پیر 16 فروری 2026 - 18:40
امن کے دیس میں نفرت کی چنگاری، امام بارگاہ نذرِ آتش، حکومت سے فیصلہ کن اقدام کا مطالبہ

حوزہ/ ہندوستان کے معروف عالمِ دین سید منظور عالم جعفری سرسوی نے اتر پردیش کے ضلع فرخ آباد میں امام بارگاہ اور تعزیوں کو نذرِ آتش کیے جانے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فرخ آباد، اتر پردیش/ ہندوستان کے معروف عالمِ دین سید منظور عالم جعفری سرسوی نے اتر پردیش کے ضلع فرخ آباد میں امام بارگاہ اور تعزیوں کو نذرِ آتش کیے جانے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ہندوستان صدیوں سے رواداری، باہمی احترام اور گنگا جمنی تہذیب کی علامت رہا ہے، جہاں آئین ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور مذہبی مقامات کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ ایسے میں مذہبی مقامات کو نشانہ بنانا نہایت افسوسناک اور تشویشناک عمل ہے، جو نہ صرف ایک مخصوص طبقے کے جذبات کو مجروح کرتا ہے بلکہ ملک کی مشترکہ تہذیبی روایت پر بھی حملہ ہے۔

مولانا سید منظور عالم جعفری سرسوی کے مطابق یہ واقعہ ریاستی نظم و نسق کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے اور فرقہ وارانہ عناصر کی بے لگامی کا ثبوت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایسے عناصر کو بروقت قابو نہ کیا گیا تو اس کے سنگین سماجی اور قومی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان وہ ملک ہے جہاں حضرت امام حسینؑ کی عزاداری مختلف مذاہب کے لوگ احترام کے ساتھ انجام دیتے ہیں اور حسینی برہمنوں کی روایت اس بات کی دلیل ہے کہ واقعۂ کربلا کا پیغام پوری انسانیت کے لیے ہے۔ انہوں نے مہاتما گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گاندھی جی نے بھی امام حسینؑ کے واقعے سے سبق لیتے ہوئے عدم تشدد اور حق و انصاف کے اصولوں کو اپنایا تھا۔

مولانا سید منظور عالم جعفری سرسوی نے حکومتِ اتر پردیش سے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کو فوری گرفتار کیا جائے، فرقہ وارانہ طاقتوں کے خلاف مستقل اور مؤثر حکمتِ عملی اختیار کی جائے اور مذہبی مقامات کے تحفظ کے لیے خصوصی حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی اکثریت امن پسند ہے اور نفرت و انتشار پھیلانے والے عناصر کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ایسے عناصر کو قانون کے دائرے میں لا کر سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ کسی کو مذہبی مقامات یا مذہبی جذبات کو نشانہ بنانے کی جرأت نہ ہو سکے۔

آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ملک کو امن و امان کا گہوارہ بنائے رکھے اور عوام کو اتحاد و اخوت کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha