جمعرات 5 فروری 2026 - 21:10
امام مہدیؑ صرف مسلمانوں کے ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے منجی ہیں: مولانا شیخ حمید جلالہ

حوزہ/ تنزانیہ میں ادارہ بلال کے زیرِ اہتمام امام مہدیؑ کے پرچم کشائی کی پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں شیعہ برادری کے سربراہ مولانا شیخ حمید جلالہ سمیت علما، دینی شخصیات اور بڑی تعداد میں مؤمنین نے شرکت کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تنزانیہ میں ادارہ بلال کے زیرِ اہتمام امام مہدیؑ کے پرچم کشائی کی پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں جمعیتِ شیعیان تنزانیہ (TIC) کے سربراہ مولانا شیخ حمید جلالہ نے خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر مختلف اداروں اور تنظیموں سے تعلق رکھنے والے علما، مشائخ اور مؤمنین موجود تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا شیخ حمید جلالہ نے تاریخِ انسانی اور بشریت کے مستقبل میں امام مہدیؑ کے مقام کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ امام مہدیؑ صرف مسلمانوں کے ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے نجات دینے والے ہیں، خواہ ان کا تعلق کسی بھی دین، مذہب یا قوم سے ہو۔

انہوں نے کہا: امام مہدیؑ امتِ مسلمہ اور تمام انسانیت کے نجات دینے والے ہیں، اور آخری منجی پر ایمان ایک ایسا عقیدہ ہے جس میں دنیا کے بہت سے لوگ مشترک ہیں۔

امام زمانؑ کے ساتھ پانچ بنیادی عہد

مولانا جلالہ نے اپنے خطاب میں بتایا کہ اہلِ بیتؑ کے پیروکاروں کے امام زمانؑ کے ساتھ پانچ بنیادی عہد ہیں، جن پر وہ ظہور تک قائم رہیں گے۔

پہلا عہد: اہلِ بیتؑ کے پیروکاروں کے درمیان اتحاد

انہوں نے کہا کہ شیعوں کے درمیان اتحاد ترقی اور طاقت کی بنیاد ہے، جبکہ اختلاف، نفرت اور تفرقہ معاشرے کو کمزور کر دیتا ہے۔ ہر فرد کو چاہیے کہ باہمی تعاون، برداشت اور دینی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دے۔

دوسرا عہد: تنزانیہ کے تمام مسلمانوں میں وحدت

انہوں نے زور دیا کہ تمام مسلمان مسلکی اختلافات سے بالاتر ہو کر اتحاد قائم رکھیں، کیونکہ اسلام اتحاد اور بھائی چارے کا دین ہے۔ خیر کے کاموں، سماجی ترقی اور اسلام کے وقار کے تحفظ میں باہمی تعاون ضروری ہے۔

تیسرا عہد: قومی وحدت کا تحفظ

مولانا جلالہ نے کہا کہ اہلِ بیتؑ کے پیروکاروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام شہریوں کے درمیان، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب یا قوم سے ہو، قومی یکجہتی کو مضبوط بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ امن و اتحاد تنزانیہ کی پہچان ہے اور اس کا تحفظ اسلامی اقدار کا حصہ ہے۔

چوتھا عہد: تحمل اور پرامن بقائے باہمی

انہوں نے صبر، احترام اور مثبت مکالمے کو اختلافات کے حل کا بنیادی ذریعہ قرار دیا اور کہا کہ بردبار معاشرہ ہی امام مہدیؑ کے قائم کردہ نظامِ عدل کے قریب ہوتا ہے۔

پانچواں عہد: امن، سکون اور عدل کا قیام

انہوں نے کہا کہ انصاف کا فروغ، ظلم کے خلاف جدوجہد اور کمزور طبقات کا خیال رکھنا، امام زمانؑ کے استقبال کی حقیقی تیاری ہے۔ حقیقی امن صرف باتوں سے نہیں بلکہ عملی عدل سے قائم ہوتا ہے۔

اختتامی دعا اور اظہارِ تشکر

تقریب کے اختتام پر مولانا شیخ حمید جلالہ نے تمام شرکا اور ادارہ بلال کے علما و منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں انہوں نے اجتماعی دعا کروائی اور اللہ تعالیٰ سے امام زمانؑ کے ظہور میں تعجیل، معاشرے میں امن اور باہمی اتحاد کے استحکام کی دعا کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha