حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدرسہ علمیہ نرجسیہ سیرجان کی مدیر محترمہ خانم حبیبہ شاکری نے اس مدرسے میں منعقدہ درسِ اخلاق میں علم اور تعلیم کے بلند مقام پر زور دیتے ہوئے سورۂ مجادلہ کی آیت نمبر 11 کے اس حصے "یَرْفَعِ اللهُ الَّذینَ آمَنُوا مِنکُم وَالَّذینَ أُوتُوا العِلمَ دَرَجاتٍ" کی طرف اشارہ کیا اور آیت کے مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: اللہ تعالیٰ خود تمہیں بلند کرتا ہے یہاں تک کہ تم تصور بھی نہیں کر سکتے؛ نہ مال کے ذریعہ اور نہ ڈگری کے ذریعہ بلکہ اس علم کے ذریعے جو آپ خدا کے لیے حاصل کرتے ہو۔
انہوں نے طالب علمی کو ایک منفرد اور ممتاز راستہ قرار دیتے ہوئے کہا: جو راہ آپ نے منتخب کی ہے وہ عام نہیں ہے؛ آپ لوگ کائنات کے نور کو سمیٹنے کے راستے پر گامزن ہو۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق "جو شخص علم کے حصول کے لیے کسی راستے پر چلتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے" یعنی آپ ابھی اسی وقت جنت کے راستے پر ہو نہ کہ فارغ التحصیل ہونے کے بعد۔
محترمہ خانم شاکری نے طالباتِ حوزہ کی بعض مشکلات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ایک طالبۂ علم کو درس اور علمی مباحث کے ساتھ ساتھ گھریلو ذمہ داریاں خاندان کی توقعات اور روحانی دباؤ بھی برداشت کرنا پڑتا ہے لیکن جو قدم بھی وہ خدا کے لیے اٹھاتی ہے وہ بارگاہِ الٰہی میں ثبت ہو جاتا ہے۔
مدرسہ علمیہ نرجسیہ سیرجان کی مدیر نے تاریخِ اسلام کی عظیم خواتین کے کردار کو یاد دلاتے ہوئے کہا: آپ طالبات حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام اور حضرت زینب علیہا السلام کے راستے کی تسلسل ہو؛ حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام اسلام پہلی خاتون معلمہ اور حضرت زینب علیہا السلام تاریخ کی پہلی عظیم مبلغہ ہیں۔ آج کے معاشرے کو طالباتِ حوزہ کی ضرورت ہے کیونکہ آج کی دنیا شبہات اور فکری انتشار سے بھری ہوئی ہے۔









آپ کا تبصرہ