حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انڈونیشیا کے مختلف شہروں میں سینکڑوں شہریوں نے فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے پُرامن اور منظم ریلیاں نکالیں اور مبینہ طور پر امریکی صدر سے منسوب ’’Board of Peace (BoP)‘‘ اقدام میں انڈونیشیا کی ممکنہ شمولیت پر تشویش کا اظہار کیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ مظاہرے ملک کے اہم شہروں میں منعقد ہوئے جن میں طلبہ، سماجی رہنما، علماء اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔ شرکا نے فلسطین کے پرچم اٹھا رکھے تھے اور انصاف و انسانی حقوق کے حق میں نعرے درج پلے کارڈز تھامے ہوئے تھے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ انڈونیشیا کی تاریخی شناخت اور اس کے 1945ء کے آئین کی بنیاد نوآبادیات اور ہر قسم کے ظلم کی واضح مخالفت پر قائم ہے، لہٰذا کوئی بھی ایسی پالیسی جو ملک کے اصولی مؤقف کو کمزور کرے، اس پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی ہونی چاہیے۔ مقررین نے زور دیا کہ فلسطین کے ساتھ یکجہتی انسانی اقدار اور آزادی کے عالمی حق کا تقاضہ ہے۔
شرکا نے غزہ میں جاری شہری ہلاکتوں پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ انسانی تحفظ کو یقینی بنائے اور اس تنازع کے منصفانہ حل کے لیے عملی اقدامات کرے۔
منتظمین نے واضح کیا کہ یہ تمام سرگرمیاں مکمل طور پر پُرامن تھیں اور ان کا مقصد فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی حمایت میں انڈونیشیا کے دیرینہ سفارتی مؤقف کی تجدید تھا۔ ریلیوں کا اختتام عالمی امن کی دعا کے ساتھ ہوا، جبکہ مظاہرین نے کہا کہ ان کا پیغام کسی ملک سے دشمنی نہیں بلکہ انصاف، قومی خودمختاری اور انسانی وقار کے اصولوں پر مبنی ہے۔









آپ کا تبصرہ