حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجة الاسلام والمسلمین سید عباس الموسوی نے جمعہ کی نماز کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد میں حالیہ بم دھماکے اور موجودہ حالات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
انہوں نے قرآن مجید کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا: "خانہ خدا میں خدا کے ذکر کرنے کی ممانعت کرنے والوں سے ظالم ترین کوئی نہیں۔"
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ حملوں میں محراب عبادت میں شہید ہونے والے افراد مسلمان نہیں بلکہ کافر تھے، اور حملہ آور بھی مسلمان تھے، جو نعرہ تکبیر کے ساتھ معصوم افراد کو قتل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعات کبھی بھی مملکت پاکستان کے خیرخواہ عناصر کی ایما پر نہیں ہو رہے بلکہ ایک چھوٹے تکفیری گروہ کا کام ہے، جو بیرونی ایجنڈے کے تحت فرقہ وارانہ فسادات کو بھڑکانا چاہتے ہیں۔
حجة الاسلام الموسوی نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ جذبات میں آ کر نہیں بلکہ ٹھنڈے دماغ سے حالات کا تجزیہ کریں اور کہا کہ ملت کے نوجوان اب باشعور ہو چکے ہیں اور کسی قسم کے فرقہ وارانہ فریب میں نہیں آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ حملوں کے بعد اہل سنت، اہل حدیث اور دیگر مسالک کے علماء اور روشن خیال افراد نے اہل تشیع کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا، جس سے یہ واضح ہوا کہ حملہ آور نہ پاکستانی ہیں اور نہ ہی مسلمان کہلانے کے لائق۔
خطیب جمعہ نے حکومت پاکستان اور اعلیٰ ریاستی اداروں سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ ایسے عناصر کے خلاف سخت اقدامات کریں اور اہل تشیع کے لیے فل پروف سیکیورٹی فراہم کریں، خصوصاً رمضان المبارک میں ہونے والی عبادات اور اجتماعات کے دوران۔
انہوں نے شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان نوجوانوں نے کربلا سے سبق لے کر نماز اور عبادات کے پابند رہتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں۔ خاص طور پر شہید عون عباس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے ہزاروں نمازیوں کی جان بچائی اور اپنے کردار سے عباس کے ماننے والوں کی مثال قائم کی۔
خطیب جمعہ نے شہداء کے لواحقین کی صبر و استقامت کو بھی قابل رشک قرار دیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تمام شہداء کو شہداء کربلا کے ساتھ محشور فرمائے۔
حجة الاسلام الموسوی نے عالمی حالات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ امریکا اور اس کے اتحادی ہیں، جنہوں نے غزہ، فلسطین اور لبنان میں مسلمانوں کا خون بہایا اور ایران کی جانب میلی آنکھ سے دیکھ رہے ہیں، تاہم رہبر معظم علی خامنہ ای مستضعفین جہاں کی حمایت کر رہے ہیں۔
آخر میں ملک میں اتحاد بین المسلمین کے فروغ پر زور دیا اور تمام مسالک کے علماء سے اپیل کی کہ وہ دہشتگردی اور ملک دشمن عناصر کے خلاف ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں۔









آپ کا تبصرہ