حوزہ نیوز ایجنسی |
ترجمہ و اضافات: مولانا سید علی ہاشم عابدی
"وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا" (سورہ آل عمران، آیت 103)
اور اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے پکڑے رہو اور آپس میں تفرقہ نہ پیدا کرو۔
"حبلُ اللہ" سے کیا مراد ہے؟ مفسرین نے مختلف احتمالات بیان کئے ہیں۔ ان میں سے بعض نے اس سے قرآنِ کریم مراد لیا ہے، بعض نے دینِ اسلام کو اس کا مصداق قرار دیا ہے، بعض نے پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو “حبلُ اللہ” کہا ہے، اور بعض دیگر نے امیر المومنین امام علی علیہ السلام اور اُن کی اولاد ائمہ معصومین علیہم السلام کو اس آیت کا مصداق بیان کیا ہے۔
معصومین علیہم السلام کی روایات میں بھی مختلف معانی نقل ہوئے ہیں، لیکن زیادہ تر زور ولایتِ امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام پر دیا گیا ہے۔ ان میں سے چند کی جانب اشارہ مندرجہ ذیل ہیں۔
الف۔ امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا: وَ حَبْلُ اللَّهِ هُوَ الْقُرْآنُ" (الميزان، جلد3، صفحہ 378؛ نور الثقلين، جلد1، صفحہ377، ح 306)
یعنی “حبلُ اللہ” سے مراد قرآنِ کریم ہے۔
ب۔ راوی کا بیان ہے کہ میں نے حضرت باب الحوائج امام موسی کاظم علیہ السلام سے آیت کریمہ "وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا" کے سلسلہ میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: "عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ حَبْلُ اَللَّهِ اَلْمَتِينُ" یعنی علی ابن ابی طالب علیہ السلام اللہ کی مضبوط رسّی ہیں۔ (تفسیر عیاشی، جلد 1، صفحہ 194)
ج۔ سلطان عرب و عجم، عالم آل محمد امام علی رضا علیہ السلام اپنے آبائے طاہرین کے واسطے سے امیر المؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپؑ نے فرمایا: رسول اللہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جو شخص یہ چاہتا ہے کہ کشتی نجات میں سوار ہو، عروۃ الوثقی (مضبوط دستگيرے) کو تھامے اور حبل اللہ المتین (اللہ کی مستحکم رسی) کو پکڑے، اسے چاہیے کہ میرے بعد علی علیہ السلام سے محبت رکھے، ان کے دشمن کو دشمن جانے، اور ان کی اولاد میں سے ائمہ ہدیٰ کی پیروی اور اطاعت کرے۔ بے شک وہ میرے جانشین اور اوصیاء ہیں، میرے بعد اللہ کی مخلوق پر اس کی حجت ہیں، میری امت کے سردار ہیں، اور پرہیزگاروں کو جنت کی طرف لے جانے والے ہیں۔ ان کا لشکر میرا لشکر ہے، اور میرا لشکر اللہ کا لشکر ہے، اور ان کے دشمنوں کا لشکر شیطان کا لشکر ہے۔" (عیون اخبار الرضا علیہ السلام، جلد 1، صفحہ 292)
د۔ جناب ابان بن تغلب سے روایت ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: "نَحْنُ حَبْلُ اللَّهِ الَّذِی قَالَ اللَّهُ تَعَالَی وَ اعْتَصِمُوا به حبل اللَّهِ جَمِیعاً وَ لا تَفَرَّقُوا" (نور الثقلين، حويزي، جلد1، صفحہ 377، ح303.) ہم (اہلِ بیتؑ) وہی اللہ کی رسی ہیں جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: "اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔"
مذکورہ آیت کی تفسیر میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں جن میں سے اکثر نے "حبلُ اللہ“ کو امیر المومنین علیہ السلام اور ان کی اولاد ائمہ معصومین علیہم السلام کی ولایت پر منطبق کیا ہے۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ یہ احادیث "حبلُ اللہ“ کی تفسیر اسلام، قرآن یا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کرنے کے منافی نہیں ہیں؛ کیونکہ "حبلُ اللہ“ سے مراد ہر وہ ذریعہ ہے جو بندے کو خدائے مہربان کی ذاتِ پاک سے جوڑ دے— خواہ وہ ذریعہ اسلام ہو، یا قرآن ہو، یا پیغمبرؐ ہوں، یا ان کے جانشین یعنی امیر المومنین علیہ السلام اور ان کی اولاد ائمہ معصومین علیہم السلام ہوں۔
یہ تمام مصادیق اس وسیع مفہوم میں جمع ہیں جو "حبلُ اللہ“ سے یعنی „خدا سے ارتباط“ کے معنی میں سمجھا جاتا ہے۔
حبلُ اللہ سے تعبیر کی حکمت:
دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ مذکورہ مصادیق کو "حبلُ اللہ“ سے تعبیر کرنا دراصل ایک گہری حقیقت کی طرف اشارہ ہے؛ اور وہ یہ کہ انسان اگر مربّی اور رہنما سے محروم ہو تو جہالت اور نادانی میں پڑا رہتا ہے۔ نجات کے لئے اسے ایک مضبوط ڈوری اور رسی کی ضرورت ہوتی ہے جسے پکڑ کر وہ کنویں سے باہر آ سکے۔
یہ مضبوط رسی درحقیقت خدا سے ارتباط ہے— جو قرآن، قرآن لانے والے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے حقیقی جانشینوں کے ذریعہ قائم ہوتا ہے۔ یہی ہستیاں انسانوں کو پستی اور انحطاط کے درجوں سے اٹھا کر معنوی و مادی کمال کے آسمان تک پہنچاتی ہیں۔ (تفسیر نمونہ، جلد 3، صفحہ 42)
مذکورہ مطالب سے نتیجہ نکلتا ہے کہ "حبلُ اللہ“ یعنی اللہ کی رسی، ہلاکت سے نجات کے لئے مختلف مصادیق رکھتی ہے، جن میں امیر المومنین علیہ السلام اور ان کی اولاد ائمہ معصومین علیہم السلام کی ولایت اس کے روشن اور نمایاں مصادیق میں سے ہے اور ہم پر لازم ہے کہ ہم ان کی ولایت سے تمسّک کریں اور ان کے فرامین و ہدایات کی پیروی کریں۔ جیسا کہ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: "آلُ مُحَمَّدٍ هُمْ حَبْلُ اللَّهِ الْمَتِینُ الَّذِی أُمِرَ بِالِاعْتِصَامِ بِهِ فَقَالَ وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِیعاً وَ لا تَفَرَّقُوا" (تفسير عياشي، جلد1، صفحہ 194) آل محمد علیہم السلام ہی وہ حبل اللہ ہیں جن سے تمسک کا اللہ تعالی حکم دیا ہے۔ اس کے بعد آپ نے آیت کی تلاوت فرمائی۔ "وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِیعاً وَ لا تَفَرَّقُوا" اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں اختلاف نہ کرو۔
توجہ رہے کہ آیتِ اعتصام محض تلاوت کے لئے نہیں بلکہ عمل کے لئے ہے۔ "حبلُ اللہ“ کو تھامنا ایک فکری، روحانی اور عملی عہد ہے—ایسا عہد جو امت کو تفرقہ سے نکال کر وحدت کی طرف لے جائے۔
امیرالمؤمنین علیہ السلام اور ائمۂ معصومین علیہم السلام کی ولایت سے تمسک دراصل اسی الٰہی ربط کو مضبوط کرنا ہے جس کے بغیر نہ اتحاد ممکن ہے اور نہ ہی نجات۔ یہی وہ مضبوط رسی ہے جو انسان کو پستی سے اٹھا کر کمال کی بلندیوں تک پہنچاتی ہے، اور یہی وہ محور ہے جس کے گرد امت کی حقیقی وحدت تشکیل پاتی ہے۔
مذکورہ مطالب کی روشنی میں یہ کہنا بےجا نہ ہوگا کہ اسلامی وحدت کا محور و معیار امیر المومنین علیہ السلام اور ان کی اولاد ائمہ معصومین علیہم السلام کی ولایت ہے۔ جیسا کہ رہبر انقلاب اسلامی آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای دام ظلہ نے فرمایا: "غدیر محور وحدت ہے۔" یہ ایک جملہ انسانیت کو نجات، تحفظ اور ترقی دینے والے اسلامی نظام کی جانب اشارہ ہے کہ اگر آج عالم اسلام غدیر کو محور وحدت بنا لے تو بے چینیاں دور ہو جائیں، پریشانیاں برطرف ہو جائیں اور عالمی استعمار کے شر سے نہ صرف عالم اسلام بلکہ عالم انسانیت محفوظ ہو جائے۔
08:08 - 2026/02/22









آپ کا تبصرہ