حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ ایران کے میڈیا اور سائبر اسپیس سینٹر کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین رضا رستمی نے اس قومی پروگرام کی اختتامی تقریب، جس میں مؤلفین اور میڈیا کے سرگرم افراد نے شرکت کی، «روایتی لٹریسی» کی اسٹریٹجک اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا: موجودہ حالات میں طلبہ کی شناخت رکھنے والی تنظیموں کی حمایت ایک کلیدی حکمتِ عملی ہے اور دشمن کے میڈیا الگورتھمز کے مقابلے کے لیے طلبہ کو «انسانی میڈیا» کے طور پر فعال کرنا ناگزیر ہے۔
انہوں نے میڈیا کے میدان میں ایک اسٹریٹجک خلا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: دشمن ایک طرف ہمیں اپنے مطلوبہ ماڈل کے مطابق «میڈیا لٹریسی» سیکھنے کی ترغیب دیتا ہے جبکہ دوسری طرف خود بھرپور انداز میں «روایتی لٹریسی» سے فائدہ اٹھاتا ہے مگر اس کا نام تک نہیں لیتا۔ اگر ہم رجوع کریں تو روایتی لٹریسی خصوصاً روایت کو ذہن سازی کے آلے کے طور پر، کے حوالے سے تقریباً کوئی جامع ماخذ یا رہنما اصول موجود نہیں ہے جو چند تحریریں اس عنوان سے لکھی بھی گئی ہیں وہ زیادہ تر «داستانی روایت» تک محدود ہیں نہ کہ «مطلوبہ ذہنیت پیدا کرنے کے لیے حقیقت کے بیان» کے مفہوم میں روایت کو بیان کرتی ہیں۔
حجت الاسلام والمسلمین رستمی نے اس مسئلے کا حل «انسانی میڈیا» کی صلاحیت کے استعمال کو قرار دیتے ہوئے کہا: جب پلیٹ فارمز اپنی اسمارٹ فلٹرنگ کے ذریعے انقلابی مواد کو کنارے لگاتے ہیں تو نجات کا واحد راستہ خود باشعور اور باصلاحیت انسانی قوتوں کا میدان میں آنا ہے۔ حوزہ علمیہ کے پاس الحمد للہ تخلیقی، باصلاحیت اور درد دل رکھنے والے طلبہ کا ایک لشکر موجود ہے اگر انہیں روایت کے ہتھیار سے مسلح کیا جائے تو وہ حوزہ اور انقلاب کے لیے نجات دہندہ ثابت ہو سکتے ہیں اور پلیٹ فارمز کی اسمارٹ فلٹرنگ کو بے اثر بنا سکتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ