حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مہدویت کی ماہر محترمہ خانم تمیزکار نے مدرسۂ علمیہ حضرت فاطمہ الزہرا (س) کاشان میں منعقدہ مہدویت کے ایک تخصصی نشست میں ایمان کے سماجی اور سیاسی رویّوں کی تشکیل میں کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: دینی نگاہ میں مہدویت مستقبل کے افق کو عدل کی بنیاد پر اور غلبہ و تسلط پر مبنی ساختوں کی نفی کے ساتھ واضح کرتی ہے اور علاقائی سطح پر پائے جانے والے کئی بحرانوں کا تجزیہ اسی عدل محور نگاہ اور عالمی طاقت محور جریانوں کے تقابل کے تناظر میں کیا جا سکتا ہے۔
مرکزِ تخصصی مہدویت کاشان کی مدیر نے دینی تجزیات میں سیاسی صہیونیت کو امتیاز اور اجارہ داری پر مبنی نمونوں کی ایک مثال قرار دیتے ہوئے کہا: موعودیت کے نقطۂ نظر سے ایسے خیالات کی عادلانہ مستقبل کے نظام کے تحقق میں کوئی جگہ نہیں ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا: مہدویت کے موضوعات پر بڑھتی ہوئی توجہ اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ معاشرہ پہلے سے زیادہ موجودہ حالات کی فکری بنیادوں اور مستقبل کے افق کو سمجھنے کی جستجو میں ہے۔









آپ کا تبصرہ