اتوار 22 فروری 2026 - 14:04
قرآنی تعلیمات کو جدید انداز اور فنکارانہ اسلوب کے ساتھ نوجوانوں تک پہنچایا جائے: آیت اللہ العظمیٰ سبحانی

حوزہ/ مرجعِ تقلید آیت اللہ العظمی جعفر سبحانی نے 33ویں بین الاقوامی نمائشِ قرآن کریم کے افتتاح کے موقع پر اپنے پیغام میں تاکید کی ہے کہ آج کی نوجوان نسل تک معارفِ قرآن کو روزمرہ زبان اور فنکارانہ اسلوب کے ساتھ پیش کیا جائے تاکہ ان کے فکری و ثقافتی سوالات کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرجعِ تقلید آیت اللہ العظمی جعفر سبحانی نے 33ویں بین الاقوامی نمائشِ قرآن کریم کے افتتاح کے موقع پر اپنے پیغام میں تاکید کی ہے کہ آج کی نوجوان نسل تک معارفِ قرآن کو روزمرہ زبان اور فنکارانہ اسلوب کے ساتھ پیش کیا جائے تاکہ ان کے فکری و ثقافتی سوالات کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔

آیت اللہ العظمیٰ سبحانی کا یہ پیغام 33ویں بین الاقوامی نمائشِ قرآن کریم کی افتتاحی تقریب میں پڑھ کر سنایا گیا۔ اپنے پیغام میں انہوں نے ماہِ رمضان کو نزولِ قرآن اور اہلِ ایمان کے دلوں کی بہار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بابرکت مہینے میں قرآنی محافل کا انعقاد معاشرے کو کلامِ الٰہی کی نورانیت سے معطر کرنے کا بہترین موقع ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ قرآن کریم محض تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ ہدایت، زندگی اور سعادتِ انسانی کا مکمل دستور ہے۔ جن معاشروں نے قرآن کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنایا، انہوں نے عزت، سکون اور ترقی حاصل کی، جبکہ اس سرچشمۂ نور سے دوری مختلف سماجی اور اخلاقی مسائل کا سبب بنی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں پہلے سے زیادہ قرآن کی تعلیمات کی طرف رجوع کی ضرورت ہے۔

آیت اللہ سبحانی نے نوجوانوں کو ملک اور امتِ اسلامی کا اصل سرمایہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر قرآنی تعلیمات کو جدید تقاضوں کے مطابق، مؤثر انداز اور فکری ضرورتوں کو سامنے رکھ کر پیش کیا جائے تو یہ نئی نسل کی الجھنوں اور شبہات کا تسلی بخش حل فراہم کر سکتا ہے اور انہیں صحیح راستے پر گامزن کر سکتا ہے۔

انہوں نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ آج دشمنانِ اسلام میڈیا اور ثقافتی ذرائع کے ذریعے دینی اعتقادات کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور بعض اوقات قرآن کی مقدس ذات کی توہین بھی کی جاتی ہے۔ ایسے حالات میں بہترین جواب یہ ہے کہ قرآنی ثقافت کو فروغ دیا جائے اور قرآن کے رحمانی، عقلی اور انسان ساز چہرے کو دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔

مرجعِ تقلید نے سیرتِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلِ بیت علیہم السلام کو عملی تفسیرِ قرآن قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب تک معاشرہ اخلاق، عدالت، خدمتِ خلق اور ذمہ داری کے احساس کو اپنائے گا، اسی قدر روحِ قرآن سے قریب ہوگا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ قرآنی نمائشیں ایمان، امید اور اتحاد کو تقویت دیں گی اور قرآن کو گھروں، تعلیمی اداروں اور سماجی مراکز میں مزید فعال کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کریں گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha