بدھ 2 جولائی 2025 - 07:00
 دشمن پر حسنِ ظن اور اعتماد ناقابل بخشش غفلت ہے

حوزہ / حجت الاسلام ماشااللہ صدیقی نے کہا: دشمن پر حسن ظن رکھنا اور اس پر اعتماد کرنا ناقابل بخشش غفلت ہے کیونکہ دشمن کبھی کبھار قریب آتا ہے تاکہ غفلت سے فائدہ اٹھا کر آخری وار کرے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے مطابق، دانشگاہ آزاد اسلامی کاشان میں نمائندہ ولی فقیہ حجت الاسلام والمسلمین ماشااللہ صدیقی نے مسجد صاحب‌الزمانؑ سجادیہ راوند میں شہیدِ امن سرهنگ علی رضا بوستان افروز کی مجلس ہفتم کے موقع پر حضرت اباعبدالله الحسین علیہ‌السلام اور ان کے باوفا اصحاب کی شہادت کی مناسبت سے تعزیت پیش کرتے ہوئے، آیتِ کریمہ «اِن تَتَّقُوا اللّهَ یَجعَل لَکُم فُرقانًا» کا حوالہ دیا اور کہا: حق و باطل کی شناخت اور بصیرت کا انحصار خلوص اور تقوائے الٰہی پر ہے اور یہی شہداء کی ممتاز صفات میں سے ہیں۔

انہوں نے کہا: شہداء نے تقویٰ اور توسل کو یکجا کیا اور اسی کے نتیجے میں بصیرت حاصل کی۔

حجت الاسلام صدیقی نے کہا: موجودہ حالات میں دشمن کا تعاقب اس وقت تک جاری رکھنا بصیرت کی علامت ہے جب تک اس کی پشیمانی کا یقین نہ ہو جائے اور جس طرح دشمن ہمیں دھوکہ دیتا ہے ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اس سے اسی طرح کا سلوک کریں اور اس کے مقابلے میں لاپرواہی نہ کریں۔

انہوں نے کہا: اسلامی نظام کبھی بھی کسی جنگ کا آغاز کرنے والا نہیں رہا۔ دشمن کی جانب سے جنگ بندی کی پیشکش کے موقع پر درپیش خطرہ، ایّام جنگ کے خطرے سے کم نہیں ہوتا۔

دانشگاہ آزاد اسلامی کاشان میں نمائندہ ولی فقیہ نے کہا: دشمن پر حسن ظن اور اعتماد ایک ایسی غفلت ہے جو معاف نہیں کی جا سکتی کیونکہ دشمن کبھی کبھی قریب آکر غفلت سے فائدہ اٹھاتا ہے اور فیصلہ کن ضرب لگاتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha