جمعہ 23 جنوری 2026 - 07:10
ظہور کا حتمی مقصد فتنہ کا خاتمہ اور دنیا میں قانونِ الٰہی کا قیام ہے

حوزہ / مرکز فقہی ائمہ اطہار (ع) کے سربراہ نے کہا: دین کا حتمی مقصد پوری دنیا میں فتنہ کا خاتمہ اور الٰہی احکام کو دنیا میں نافذ کرنا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ محمدجواد فاضل لنکرانی نے تیسری تقریب تکریم و استقبال عشرہ مبارک مہدویت میں گفتگو کے دوران کہا: صدرِ اسلام اور دور غیبت میں مفسرین اور فقہا کے درمیان جہاد کی دفاعی اور ابتدائی اقسام میں تقسیم کے معاملے پر بحث ہوتی رہی ہے۔ گذشتہ چند دہائیوں میں کچھ لوگ سامنے آئے ہیں جو کہتے ہیں کہ جہادِ ابتدائی نام کی کوئی چیز نہیں ہے جبکہ قرآن مجید کی متعدد آیات جہاد ابتدائی کے موضوع پر روشنی ڈالتی ہیں۔

مرکز فقہی ائمہ اطہار (ع) کے سربراہ نے سورہ انفال کی آیت نمبر 39 "وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّیٰ لَا تَکُونَ فِتْنَةٌ وَیَکُونَ الدِّینُ کُلُّهُ لِلَّهِ ۚ فَإِنِ انْتَهَوْا فَإِنَّ اللَّهَ بِمَا یَعْمَلُونَ بَصِیرٌ" کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس آیت میں مشرکین کے ساتھ جہاد کے دو مقاصد ذکر کیے گئے ہیں۔ البتہ فقہ میں واضح کیا گیا ہے کہ جہاد ابتدائی دعوت پر منحصر ہے یعنی جہاد شروع کرنے سے پہلے مسلمانوں کو کافروں کو اسلام کی دعوت دینی چاہیے۔ ابتدائی جہاد کی اپنی خاص شرائط ہیں جو اپنے مقام پر بیان ہوئی ہیں۔

آیت اللہ فاضل لنکرانی نے مذکورہ آیت میں لفظ "فتنہ" کی تفسیر بیان کرتے ہوئے مزید کہا: اس آیت میں پہلا مقصد "حتی لا تکون فتنة" ہے۔ لفظ "فتنہ" قرآن میں نو معانی میں استعمال ہوا ہے: جلانے اور جل جانے کے معنوں میں، عذاب اور آفت کے معنوں میں، فریب کے معنوں میں، گمراہ کرنے کے معنوں میں، آزمائش کے معنوں میں لیکن اس آیت میں "فتنہ" سے مراد وہی شرک اور فساد ہے جو دینِ خدا کے پھیلاؤ میں رکاوٹ بنتا ہے۔

جامعہ مدرسین حوزہ کے رکن نے امام زمان (عج) کے ذریعے دین کے قیام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ظہور کا حتمی مقصد فتنہ کا خاتمہ اور دنیا میں قانون الٰہی کا قیام ہے۔ قتال اور جہاد کا مقصد آخرکار ان دو چیزوں کا حصول ہے: پہلا "لا تکون فتنه" کہ فتنہ اور شرک کا خاتمہ ہو اور توحید اس کی جگہ لے لے، اور دوسرا "یکون الدین کل لله" کہ دین مکمل طور پر اللہ کے لیے ہو جائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha