حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ بہجتؒ نے قرآن اور دعاؤں کی تلاوت، مقدس مقامات کی زیارت اور علماء کی قربت کو ایمان میں اضافے اور دل کی سختی سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ قرار دیا ہے۔
انہوں نے تاکید کی کہ روزانہ قرآن کی تلاوت اور مخصوص اوقات و مقامات کی دعائیں پڑھنا، مساجد اور مقدس مقامات کی زیارت کرنا اور نیک علماء و صالحین کی صحبت اختیار کرنا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضا کا سبب بنتا ہے۔ اس کے برعکس، غافل افراد کی صحبت دل کی سختی، تاریکی اور عبادت سے دوری کا باعث بنتی ہے۔
آیتالله بہجتؒ کے مطابق، عبادات، زیارات اور قرآن کی تلاوت سے حاصل ہونے والی روحانی کیفیت کمزور ایمان والوں کی صحبت میں بگڑ سکتی ہے اور نیک عادات کی جگہ برے اخلاق لے سکتے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے امام صادق علیہالسلام کے اس فرمان کی روشنی میں نصیحت کی: "ایسے افراد کی صحبت اختیار کرو جنہیں دیکھ کر تمہیں اللہ یاد آئے، جن کی باتیں تمہارے علم میں اضافہ کریں، اور جن کے اعمال تمہیں آخرت کی ترغیب دیں۔" (اصول کافی، ج ۱، ص ۳۹)
ماخذ: برگی از دفتر آفتاب، ص ۲۰۱
آپ کا تبصرہ