حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اس قرآنی نمائش کا افتتاح وزیر ثقافت و ارشاد اسلامی سید عباس صالحی کی موجودگی میں کیا گیا۔ شرکاء نے نمائش کے مختلف حصوں کا دورہ کیا اور ملک میں قرآن کریم سے متعلق تازہ ترین سرگرمیوں اور کامیابیوں سے آگاہی حاصل کی۔
رپورٹ کے مطابق اس سال قرآنی نمائش کا شعار “ایران قرآن کے سائے میں” رکھا گیا ہے جو فردی اور اجتماعی زندگی میں قرآن کریم کے رہنما اور تہذیبی کردار کو اجاگر کرتا ہے۔

ایرانی وزیر ثقافت و ارشاد اسلامی نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا: “ایران قرآن کے سائے میں” کوئی عارضی یا سیاسی نعرہ نہیں بلکہ ایرانی قوم کی ایک تاریخی اور تہذیبی حقیقت ہے۔
انہوں نے کہا: ایرانی قوم نے گزشتہ چودہ صدیوں کے دوران قرآن کریم سے گہری وابستگی کے ساتھ کلامِ وحی کی خدمت میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور قرائت، تفسیر اور علومِ قرآنی میں ایرانی علماء کی خدمات تاریخ کا روشن باب ہیں۔

اس موقع پر امام جمعہ پالیسی کونسل کے سربراہ حاج علی اکبری نے بھی خطاب کیا اور کہا: 33 ویں بین الاقوامی قرآن کریم نمائش دراصل معاشرے کی جانب سے قرآن کریم کی بارگاہ میں پناہ طلب کرنے کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا: ایرانی معاشرہ مختلف بحرانوں اور دباؤ کے باوجود قرآن کریم کی تعلیمات کی بدولت اپنی استقامت اور تابآوری برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق، ماہِ مبارک رمضان قرآن اور اخلاقی تربیت کا مہینہ ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کے لیے روحانی تازگی کا باعث بنتا ہے۔

اسی تقریب میں وزارت ثقافت و ارشاد اسلامی کے معاون قرآن و عترت حمید رضا ارباب سلیمانی نے نمائش کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا : یہ نمائش یکم اسفند 1404 شمسی (20 فروری 2026ء) سے شروع ہو چکی ہے اور ماہ کے وسط تک جاری رہے گی۔
انہوں نے کہا: اس قرآنی نمائش میں ستر سے زائد تخصصی اسٹالز قائم کیے گئے ہیں جن میں قرآنی مطبوعات، ڈیجیٹل مصنوعات، قرآنی فنون، تلاوت کے محافل، علمی نشستیں، تربیتی ورکشاپس اور بچوں و نوجوانوں کے لیے تعلیمی و تخلیقی سرگرمیاں شامل ہیں۔

یاد رہے کہ قرآنی نمائش کے مرکزی موضوعات میں قرآن اور قومی یکجہتی، قرآن اور امید آفرینی، قرآن اور انقلاب اسلامی، قرآن اور خاندان، قرآن اور جدید علوم، قرآن اور بین الاقوامی امور سمیت متعدد فکری اور تہذیبی پہلو شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی، نئی تعلیمی روشیں اور مصنوعی ذہانت (AI) سے متعلق قرآنی منصوبے بھی نمائش کا حصہ ہیں۔
حوزہ نیوز ایجنسی نے بھی اس نمائش میں فعال شرکت کرتے ہوئے بالخصوص حوزہ علمیہ سے متعلق حصوں کی خبریں اور مختلف علمی مواد شائع کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 33 ویں بین الاقوامی قرآن کریم نمائش 6 مارچ 2026ء تک روزانہ شام چار بجے سے رات گیارہ بجے تک عوام کے لیے کھلی رہے گی اور قرآنی علوم و معارف سے دلچسپی رکھنے والوں کی میزبانی کرتی رہے گی۔










آپ کا تبصرہ