بدھ 25 فروری 2026 - 14:13
سیدہ فاطمہ بنت اسدؑ؛ وہ ہستی جنہیں نبی کریم  )ص) نے “اپنی ماں” فرمایا

حوزہ/ سیدہ فاطمہ بنتِ اسد سلامُ اللہِ علیہا تاریخِ اسلام کی اُن جلیل القدر خواتین میں سے ہیں جن کی ذات خدمت، شفقت، وفا اور قربانی کا جامع نمونہ ہے۔ آپ رسولِ اکرم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چچی تھیں، مگر آپ کا مقام محض قرابت تک محدود نہ تھا؛ خود نبیِ رحمتؐ نے آپ کو “اپنی ماں” فرمایا۔ یہ وہ منفرد اعزاز ہے جو تاریخ میں کسی اور خاتون کو نصیب نہیں ہوا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، روزنامہ صداقت کے چیف ایڈیٹر مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری نے ۷ رمضان المبارک، روزِ وفات حضرت فاطمہ بنت اسدؑ کی مناسبت سے اپنے بیان میں کہا کہ سیدہ فاطمہ بنتِ اسدؑ تاریخِ اسلام کی اُن جلیل القدر خواتین میں سے ہیں جن کی زندگی خدمت، وفا، شفقت اور قربانی کا درخشاں نمونہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپؑ رسولِ اکرم محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی چچی تھیں، تاہم آپ کا مقام صرف نسبی قرابت تک محدود نہ تھا، بلکہ خود نبی کریم نے آپ کو “میری ماں” کہہ کر یاد فرمایا۔ یہ اعزاز تاریخ میں کسی اور خاتون کو نصیب نہیں ہوا۔

مولانا شعور جعفری نے کہا کہ سیدہ فاطمہ بنتِ اسدؑ، حضرت ابوطالبؑ کی زوجہ اور امیرالمؤمنین علی بن ابی طالبؑ کی والدۂ ماجدہ ہیں۔ اسی نسبت سے آپ امام حسنؑ و امام حسینؑ کی دادی اور تمام ساداتِ کرام کی جدۂ اعلیٰ قرار پاتی ہیں۔ آپ کی بابرکت نسل سے ائمۂ اہلِ بیتؑ کا نورانی سلسلہ جاری ہوا جس نے دنیا کو ہدایت و ولایت کی روشنی عطا کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ رسولِ اکرم کی طفولیت اور شباب کے نازک ادوار میں سیدہؑ نے بے مثال ایثار کے ساتھ پرورش کی۔ آپؑ اپنی اولاد پر رسولِ خداؐ کو مقدم رکھتیں، خود فاقہ برداشت کرتیں مگر حضورؐ کو سیر رکھتیں۔ یہ محض گھریلو خدمت نہ تھی بلکہ ایک عظیم رسالت کی خاموش تیاری تھی۔

انہوں نے کہا کہ اللہ کے حکم سے خانۂ کعبہ کی دیوار رکنِ یمانی کے قریب شگافتہ ہوئی اور سیدہ فاطمہ بنتِ اسدؑ تین دن تک بیت اللہ کی مہمان رہیں، جہاں مولودِ کعبہ حضرت علیؑ کی ولادت ہوئی۔ اسے تاریخِ اسلام کا منفرد اور بے مثال اعزاز قرار دیا جاتا ہے۔

مولانا شعور جعفری نے کہا کہ آپؑ اولین مہاجر خواتین میں شمار ہوتی ہیں اور ہر آزمائش میں رسولؐ کا ساتھ دیا۔ سات رمضان المبارک کو جب آپؑ کا وصال ہوا تو رسولِ اکرم نے شدید رنج و غم کا اظہار فرمایا اور ارشاد کیا: “آج میری ماں رحلت کر گئیں۔”

انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہ نبی کریم نے اپنی قمیص بطورِ کفن عطا فرمائی، خود قبر میں اترے اور اپنے دستِ مبارک سے تدفین فرمائی۔ یہ منظر دراصل وفا اور احسان کے اعتراف کی عظیم مثال تھا۔

آخر میں کہا کہ سیدہ فاطمہ بنتِ اسدؑ کو جنت البقیع میں سپردِ خاک کیا گیا، اور آپؑ کی یاد آج بھی اہلِ بیتؑ کے ماننے والوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخِ اسلام میں آپؑ کا کردار ہمیشہ مادرانہ ایثار اور دینی وفاداری کی روشن مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha