حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یکم شوال 1446ھ کو امت مسلمہ کی حالت ان کمزور نابالغ بچوں کی طرح ہے جو اپنے باپ سے بچھڑ گئے ہوں، ان سے تمام وسائل چھین لیے گئے ہوں اور پے در پے ان کے رخسار پر طمانچے لگ رہے ہوں نیز تیز دھار خنجر سے مسلسل زخمی کیے جا رہے ہوں ۔ یہ زخموں سے چور لہو لہان بی یار و مددگار بچے متحد ہو کر اپنی نجات کے لیے کچھ کرنے کے بجائے آپس میں دست و گریباں ہو رہے ہوں اور اپنے باپ کو مدد کے لیے پکار رہے ہوں۔ ان کے اطراف میں موجود حملہ آور ان پر قہقہہ لگاتے ہوئے ضرب و شتم میں مزید اضافہ کر رہے ہوں۔
امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی غیبت اور قتل و غارت سے دو چار منتشر امت مسلمہ کی ابتر حالات میں عید کی خوشی تو نامعقول چیز نظر آتی ہے ۔ البتہ بارگاہ الٰہی میں اس دن کی حرمت کے پیش نظر یہ دعا کی جاتی ہے کہ رب العالمین مظلوم اقوام کو بالعموم اور امت مسلمہ کو بالخصوص شعورِ ، بیداری ، نجات، امن، آزادی، وحدت، عزت و غلبہ، فتح و نصرت اور پائیدار ترقی و خوشحالی عطا فرمائے اور حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور میں تعجیل فرمائے۔ آمین ۔
آپ کا تبصرہ