منگل 6 جنوری 2026 - 21:42
پاکستان کے اہلِ سنت عالمِ دین اور ریسرچ اسکالر کی گرفتاری، فوری رہائی کا پُرزور مطالبہ

حوزہ/ پاکستان کے اہلِ سنت عالمِ دین اور ریسرچ اسکالر مولوی محمد یاسین قادری کی گرفتاری سنی و شیعہ علمائے کرام سمیت دینی و علمی حلقوں میں گہرے صدمے اور تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ علماء نے اس اقدام کو نہ صرف افسوسناک قرار دیا بلکہ فوری رہائی کا پُرزور مطالبہ بھی کیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے اہلِ سنت عالمِ دین اور ریسرچ اسکالر مولوی محمد یاسین قادری کی گرفتاری سنی و شیعہ علمائے کرام سمیت دینی و علمی حلقوں میں گہرے صدمے اور تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ علماء نے اس اقدام کو نہ صرف افسوسناک قرار دیا بلکہ فوری رہائی کا پُرزور مطالبہ بھی کیا ہے۔

سنی و شیعہ علمائے کرام کا کہنا ہے کہ مولوی محمد یاسین قادری اپنی زندگی علمِ دین کی خدمت، تحقیق، تصنیف و تالیف اور امتِ مسلمہ میں اتحاد و ہم آہنگی کے فروغ کے لیے وقف کر چکے ہیں۔ آپ نے ہمیشہ شدت پسندی، نفرت اور انتشار کی مخالفت کی اور دینِ اسلام کی اصل روح یعنی امن، محبت، برداشت اور باہمی احترام کو اجاگر کیا۔

علمائے کرام نے مزید کہا کہ مولانا محمد یاسین قادری کا دامن کسی غیر قانونی یا ریاست مخالف سرگرمی سے پاک ہے اور ان کی گرفتاری نہ صرف ان کے شاگردوں اور چاہنے والوں کے لیے صدمہ ہے بلکہ علمی و دینی حلقوں میں اضطراب بھی پیدا ہوا ہے۔

سنی و شیعہ علما نے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ مولانا محمد یاسین قادری کی گرفتاری کا غیر جانبدارانہ، شفاف اور فوری جائزہ لیا جائے اور ایک بے گناہ عالمِ دین کو فوراً رہا کیا جائے تاکہ وہ دینِ اسلام کی خدمت اور اصلاحِ معاشرہ کا فریضہ جاری رکھ سکیں۔

علماء نے واضح کیا کہ معاشرے میں علماء کرام فکری سرمایہ ہیں، ان کی عزت، آزادی اور تحفظ معاشرتی استحکام اور مستقبل کے لیے نہایت اہم ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ حکامِ بالا اس حساس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے مولانا محمد یاسین قادری کی فوری رہائی کو یقینی بنائیں گے اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کریں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha