منگل 20 جنوری 2026 - 16:25
ایران کی موجودہ وضعیت اور طلاب کا جہادِ تبیین اور معاشرے میں اميد پيدا کرنے میں رہنما کردار

حوزه / ایک دینی و انقلابي طالب علم کو بيدار اور ذمہ دار نسل ہونے کے ناطے جہادِ تبیین، دینی و قومی شناخت کو مضبوط بنانے اور معاشرے میں اميد پيدا کرنے میں رہنما کردار ادا کرنا چاہیے۔ یہ جہاد نہ صرف آج کی صورت حال کو بدلنے کے لیے بلکہ ایک آزاد، منصفانہ اور خودمختار مستقبل کو يقینی بنانے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

تحریر: حجت الاسلام باقری راد

حوزه نیوز ایجنسی | جہادِ تبیین، دینی و قومی شناخت کو مضبوط بنانے اور معاشرے میں اميد پيدا کرنے کے سلسلہ میں یہ ذمہ داری نہ صرف موجودہ معاشرتی صورت حال کی اصلاح کے لیے ضروری ہے بلکہ دینی و قومی شناخت، انصاف اور مستقبل کے تحفظ کے لیے بھی ضروری ہے۔

ايران کی موجودہ شرائط کو دیکھتے ہوئے سياسي، معاشی اور سماجی صورت حال کا تجزيہ يہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ ملک متعدد چيلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔

ان چيلنجز میں بين الاقوامی پابنديوں میں اضافہ، اندرونی معيشت کا کمزور ہونا، قومی کرنسی کی قدر میں گراوٹ، بے روزگاری اور لوگوں کا معاشرتی زندگي میں سخت شرائط کا سامنا وغیرہ شامل ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اسرائيل کی جانب سے ایران میں عدم تحفظ کا پروپیگنڈہ، انقلاب مخالف افکار کو پھيلانے اور خانہ جنگی پيدا کرنے کی سیاسی اور نفسیاتی کوششيں بشمول ميڈيائی سرگرميوں اور نوجوان نسل کے ذريعے، واضح طور پر دکھائی دیتی ہيں۔

تاہم، ايرانی عوام نے سخت مشکلات کے باوجود يہ ثابت کيا ہے کہ ان میں بيداری، قومی غيرت اور انقلابی اقدار کے ساتھ وفاداری اب بھی زندہ ہے۔

12 جنوری 2026ء کو ہونے والے مظاہروں میں عوام کی شاندار شرکت، قومی جذبات کی پائيداری اور بيرونی و اندرونی دباؤ کے خلاف مزاحمت کی علامت ہے۔

غربت اور معاشی بحران کے باوجود، یہ عوامی شرکت اس قوم کی اپنی شناخت اور انقلابی اقدار کے دفاع کی صلاحيت کو ظاہر کرتی ہے۔

ان شرائط ميں جہاد تبیین، معاشرے میں اميد کی تخليق اور حق طلبی ميں ایک انقلابي طالب علم کی ذمہ داری بہت اہم ہے۔ یہ ذمہ داری مندرجہ ذیل پہلوؤں پر مشتمل ہے:

  • مسائل کی بنيادی وجوہات کو بیان کرنا: معاشی، سياسي اور سماجی مسائل کا علمی اور حقيقت پر مبنی تجزيہ، بشمول بين الاقوامی پاليسيوں، اندرونی بدعنوانی اور نامناسب معاشی پاليسيوں کا کردار وغیرہ۔
  • معاشرے میں اميد کی تخليق کرنا: اميد افزا حل پيش کرکے اور انسانی، قومی اور مذہبی اقدار پر زور دے کر عوام کے درميان اميد کا جذبہ پيدا کرنا۔
  • ذمہ داران سے حق طلبی کرنا: سماجی انصاف اور جوابدہی کے بیان کے ذريعے، ذمہ داران کو اصلاحات اور انصاف پر مبنی قوانين کے نفاذ کی طرف مائل کرنا۔
  • انقلاب مخالف افکار کا جواب دينا: اسلام اور انقلاب پر مبنی علمی نقطہ نظر پيش کر کے دشمنوں کی نفسیاتی سرگرميوں کے اثر کو کمزور کرنا۔

لہذا، ایک دینی و انقلابي طالب علم کو بيدار اور ذمہ دار نسل ہونے کے ناطے جہادِ تبیین، دینی و قومی شناخت کو مضبوط بنانے اور معاشرے میں اميد پيدا کرنے میں رہنما کردار ادا کرنا چاہیے۔ یہ جہاد نہ صرف آج کی صورت حال کو بدلنے کے لیے بلکہ ایک آزاد، منصفانہ اور خودمختار مستقبل کو يقینی بنانے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha