پیر 5 جنوری 2026 - 15:28
امام زمانہ (عج) کی محبت و مہربانی کے جلوے

حوزہ/ امام اپنے پیروکاروں کے ساتھ جس درجہ شدید رأفت اور محبت رکھتے ہیں، اسی بنا پر ان سے گہرا اور مضبوط ربط و تعلق قائم رکھتے ہیں۔ اسی محبت اور دوستی کا تقاضا ہے کہ وہ ان کے غم اور دکھ میں شریک ہوتے ہیں۔ یہ کیفیت بالکل اس ماں کی مانند ہے جو اپنے بچے سے بے پناہ محبت اور قربت کے باعث اس کی بیماری میں خود بھی بیمار ہو جاتی ہے، اور اس کی صحت یابی اور خوشی پر خود بھی شاد و خرم ہو اٹھتی ہے، کیونکہ بچہ اس کے نزدیک جان کی طرح محبوب اور عزیز ہوتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی | مباحثِ مہدویت کا سلسلہ «مثالی معاشرے کی جانب» کے عنوان سے امام زمانہ عجل‌اللہ‌تعالیٰ فرجہ الشریف سے وابستہ معارف اور تعلیمات کی ترویج کے مقصد سے اہلِ علم و دانش کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

امامِ غائب کے فوائد کے باب میں ہم نے ان کے وجودی آثار پر گفتگو کی اور واضح کیا کہ کائنات کی بقا اور تمام مخلوقات کی زندگی کا تسلسل اسی بزرگ ہستی کے وجود سے وابستہ ہے۔ اس موقع پر گفتگو امامِ غائب کی بے پناہ محبت کے ان جلوؤں کے بارے میں ہے جو مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتے ہیں، تاکہ سب پر یہ حقیقت روشن ہو جائے کہ نیک اور مہربان امام، اگرچہ پردۂ غیبت میں ہیں، مگر ان کی محبت کی شعاعیں ہر سمت پھیلی ہوئی ہیں اور ہر شخص کو اس کی استعداد اور ظرف کے مطابق اپنے دامن میں لے رہی ہیں۔ ان کا لطف و عنایت ایک جاری چشمے کی طرح مسلسل جاری رہتا ہے۔

اہم ترین اور اعلیٰ ترین صفاتِ مؤمن میں سے ایک، اپنے دینی بھائیوں کے ساتھ ہم آہنگی اور ہمدردی ہے۔ اسلامی معاشرے میں مؤمن ایک واحد جسم کے مانند ہیں؛ ایک کا درد دوسرے کے لیے رنج بن جاتا ہے اور ایک کی راحت و خوشی سب کے لیے مسرت کا باعث بنتی ہے، کیونکہ قرآنِ کریم کی صریح تصریح کے مطابق وہ سب آپس میں بھائی ہیں۔

متعدد روایات میں ائمۂ معصومین علیہم السلام نے اپنے شیعوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار فرمایا ہے۔ یہی دل نواز احساس ان کے چاہنے والوں کے دلوں کے لیے سکون اور تسلی کا سبب بنتا ہے اور ایک روحانی قوت فراہم کرتا ہے جو زندگی کے نشیب و فراز میں انہیں حوصلہ، صبر اور استقامت عطا کرتی ہے۔

امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں: «مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ شِیعَتِنَا یمْرَضُ إِلَّا مَرِضْنَا لِمَرَضِهِ وَ لَا اغْتَمَّ إِلَّا اغْتَمَمْنَا لِغَمِّهِ وَ لَا یفْرَحُ إِلَّا فَرِحْنَا لِفَرَحِه‏.»

(بحارالانوار، ج ۶۵، ص ۱۶۷)

ترجمہ:

ہماری شیعوں میں سے کوئی بیمار نہیں ہوتا مگر یہ کہ ہم اس کی بیماری پر خود بیمار ہوتے ہیں، اور کوئی غمگین نہیں ہوتا مگر یہ کہ ہم اس کے غم پر غمگین ہوتے ہیں، اور کوئی خوش نہیں ہوتا مگر یہ کہ ہم اس کی خوشی پر خوش ہوتے ہیں۔

امام اپنے پیروکاروں سے شدید محبت کے باعث ان کے ساتھ سب سے زیادہ قربت اور ارتباط رکھتے ہیں، اور اسی محبت کے سبب ان کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں۔ یہ تعلق اس ماں کے رشتے کے مانند ہے جو اپنی اولاد سے گہری محبت کے باعث اس کی بیماری میں خود کو بیمار محسوس کرتی ہے اور اس کی شفا اور مسرت پر خود بھی شاد ہو جاتی ہے، کیونکہ اولاد اس کے لیے جان کی طرح محبوب ہوتی ہے۔

اسی طرح امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: «وَ اللَّهِ إِنِّی أَرْحَمُ بِکُمْ مِنْ أَنْفُسِکُم‏.»

(بصائرالدرجات، ص ۲۶۵)

ترجمہ:

خدا کی قسم! میں تم پر خود تم سے بھی زیادہ مہربان ہوں۔

نتیجہ یہ ہے کہ امام کی محبت دیگر تمام محبتوں سے بالکل مختلف نوعیت رکھتی ہے۔ یہ محبت خالص، بے مِنت، بے پایاں اور نہایت گہری ہے؛ ایسی محبت جو محض زبان تک محدود نہیں بلکہ دل اور جان کی گہرائیوں میں رچی بسی ہے، اور اسی لیے امام اپنے جسم و جان کے ساتھ اپنے شیعوں سے رابطہ رکھتے ہیں۔

امام زمانہ علیہ السلام کی ذاتِ گرامی میں اس الٰہی محبت کا ایک نہایت روشن نمونہ خود حضرت کے اس بیان میں جلوہ گر ہے: «إِنَّهُ أُنْهِی إِلَی ارْتِیابُ جَمَاعَه مِنْکُمْ فِی الدِّینِ وَ مَا دَخَلَهُمْ مِنَ الشَّکِّ وَ الْحَیرَه فِی وُلَاه أَمْرِهِمْ فَغَمَّنَا ذَلِکَ لَکُمْ لَا لَنَا وَ سَأَوْنَا فِیکُمْ لَا فِینَا لِأَنَّ اللَّهَ مَعَنَا فَلَا فَاقَه بِنَا إِلَی غَیرِه‏.»

(بحارالانوار، ج ۵۳، ص ۱۷۸)

ترجمہ:

مجھے خبر پہنچی ہے کہ تم میں سے ایک گروہ دین کے بارے میں تردید کا شکار ہو گیا ہے اور اپنے اولیاءِ امر کے بارے میں شک اور حیرت میں مبتلا ہو چکا ہے۔ یہ بات ہمیں رنجیدہ کر گئی، مگر تمہاری خاطر، نہ کہ اپنی خاطر؛ اور یہ غم ہمیں تمہارے لیے لاحق ہوا، نہ کہ ہماری اپنی وجہ سے، کیونکہ اللہ ہمارے ساتھ ہے اور اس کی موجودگی میں ہمیں کسی اور کی حاجت نہیں۔

جاری۔۔۔

کتاب «نگینِ آفرینش» سے ماخوذ، (معمولی ترمیم کے ساتھ)

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha