جمعہ 19 دسمبر 2025 - 05:00
قرآن کیوں کہتا ہے کہ عہد و پیمان توڑنے والوں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا؟

حوزہ/ قرآنِ کریم مستکبرینِ بےغیرت کو ایسے دشمن قرار دیتا ہے جو قسم، عہد اور معاہدے کی کوئی پروا نہیں کرتے اور مسلسل خیانت کرتے رہتے ہیں۔ چونکہ ان کے پاس عہد کی پاسداری نہیں ہوتی، اس لیے نہ دوست ان کے مکر سے محفوظ رہتا ہے اور نہ دشمن؛ چنانچہ ایسے عہد شکنوں پر اعتماد کرنا نادانی بلکہ حماقت ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قرآنِ کریم ایک زندہ اور متحرک کتاب ہے، جس کے درخشاں حقائق تاریخ کے صفحات پر عقل و فہم رکھنے والوں کی نگاہوں کو اپنی طرف کھینچتے ہیں اور بیدار فطرتوں کو متاثر کرتے ہیں۔

قرآن کا سچا وعدہ یہ ہے کہ عمل کرنے والے مومن کامیاب ہوں گے اور ضدی منکر نقصان اٹھائیں گے۔ یہ کتاب حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والی ہے، جو باطل کے خلاف کھڑے ہونے کا حکم دیتی ہے، تاکہ انسانی معاشرہ باقی رہ سکے؛ کیونکہ باطل، اجتماعی زندگی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ظالم اور متکبر لوگ صرف ایمان سے محروم نہیں ہوتے بلکہ عہد و پیمان کی پاسداری کی غیرت بھی نہیں رکھتے۔ جو شخص قسم، وعدہ، معاہدہ اور قرارداد کی حرمت کو نہیں سمجھتا، اس کے ساتھ مشترکہ زندگی ممکن نہیں ہوتی۔

اسی لیے قرآنِ حکیم، استکباری اور استعمار پسند طاقتوں کے خلاف جہاد کی اصل وجہ ایمان کی کمی نہیں بلکہ عہد کی بےحرمتی کو قرار دیتا ہے اور فرماتا ہے: «فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْکُفْرِ إِنَّهُمْ لَا أَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنتَهُون» “پس کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو، کیونکہ ان کے پاس کسی قسم کا عہد نہیں، شاید وہ باز آ جائیں۔”

(سورۂ توبہ: 12)

حق کے قیام کے قائدین اور وحی پر عمل کرنے والوں کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ ان متکبر طاقتوں سے مقابلہ کیا جو کمزوروں کو دھوکہ، تحقیر اور فریب کے ذریعے اپنا تابع بنا لیتے ہیں، جیسا کہ قرآن فرعون کے بارے میں کہتا ہے:«فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهُ فَأَطَاعُوهُ» “اس نے اپنی قوم کو حقیر سمجھا، اور انہوں نے اس کی اطاعت کر لی۔” (زخرف: 54)

«وَ إِذَا تَوَلَّی سَعَی فِی الْأَرْضِ لِیُفْسِدَ فِیهَا وَ یُهْلِکَ الْحَرْثَ وَ النَّسْلَ وَاللَّهُ لَا یُحِبُّ الْفَسَادَ»

یہ طاقتیں جب مضبوط ہو جاتی ہیں تو زمین میں فساد پھیلاتی ہیں، کھیتی اور نسل دونوں کو تباہ کر دیتی ہیں، اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔ (بقرہ: 205)

ایسے لوگ صرف دشمنوں ہی سے خیانت نہیں کرتے بلکہ اپنے دوستوں کے ساتھ بھی بدعہدی کرتے ہیں؛ کوئی بھی ان کے شر سے محفوظ نہیں رہتا:

«وَ لَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَی خَائِنَةٍ مِّنْهُمْ» “تم ہمیشہ ان میں سے کسی نہ کسی خیانت پر مطلع ہوتے رہو گے۔”

(مائدہ: 13)

«تَحْسَبُهُمْ جَمِیعًا وَقُلُوبُهُمْ شَتَّی» یہ لوگ بظاہر متحد دکھائی دیتے ہیں لیکن حقیقت میں ان کے دل ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں۔ (حشر: 14)

تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے نازک مواقع پر اپنے ہی ساتھیوں کو اپنے مفادات کے لیے قربان کیا، اور ان کا ہر تعلق دھوکہ اور مکر پر مبنی ہوتا ہے تاکہ مناسب وقت پر فائدہ اٹھایا جا سکے۔ تاریخ میں آیا ہے کہ جب عثمان نے معاویہ کی مدد طلب کی تو معاویہ نے یزید بن اسد (جو خالد قسری کا جد تھا) کو بھیجا اور اسے ہدایت کی کہ جب تم ذو خُشب پہنچو تو وہیں ٹھہر جانا اور آگے نہ بڑھنا۔ وہ ذو خُشب ہی میں ٹھہرا رہا یہاں تک کہ عثمان قتل کر دیے گئے۔ میں نے جویریہ سے پوچھا کہ اس نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے جواب دیا: اس نے جان بوجھ کر ایسا کیا تاکہ عثمان قتل ہو جائیں اور وہ خود بدلہ لینے کے دعوے کے ساتھ اقتدار کی طرف بلائے۔ (جنگ جمل، ریشه‌ها، پیامدها و شبهات، ج ۱، ص ۲۱۷)

اسی طرح ایک اور مقام پر صاف کہا گیا: ’’خدا کی قسم! تمہارا مقصد مدد نہیں تھا بلکہ یہ تھا کہ مجھے قتل ہونے دیا جائے، پھر تم کہو کہ میں خونِ عثمان کا وارث ہوں؛ لوٹ جاؤ اور میرے پاس لوگوں کو لے کر آؤ۔‘‘ وہ واپس چلا گیا، مگر دوبارہ اس وقت تک نہ آیا جب تک عثمان قتل نہ ہو گئے۔ (تاریخ یعقوبی، جلد ۲، صفحہ ۱۷۵)

اس کے برعکس، مکتبِ علویؑ میں عہد و پیمان کو اتنی اہمیت حاصل ہے کہ امیرالمؤمنینؑ خود عہد کی وفا کے انتظار میں آنکھیں بچھائے رکھتے تھے۔ امام علیؑ فرماتے ہیں کہ وعدہ انسان کو ذمہ داری کا پابند بنا دیتا ہے، اور اس کی آزادی وفائے عہد سے مشروط ہو جاتی ہے۔

یہی فرق ہے خیانت پر مبنی کاشت اور اس کے ناپاک نتائج میں، اور وفا و عدل پر مبنی کاشت اور اس کے مبارک ثمرات میں۔ یہ وراثت نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے۔

جس طرح اہلِ عقل و تقویٰ، انبیاء اور ائمہؑ کے فکری وارث ہوتے ہیں، اسی طرح سرکش اور جاہل لوگ کفر و طغیان کے پیشواؤں کے وارث بن جاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ اپنے دین کی حفاظت اپنے مخلص بندوں کے ذریعے کرتا ہے۔ اگرچہ دین کی حفاظت سب پر فرض ہے، مگر اس کی حقیقی توفیق انہی کو ملتی ہے جو اللہ کے محبوب ہوتے ہیں اور اللہ بھی انہیں محبوب رکھتا ہے«یُحِبُّهُمْ وَ یُحِبُّونَهُ»۔ ان کی پہچان یہ ہے کہ وہ مومنوں کے لیے نرم دل اور کفار کے مقابلے میں باوقار اور مضبوط ہوتے ہیں: «أَذِلَّةٍ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ أَعِزَّةٍ عَلَی الْکَافِرِینَ» “وہ مومنوں کے لیے نرم اور کفار کے لیے سخت ہوتے ہیں۔” (مائدہ: 54)

اسی بنیاد پر دین کے حقیقی علماء اور رہنما ہمیشہ ان طاقتوں کے خلاف کھڑے رہے ہیں جو نہ ایمان رکھتی ہیں اور نہ عہد کی پاسداری۔

اسی حقیقت کی طرف رہبرِ معظم انقلاب نے نہایت مختصر مگر مضبوط الفاظ میں اشارہ کیا کہ: “امریکہ اپنے دوستوں سے بھی خیانت کرتا ہے؛ صہیونی مجرموں کی حمایت کرتا ہے؛ تیل اور معدنیات کے لیے دنیا بھر میں جنگیں بھڑکاتا ہے۔ ایسی حکومت اس قابل نہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس سے تعلقات یا تعاون کی امید رکھے۔”

یہی سورۂ توبہ کا پیغام ہے کہ جس کے لیے عہد و پیمان کی کوئی حیثیت نہ ہو، اس کے ساتھ مشترکہ زندگی ممکن نہیں۔ جیسے امامِ عدلؑ نے عہد شکنوں سے سمجھوتہ نہیں کیا، ویسے ہی ان کے پیروکار بھی ایسے لوگوں کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو سکتے۔

لہٰذا عقلِ سلیم اور معتبر دینی نصوص دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ عہد توڑنے والے اور بےغیرت دشمن پر اعتماد کرنا نادانی بلکہ حماقت ہے، جس کا انجام ذلت اور ناکامی کے سوا کچھ نہیں۔ اس صورت میں ملامت صرف خود انسان کے حصے میں آتی ہے، کیونکہ عقل و وحی دونوں نے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا۔

امید ہے کہ ولایت کے نور اور وحی کے دسترخوان سے بصیرت نصیب ہو، تاکہ یہ حقیقت سمجھی جا سکے کہ دشمن کبھی دشمنی نہیں چھوڑتا؛ اگر ہتھیار رکھ دے تو فریب کا سہارا لے لیتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha