بدھ 21 جنوری 2026 - 15:46
مناجات شعبانیہ، تمام ائمہ (ع) کی مناجات ہے

حوزہ / امام خمینی (رح) جو خود ایک کامل عارف کی بہترین مثال تھے اور جنہوں نے اپنے نفس کو دنیا کی ہلاکتوں سے باہر کھینچ لیا تھا، مختلف مواقع پر عوام اور ذمہ داران سے ملاقاتوں میں وہ انہیں دعا پڑھنے اور ائمہ طاہرین (ع) سے منقول دعاؤں میں غور و فکر کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حضرت امام خمینی (رح) مناجات شعبانیہ کی فضیلت و اہمیت کے بارے میں فرمایا کرتے تھے:

"وہ دعا و مناجات جو ماہ شعبان میں ذکر ہوئی ہے، میرے خیال میں شاید ہی کسی اور دعا کے متعلق یہ بات کہی گئی ہو کہ یہ دعا تمام ائمہ (ع) سے متعلق ہے"۔

یہ دعائے شعبان، مناجات شعبانیہ، تمام ائمہ (ع) کی مناجات ہے اور اس میں بہت سے مسائل ہیں، بہت سی معرفتیں ہیں اور اس ادب کا بیان ہے کہ انسان کو خدائے تبارک و تعالیٰ کے ساتھ کیسے مناجات کرنی چاہیے۔

ہم ان معارف سے غافل ہیں جو ائمہ (ع) ہمیں سکھانا چاہتے ہیں چونکہ مسئلہ یہ ہے کہ وہ خدا کے سامنے کھڑے ہوئے، اور وہ جانتے ہیں کہ وہ کس باعظمت ہستی کے سامنے کھڑے ہیں، انہیں خدائے تبارک و تعالیٰ کی معرفت حاصل ہے اور وہ جانتے ہیں کہ کیا کرنا ہے۔

مناجات شعبانیہ ان مناجات میں سے ہے کہ اگر کوئی دل سوختہ انسان، کوئی دل سوختہ عارف ( ان زبانی کلامی عارفوں کی طرح نہیں) اس کی دوسروں کے لیے شرح کرنا چاہے تو بہت قیمتی ہے اور شرح کی محتاج ہے... (صحیفہ امام، جلد 21، صفحہ 2)

کیا آپ نے مناجات «شعبانیہ» پڑھی ہے؟ ضرور پڑھیں جناب! مناجات شعبانیہ ان مناجات میں سے ہے کہ اگر انسان اس کا مطالعہ کرے اور اس میں غور کرے تو انسان کو ایک خاص مقام تک پہنچا دیتی ہے۔

جس نے یہ مناجات کی ہے اور روایت کے مطابق تمام ائمہ علیہم السلام بھی پڑھتے تھے، یہ وہ لوگ تھے جو ہر چیز سے بے نیاز تھے۔ اس کے باوجود وہ اس طرح کی مناجات کرتے تھے کیونکہ وہ خود بین نہیں تھے۔

وہ جو کچھ بھی تھے، ایسے کبھی نہیں تھے کہ وہ اپنے آپ کو دیکھیں کہ میں امام صادق (ع) ہوں، نہیں، امام صادق (ع) اس شخص کی طرح مناجات کرتے ہیں جوگویا گناہ میں ڈوبا ہوا ہے کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ وہ خود کچھ نہیں ہے اور جو کچھ ہے وہ نقص ہے اور جو کچھ ہے وہ اس (خدا) کی طرف سے ہے۔

ہر کمال اسی کی طرف سے ہے، اس کے پاس خود کچھ نہیں ہے، انبیاء کے پاس بھی کچھ نہیں تھا۔ سب خود سے کچھ بھی نہیں ہیں اور وہی سب کچھ ہے، سب اسی کے پیچھے ہیں، سب فطرتیں اسی کے پیچھے ہیں لیکن چونکہ ہم محجوب ہیں، ہم نہیں سمجھتے کہ ہم اسی کے پیچھے ہیں؛ جو لوگ سمجھتے ہیں، وہ بے نیاز ہو جاتے ہیں اور اسی معنی کی طرف چلے جاتے ہیں۔

یہ کمال انقطاع جو انہوں نے چاہا، کمال انقطاع یہی ہے کہ ان تمام چیزوں سے جو موجود ہیں، اس کی اصل جدا ہو جائے۔ «إِنَّهُ کَانَ ظَلُومًا جَهُولًا» جو آیت شریفہ میں آیا ہے کہ «إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَی السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَیْنَ»۔

پھر فرماتا ہے: «إِنَّهُ کَانَ ظَلُومًا جَهُولًا» بعض کہتے ہیں کہ «ظَلُومًا جَهُولًا» سب سے بڑا وصف ہے جو خدا نے انسان کے لیے کیا ہے؛ «ظَلُومًا» کہ اس نے تمام بتوں کو توڑ دیا اور ہر چیز کو توڑ دیا؛ «جَهُولًا» اس لیے کہ وہ کسی چیز کی طرف توجہ نہیں دیتا اور کسی چیز کو اس کی طرف متوجہ نہیں کرتا، وہ ہر چیز سے غافل ہے۔

ہم اس طرح نہیں ہو سکتے، ہم امانت دار بھی نہیں ہو سکتے لیکن ہم اس راہ پر ہو سکتے ہیں۔ (صحیفہ امام؛ جلد 19، صفحہ 253)

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha