ہوگیا ہے

اور یاسر عرفات خود، چونکہ میں لبنان کئی مرتبہ جاتا رہا ہوں اور ہماری اس کے اندر این جی او ہے اس کے فاؤنڈر ممبر ہیں۔ میں فلسطین فاؤنڈیشن اور اکثر و بیشتر وہاں جاتے ہیں تو فلسطینیوں سے ملاقاتیں ہوتی ہیں اور ان فلسطینیوں سے بھی ملاقاتیں ہوتی ہیں جن کی عمریں 90 سال 95 سال ہیں یعنی لیلی خالد اور اس طرح کے لوگ آج بھی وہ لوگ مثلا ضعیف ہوچکے ہیں لیکن موجود ہیں اور یاسر عرفات کے ساتھی موجود ہیں۔ میں نے خود ان سے باتیں سنی ہیں کہ انہوں نے کہا کہ جب یہ انقلاب اور واقعات ہوئے تو یاسر عرفات یہاں ایران آئے تھے اور انہوں نے حضرت امام خمینی (رہ) سے ملاقات کی اور اس ملاقات میں انہوں (یاسر عرفات) نے کہا کہ "ہم جو کہ آپ کے عرب بیٹے ہیں اس سارے حادثے کے اندر 1948 سے 1978 تک ہم یہ 1978 میں آکر سرنڈر ہو گئے تھے کہ ہمیں یہ تھا کہ ہمارے سرحدوں پر لڑنے والے بھائی ہیں، مجاہدین وہ زیادہ دیر تک دفاع نہیں کر پائیں گے، نہیں ٹک پائیں گے اور ہماری پشت پناہی ختم ہوگئی تھی لیکن آپ کے اس اقدام نے وہاں بیٹھے ہوئے، سرحدوں پر بیٹھے ہوئے مجاہدین کے اندر ایک نئی روح پھوک دی ہے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آپ ہی ہمارے اصل روحانی باپ ہیں اور روحانی پیشوا ہیں اور ہم آپ کے ساتھ آپ کے اس کارنامے کے اوپر ہم اپنی کامیابی سمجھتے ہیں اور اپنی کامیابی کی ایک کرن۔ تو یعنی اس طرح کے ان کے یادگار جملے ہیں کہ حضرت امام خمینی (رہ) کی خدمت میں کئے اور یہ نہیں کہ حضرت امام خمینی (رہ) صرف تاریخی جملے بلکہ امام خمینی (رہ) کی جدوجہد ایک خالص جدوجہد ہے جوکہ آج تک زندہ اور جاوید ہے اسی کی وجہ سے آج جو فلسطین کے اندر جو فلسطین آج 79 کے بعد آکر پہنچا ہے وہ صرف اور صرف اسی کے مرہون منت ہے جو حضرت امام خمینی (رہ) نے راستہ دیا تھا۔ یہ وہی راستہ تھا جس نے ملا احمد کو نہ صرف لبنان میں مضبوط کیا، غزہ کے اندر مضبوط کیا، مقبوضہ فلسطین کے علاقوں میں اس کو مضبوط کیا جہاں جہاں اس کی ضرورت پڑی ملااحمد مضبوط سے مضبوط تر ہوئے اس زمانے میں ڈکٹر فتح شاہ بہت بڑے فلسطینی رہنما تھے جو اس زمانے میں ڈاکٹر فتح شکاکی جو اس زمانہ میں حضرت امام (رہ) کے خطوط اور تقریروں کو فلسطین میں تقسیم کرتے تھے، فلسطینیوں کو بتاتے تھے کہ یہ شخص ہمارے لئے دنیا میں بات کرتا ہے اور ہماری لئے آواز اٹھاتا ہے۔ تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ جو کردار ہے جو یہاں حضرت امام (رہ) سے سے شروع ہوا ہے اور اب جو ان کے نائب ہیں حضرت آیت اللہ خامنہ ای مدظلہ العالی، انہی کے انڈر میں جو چل رہا ہے یہ اسی کا ایک تسلسل ہے جو آپ نے ایران کے کردار کی بات کی ہے تو یہ وہی ایک تسلسل ہے جو وہاں سے چلا ہے اور ابھی تک چل رہا ہے اور نہ صرف اس سے ہی بلکہ فلسطینی اس سے طاقت حاصل کر رہے ہیں اور اب زیادہ مضبوط ہیں بلکہ اب تو اس سے دوقدم بات آگے چلی گئی ہے۔

ایک زمانہ تھا جب امام خمینی (رہ) نے فلسطینیوں کی مدد کی بات کی تھی۔ ان کی مالی مدد وغیرہ کی تھی۔ آج اس زمانے میں امام خمینی (رہ) کے جو پیروکار تھے، جو ان کے فرزند تھے جن میں شہید قاسم سلیمانی ہیں ار اسی طرح دیگر ہمارے شہداء ہیں جو وہاں پر شہید ہوگئے ہیں۔ شہید عماد مغنیہ ہیں اور اسی طرح اور بھی دیگر بہت سارے ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں قربان کی ہیں۔ انہوں نے امام خمینی (رہ) کے اس خواب کو، فلسفہ کو اس طرح سے سچ کیا ہے کہ فلسطینیوں کو خود کفیل کیا ہے، ان کو خود طاقت دی ہے۔ ہم نے بہت سارے فلسطینیوں نے سنا ہے مجاہدین سے سنا ہے جہاد اسلامی کے لوگوں سے مجاہدین سے کہ اب ان کے پاس یہ ٹیکنالوجی تک موجود ہے کہ اب ان کو کہیں سے اسلحہ امپورٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ چھوٹے ڈرون اور چھوٹے راکٹس، میزائل وغیرہ چیزیں اب وہ غزہ کے اندر ہی بناتے ہیں۔ آپ سوچئے کہ لبنان سے زیر زمین اس وقت کئی سرنگیں موجود ہیں جو جو یعنی ایسی سرنگیں بھی ہیں کہ کوئی انسان اس میں پھنس جائے۔ ایسی سرنگیں ہیں کہ وہاں سے بڑے بڑے ٹینک جاسکتے ہیں اور وہ مقبوضہ فلسطینیوں تک جاتے ہیں، وہ غزہ تک جاتے ہیں اور اسرائیل ان کو پکڑنے میں جو باتیں ہیں کہ اسرائیل کی ٹیکنالوجی اس طرح ہے لیکن وہ سب اس کو پکڑنے میں ناکام ہیں اور وہ فلسطین کے اندر دیکھ رہے ہیں کہ ہمارے فلسطینی بھائی حماس کے لوگ یہ سب چھوٹے چھوٹے راکٹس کی مدد سے، چھوٹے چھوٹے ڈرونز کی مدد سے یہ وہ خود بناتے ہیں اپنی مدد آپ کے تحت بناتے ہیں اور اس وقت جو کردار ہے وہ میں پھر کہتا ہے کہ حضرت امام خمینی (رہ)سے لے کر حضرت خامنہ ای تک، شہید سلیمانی اور دیگر ان کی کوششوں اور مرہون منت سے یہاں تک پہنچا ہے کہ اب نہ صرف وہ بنارہے ہیں بلکہ ان کے ٹیکنالوجی کا احترام کرتے ہیں۔ اسرائیلی ٹیکنالوجی کو اتار بھی لیتے ہیں، اسرائیلی ڈرونز کو مار بھی دیتے ہیں۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے یہ سب اسی کی مرہون منت ہوا ہے ۔

حوزہ نیوز: آپ کی نظر میں مسئلہ فلسطین کا مستقل راہ حل کیا ہے؟

ڈاکٹر صابر ابو مریم:2011ء میں جب میں پہلی مرتبہ ایران آیا تھا اور مجھے اتفاق ہوا کہ یہاں فلسطین کی ایک بہت بڑی کانفرنس تھی۔ مجھے اس میں شرکت کی دعوت ہوئی اورمیں گیا۔ آیت اللہ خامنہ ای صاحب کی تقریر بھی وہاں پر سنی۔ انہوں نے نکتہ بیان فرمایا تھا جو مجھے ہمیشہ یاد ہے اور اسی نکتہ پر میں نے پی ایچ ڈی کا تھیسز بھی کیا تھا۔ یعنی "فلسطین؛ وطنِ فلسطینیان"۔

اور مسئلۂ فلسطین کا مستقل راہ بھی 2011ء میں پیش ہوا تھا اس کانفرنس میں وزراء اعظم موجود تھے، کئی ملکوں کے صدور بھی اس کانفرنس میں موجود تھے، حزب اللہ کی پوری اعلی قیادت موجود تھی، قاسم سلیمانی موجود تھے۔ جہاد اسلامی کے رمضان عبداللہ جو ہیں وہ بھی وہاں موجود تھے۔ تو یہ سب معاملات بہت ہی منظم طریقہ سے انجام پائے۔ یہ مسئلہ امام خامنہ ای صاحب نے پیش کیا تھا کہ "فلسطین؛ فلسطینیوں کا وطن ہے"۔ تو اس پر سب دنیا کے جتنے ممالک تھے کنسیسز (رضامند) تھے۔ پھر اس کو یونائیٹڈ نیشن میں لے جایا گیا۔ ڈاکٹر عباس گل رو جو کہ ایران کے پارلیمنٹ کے ممبر تھے، انہوں نے اس کو کئی مرتبہ یونائیٹڈ نیشن کے فورم پر پیش کیا ہے۔

امیر حسین عبداللہیان (ایران کے موجدہ وزیر خارجہ) سے کئی مرتبہ ان سے اس موضوع پر بات ہوئی ہے ۔ انہوں نے بھی یہی جواب دیاہے کہ یونائیٹڈ نیشن کے اندر بھی یہ سلوشن پُٹ اپ کیا گیا ہے، افیکٹڈ ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ صرف ایران کی طرف سے ہو بلکہ دنیا کے کئی ملکوں نے اس کو اس سلوشن تک ایگریمنٹ کیا ہے، بہت اچھا سلوشن ہے۔ اس میں جناب خامنہ ای صاحب نے کہا تھا کہ دیکھیں ہم یہودیوں کو قتل نہیں کرنا چاہتے ،ہم یہ نہیں چاہتے کہ ان کو آپ سمندر میں پھینک دیں وغیرہ۔ ٹھیک ہے ہم یہ کہتے ہیں کہ بھائی آپ جدھر سے آئے تھے ادھر ہی چلے جائیں اور جن کو آپ نے نکالا ہے ان کو واپس آنے دیں اور ہم بھی آج بھی یہی بات کرتے ہیں سب سے پہلے فلسطینیوں کو ان کا حق واپسی دیا جائے۔

دنیا بھر میں ان کو حق واپسی دیں تاکہ وہ اپنے وطن میں آئیں۔ اپنے وطن میں آنے کے بعد پھر وہ ان سے ریفرنڈم کے ذریعے ایک فیصلہ کریں کہ یہاں پر کیا حکومت بنانی ہے؟۔ اگر فلسطینی یہ فیصلہ کریں کہ بعد میں آنے والے یہودی جو 1948 میں یا اس کے بعد آئے ہیں اگر ان کو بھی رہنے کا حق دیتے ہیں تو یہ اختیار بھی فلسطینیوں کا ہے۔ اگر وہ اس پر متفق ہیں اور اگر بعد میں آنے والوں کو قبول کریں گے تو ہم بھی کہیں گے ٹھیک ہے، ہم بھی اور باقی دنیا بھر کے لوگ بھی فلسطینیوں کی حمایت کریں گے۔ یہی رہبر معظم حضرت خامنہ ای نے بھی فارمولہ دیا تھا۔ ان کو اختیار ہے اس کیلئے حق واپسی دیا جائے، ایک ریفرنڈم کروایا جائے اور اس ریفرنڈم میں فلسطین عوام یہ فیصلہ کریں کہ یہ یہاں فلسطین میں کیا کرنا ہے۔ پھر اگر 1948 سے پہلے بھی وہاں پر فلسیطنی رہتے تھے۔ فلسیطنی عرب جس میں یہودی، عیسائی، مسلمان سب رہتے تھے ابھی بھی رہ سکتے ہیں لیکن اس وقت بھی پرچم فلسطین کا، سکہ فلسطین کا رائج ہوجائے، وہ ان کی مرضی سے فلسطین میں رہنا چاہیں تو رہیں۔

فلسطین؛ فلسطینیوں کا وطن ہے / برصغیر کے مسلمان فلسطینیوں کے ساتھ انجام دئے جا رہے ظلم اور خیانت پر کبھی خاموش نہیں بیٹھیں گے

مسئلۂ فلسطین کا مستقل راہ حل یہی ہے جو پیش ہوچکا ہے اور جتنی بھی اسلامی مزاحمت کی تحریکیں ہیں اس حل سے ہٹ کر کوئی کام نہیں کررہیں اور اس وقت سے خبریں آرہی ہیں کہ مقبوضہ فلسطین سے بہت سے یہودیوں کی پچھلے تین چار سالوں سے (شروع میں نہیں البتہ خفیہ ہے بہت محدود ہے لیکن) گھروں کو اب چھوڑ رہے ہیں۔ حالات اتنے خراب ہورہے ہیں، پچھلے چار برسوں میں اتنی جنگیں ہوئیں، وہاں پر اتنے حملے ہورہے ہیں اور ابھی دیکھیں ایک نیا رخ یعنی غزہ کی جو پٹی ہے جو لڑائی شروع کرتے ہیں حملہ کرتے ہیں یہ نہیں ہے اب 1948 کے جو علاقوں کے جو لوگ ہیں جن کو عرب اسرائیلی کہتے ہیں جو اسرائیلی نیشنلٹی کے ساتھ وہاں رہ رہے ہیں وہ والے عرب بھی جو اسرائیلی عرب کہلاتے ہیں مسلمان، عیسائی ہیں وہ بھی مزاحمت کررہے ہیں۔ یہ بڑی مشکل ہے یہ اب یہودیوں کو صہیونیوں کو مضبوط کررہے ہیں وہ صہیونی کو یہ مجبور کررہی ہے کہ آپ یہاں سے نکل جائیں اور وہ نکل رہے ہیں۔ یہ اسی کا پیش خیمہ ہے اور یہ اسی کا ایک مقدمہ ہے اور ان شاء اللہ وقت کے ساتھ یہی اس کے علاوہ کوئی سلوشن ہے نہیں۔ کیونکہ اسرائیلی کچھ لوگ دنیا کے اندر ایسے ہیں پاکستان میں مختلف ممالک میں ایران میں، وہ کہتے ہیں Two State Solution یعنی اسرائیل بھی رہے اور فلسطین بھی رہے تو سوال یہ ہے کہ اسرائیل خود Two State Solution سلوشن نہیں چاہتا۔ اسرائیل کے قوانین کے مطابق کوئی غیر یہودی اس میں رہ ہی نہیں سکتا؟ تو وہ کیسے کسی کو تسلیم کریں وہ فلسطینیوں کو تسلم ہی نہیں کرسکتے۔ اسرائیلی نظریاتی عنوان سے کسی بھی عنوان سے اس Two State Solution کو رکھ ہی نہیں سکتا تو جب یہ Two State Solution کو قبول نہیں کرتا تو ہمیں کیا تکلیف ہے ۔ ہم بھی One State کی بات کرتے ہیں کہ "فلسطین فلسطینیوں کا ملک ہے اور اسرائیل ایک غاصب اور ناجائز ریاست ہے"۔

حوزہ نیوز: فلسطین میں داعش کی موجودگی کی خبریں اور ان کے وہاں اثر رسوخ کے بارے میں آپ کی کیا نظر ہے؟

ڈاکٹر صابر ابو مریم: کچھ عرصہ پہلے ایک واقعہ رونما ہوا تھا کہ غزہ کے اندر ایک مسجد میں دو حماس کے کارکنوں کو داعش کے لوگوں نے ذبح کر دیا تھا ۔ یہ کوئی دو، تین سال پرانی بات ہے اور حماس کے دوستوں سے اس سے متعلق جب بات ہوئی تھی تو انہوں نے اس کی تصدیق کردی تھی۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ جو داعش ہے آپ اس کو اس طرح دیکھیں کہ یہ جو فلسطینیوں کی جو مزاحمت ہے وہ کہاں پر کھڑی ہے؟ حماس ہے، جہاد اسلامی ہے، القسام بریگیڈہے، القدس بریگیڈ ہے اور بہت سارے گروہ ہیں۔ یہ 90 فیصد ایران کے ساتھ متفق ہیں۔ ان کا یہاں پر ایک ملنا جلنا ہے۔ اب ان کو روکنے کیلئے ترکی اور سعودی عرب وغیرہ جو دوسرے ملک ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو داعش کے کھلم کھلا سپورٹر تھے۔ یہ ہوسکتا ہے کہ وہ وہاں پر داعش کے فتنے کو پروان چڑھا رہے ہوں۔ اس لئے کہ ان مزاحمت کاروں کے اوپر ایک "پراکسی" لگانے کیلئے کہ اگر آپ ایران کے ساتھ یا پاکستان یا کسی بھی جگہ ہماری مرضی کے خلاف زیادہ کسی کے قریب جاؤ گے تو ادھر سے ان کو چھوڑ دیں گے۔ یہ ایک پراکسی کے طور پر ہے اور ایسا نہیں ہے کہ داعش کا وجود ہے۔ ہاں یہ ممکن ہے کہ چند عناصر وہاں پر ہوں اور پیسے کے خاطر یا کسی اور خاطر، اور ان کے پیچھے یہی لوگ ہوسکتا ہیں؛ امریکہ، اسرائیل وغیرہ۔۔

اسی طرح یہ بھی کوئی ایسی بات نہیں ہے۔ یہ ممکنات میں سے ہے کہ کچھ عرب ریاستیں اور کچھ ایسی ریاستیں جو اسرائیل کے قریب ہیں، ممکن ہے کہ وہ ان مزاحمت کاروں کو ایک سٹاپ کا بٹن لگانے کیلئے ایک پریشر کھڑا کررہے ہوں گے کہ کچھ کرو تاکہ ان کے راستے کو خراب کریں اور داعش کی فعالیت میں مزاحمت کا جو اصل راستہ ہے، وہ بدنام ہو دوسرا یہ کہ مزاحمت کو دباؤ میں لائیں کہ اگر تم اس راستے پر زیادہ چلو گے اور ادھر سے ان کو چھوڑو گے نہیں تو تمہاری خیر نہیں ہے، ادھر عوام کو بھی یہ ماریں گے۔ یہی کچھ یہ افغانستان میں بھی کررہے ہیں اس پر داعش کو بٹھا کر طالبان کے خلاف، دوسرے ملکوں کے خلاف اور یہی کچھ فلسطین میں بھی جو داعش کے آثار نظر آرہے ہیں اور اس کا بنیادی مقصد یہی ہوسکتا ہے۔

حوزہ نیوز: آخر میں حوزہ نیوز کے بارے میں آپ کی نظر ، آراء اور اس کے اردو شعبہ میں مزید بہتری کے لئے آپ کیا رہنمائی کریں گے۔

ڈاکٹر صابر ابو مریم: حوزہ نیوز ایجنسی؛ میں سمجھتا ہوں کہ ماشاءاللہ ایک اساسی ادارہ ہے، اس کا ایک پریس میں کلیدی کردار ہے، خاص طور پر اردو زبان کے پڑھنے والوں کیلئے جاننے والوں کیلئے، کہ دین سے متعلق، ثقافت سے متعلق اور اسی طرح سیاست سے متعلق اور پھر بین الاقوامی جو دنیا کے حالات روما ہو رہے ہیں، خاص طور پر کشمیر، فلسطین اور دیگر ہمارے جو مسائل ہیں یمن ہے، بحرین ہے، نائیجریا ہے، ہم ان کو فراموش نہیں کرسکتے ہیں، آپ لوگ جو ان کیلئے ایک مواد فراہم کرتے ہیں، لوگوں تک آگاہی فراہم کرتے ہیں آپ لوگ جو یہاں پر ہیں، زحمت کرتے ہیں یقینا اس کی کتنی ستائش کی جائے کم ہے، جتنی قدردانی ہو وہ کم ہے، اور اس کی مضبوطی کیلئے، اس کی زیادہ تقویت اور بہتری کیلئے جتنے بھی اقدامات اٹھائے جائیں کم ہیں اور ہمیں اس کو مل کر کرنا چاہئے اور اچھے انداز میں اس کو روڈیوس کرنا چاہئے تاکہ عوام تک اس کی مزید رسائی کو اور یہ اپنا اسی طرح اقدام، اپنا کردار ادا کرتی رہے چونکہ آگاہی رہے گی تو ہی معاشرے کے اندر بہت سارے مسائل حل ہوں گے اور اس کیلئے ایک مزاحمت بھی تخلیق ہوگی۔

دوسری بات اردو سیکشن میں، تو میں بعنوان فلسطین فاونڈیشن پاکستان آپ سے گزارش کرتا ہوں، یہ درخواست کرتا ہوں کہ اس وقت جو پاکستان اور اسرائیل کے مابین ایک تعلقات کی ایک فضا ہے جو کئی ماہ سے بہت سے حادثات رونما ہورہے ہیں وہاں پر، اس عنوان سے آپ یہ کوشش کیجئے کہ اردو زبان میں کچھ ایسے نکات کو تشریح کیجئے جو عوام کو یہ بتائیں پاکستان کی عوام کو جو اس اس ویب سائٹ کو پڑھ رہے ہیں، انہیں یہ بتائیں کہ ملت پاکستان جو فلسطین کی حمایت کرتی ہے، اس میں منفعتِ ملتِ پاکستان کیا ہے؟ یعنی آئیڈیالوجی تو ہمیں پتا ہے۔قائداعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے، جو ان کے فرامین ہے، جو ان کی سیرت ہے، سب کچھ ہمیں پتہ ہے۔

آپ اگر کوئی کلیدی کام انجام دے سکتے ہیں، تو یہ ایک ایسا کام ہو گا جو ہمیشہ کیلئے رہے گا اور ہم بھی اس سے رہنمائی لیں گے، ہم اس کو اپنی عملی جدوجہد کا حصہ بنائیں گے مثلا آپ لوگوں کو بتائیں کہ کسی طرح سے اپنے پوسٹرز وغیرہ کے ذریعہ بتائیں کہ مثلا پاکستان کی ملت فلسطین کی حمایت کرتی ہے یا پاکستان حمایتِ فلسطین کررہا ہے تو منفعت پاکستان کیا ہے؟ اگر یہ عوام کو پتہ چلے کہ پاکستان کا اس میں کیا فائدہ ہے؟ پاکستان کیوں فلسطین کے ساتھ ہے؟ اور کیوں ہمیں فلسطین کے ساتھ ہونا چاہئے اور کیوں نہیں ہونا چاہئے؟ اگر ان کو یہ پتہ چلے گا تو میں سمجھتا ہوں کہ جو عوامی مزاحمت ہے وہ اتنی اوپر چلی جائے گی، اتنی بلند ہوجائے گی کہ اگر بالفرض اس وقت خدانخواستہ کچھ عناصر وہاں پر ہمارے ملک میں یا کہیں پر بھی یا این جی اوز میں وہ یہ کوشش کررہے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ دوستی کرلیں، تجارت کرلیں یا کم از کم قریب ہوجائیں وغیرہ۔

فلسطین کی حمایت میں منفعتِ پاکستان کیا ہے؟ اگر وہ چار مہینوں میں اسرائیل کے قریب ہونا چاہتے ہیں تو میرا یہ عقیدہ ہے کہ ہم ان کو چار نہیں بلکہ چالیس سال پیچھے دھکیل دیں گے۔

تو میرا یہ عقیدہ ہے کہ اگر ہم اس کام کو ہر زاویہ سے عوام تک پہنچائیں کہ فلسطین کی حمایت میں منفعتِ پاکستان کیا ہے؟ اگر وہ چار مہینوں میں اسرائیل کے قریب ہونا چاہتے ہیں تو میرا یہ عقیدہ ہے کہ ہم ان کو چار نہیں بلکہ چالیس سال پیچھے دھکیل دیں گے۔ اور اگر ہم نے یہ کرلیا تو ان شاء اللہ چالیس سال سے پہلے ہی ان شاءاللہ ہم قدس آزاد کر چکے ہوں گے اور ان شاءاللہ یہ مسئلہ ہی ختم ہوچکا ہوگا۔ تو یہ میری درخواست ہے کہ اگر آپ اس کو انجام دیں تو ہم اس سے استفادہ کریں گے۔

قابلِ ذکر ہے کہ اس ملاقات کے آخر میں حوزہ نیوز ایجنسی کے شعبۂ اردو زبان کے چیف ایڈیٹر سید محمود حسن رضوی نے فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم کا شکریہ ادا کیا اور انہیں حوزہ نیوز شعبہ اردو کی فعالیت سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ حوزہ نیوز اردو کے دنیا بھر کے قارئین کے ارقام و اعداد سے بھی آگاہ کیا۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
6 + 10 =