ہفتہ 14 فروری 2026 - 14:31
انقلاب کی آنچ میں جلتا ہوا بعل

حوزہ/ تاریخ کا سب سے بڑا فریب یہ ہے کہ وہ اپنے جرائم کو وقت کے ملبے میں چھپا لیتی ہے اور انسان ہر نئی صدی میں یہی سمجھ بیٹھتا ہے کہ ظلم شاید اب تہذیب سیکھ چکا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ظلم نہ کبھی بوڑھا ہوتا ہے نہ مہذب؛ وہ صرف اپنی زبان اور لباس بدلتا ہے۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی I تاریخ کا سب سے بڑا فریب یہ ہے کہ وہ اپنے جرائم کو وقت کے ملبے میں چھپا لیتی ہے اور انسان ہر نئی صدی میں یہی سمجھ بیٹھتا ہے کہ ظلم شاید اب تہذیب سیکھ چکا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ظلم نہ کبھی بوڑھا ہوتا ہے نہ مہذب؛ وہ صرف اپنی زبان اور لباس بدلتا ہے۔ کبھی وہ مذہب کے نام پر بولتا ہے، کبھی قانون کے نام پر، اور کبھی انسانیت کے نام پر۔ جو قومیں تاریخ کو صرف ماضی سمجھ لیتی ہیں، وہ حال میں اسی تاریخ کے ہاتھوں روند دی جاتی ہیں۔

🔹بعل: دیوتا نہیں، ذہنیت:

بعل محض ایک قدیم بت نہ تھا، وہ ایک نظامِ فکر تھا—ایسا نظام جو طاقت کو مقدس، ظلم کو ناگزیر اور قربانی کو فخر بنا دیتا تھا۔ اس کی عبادت گاہ میں آگ جلتی تھی اور اس آگ میں معصوموں کے خواب راکھ ہوتے تھے۔ بعل کی اصل قباحت اس کا پتھر ہونا نہیں تھی، بلکہ وہ فلسفہ نظریہ اور کردار تھا جو کہتا تھا کہ طاقت حق پیدا کرتی ہے اور کمزور کی چیخ محض شور ہے۔ جب بھی کسی سماج میں یہ سوچ غالب آ جائے کہ مقصد سب کچھ جائز کر دیتا ہے، سمجھ لیجیے کہ بعل پھر زندہ ہو گیا ہے، خواہ اس کا مجسمہ سلامت ہو یا نہ ہو۔

🔹جدید دنیا میں بعل کی واپسی:

آج بعل کسی پرستش گاہ میں نہیں، وہ عالمی سیاست کے ایوانوں میں بیٹھا ہے؛ اس کے پجاری قربان گاہیں بدل چکے ہیں، مگر قربانی اب بھی کمزور ہی بنتا ہے۔ جب شہروں پر بم گرتے ہیں اور بچوں کی لاشیں اعداد میں تولی جاتی ہیں، جب نسل کشی کو دفاع اور جارحیت کو حکمتِ عملی کہا جاتا ہے، تو یہ وہی قدیم منطق ہے جو کبھی بعل کے پجاری دہراتے تھے۔ اس منطق کے علمبردار آج بھی موجود ہیں—فرق صرف یہ ہے کہ ان کے ہاتھ میں مشعل نہیں، مائیک ہے؛ خنجر نہیں، قرارداد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی زبانِ طاقت اور بنیامین نیتن یاہو کی جنگی اخلاقیات ایک ہی سکہ کے دو رخ دکھائی دیتی ہیں: ایک شور مچاتا ہے، دوسرا بٹن دباتا ہے—اور لاشیں دونوں صورتوں میں وہیں گرتی ہیں جہاں آواز نہیں پہنچتی۔

ایران نے جب اپنے یومِ آزادی—انقلاب کی فتح کے دن—بعل کے مجسمے کو آگ لگائی، تو یہ محض ایک نمائشی عمل نہ تھا بلکہ تاریخ کے ساتھ ایک بامعنی اور شعوری مکالمہ تھا؛ یہ اعلان تھا کہ آزادی صرف جھنڈا لہرانے یا رسم ادا کرنے کا نام نہیں، بلکہ اس ذہنیت سے نجات کا نام ہے جو انسان کو ایندھن، لاش کو عدد اور ظلم کو ضرورت سمجھتی ہے۔ اس دن جلایا جانے والا مجسمہ دراصل ایک فکری موقف تھا کہ جس انقلاب نے بیرونی غلامی کی زنجیریں توڑیں، وہ فکری غلامی اور تہذیبی مرعوبیت کو بھی قبول نہیں کرتا؛ اور یہ کہ جس لمحے کوئی قوم اپنی خودی کو پہچان لیتی ہے، اسی لمحے وہ باطل کی علامتوں کو شناخت کر کے بے دریغ مسترد بھی کر دیتی ہے۔ اس اقدام میں ایرانی عوام کی دور رس نگاہیں اور زندہ شعور پوری آب و تاب سے جھلکتا ہے—وہ شعور جو لمحاتی جذبات کے بجائے تاریخ کے دھارے کو دیکھتا ہے، جو علامت اور حقیقت کے فرق کو سمجھتا ہے، اور جو جانتا ہے کہ بعض اوقات ایک جلتا ہوا مجسمہ ہزار تقریروں سے زیادہ سچ بولتا ہے۔ یہ بصیرت اس بات کی دلیل ہے کہ ایرانی عوام محض واقعات پر ردِعمل دینے والی ہجوم نہیں، بلکہ وہ ایک فکری قوم ہیں جو اپنے جشنِ آزادی کو بھی پیغام، معنی اور ذمہ داری کے ساتھ مناتی ہے، اور یہی شعور انہیں وقتی نعروں کے بجائے تاریخ ساز موقف عطا کرتا ہے۔

🔹غزہ: جدید قربان گاہ:

قدیم زمانے میں بعل کے سامنے آگ جلتی تھی، آج غزہ میں عمارتیں جلتی ہیں۔ منظر بدلا ہے، فلسفہ نہیں۔ تب قربانی مذہبی کہلاتی تھی، آج “سکیورٹی” کہلاتی ہے۔ تب چیخیں پرستش گاہ کی دیواروں میں دب جاتی تھیں، آج میڈیا کے شور میں۔ ایران کی اس علامتی آگ میں یہی طنز پوشیدہ تھا کہ اگر علامتوں کو نہ جلایا جائے تو حقیقتیں جلتی رہتی ہیں؛ اگر باطل کو اس کے نام سے نہ پکارا جائے تو وہ قانون، تہذیب اور امن کے لبادے میں سب کچھ راکھ کر دیتا ہے۔

یوں بعل کو جلانا کسی اساطیری دشمن کے خلاف جذباتی اقدام نہیں ہے، بلکہ اس تسلسلِ ظلم کے خلاف اعلان ہے جو صدیوں سے چل رہا ہے۔ یہ یاد دہانی ہے کہ تاریخ خود کو دہراتی نہیں، انسان دہراتا ہے—اور جو قومیں وقت پر پہچان لیں، وہی آزادی کو محض دن نہیں، منہج بنا لیتی ہیں۔ اس آگ نے کچھ لوگوں کو اس لیے تکلیف دی کہ اس میں انہیں آئینہ دکھائی دیا؛ اور آئینہ ہمیشہ سچ بولتا ہے، چاہے سچ کتنا ہی جلتا ہوا کیوں نہ ہو۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha