حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، "نور" کمپیوٹر ریسرچ سینٹر برائے علوم اسلامی نے قرآن کریم کے معارف کے تحفظ اور ڈیجیٹل دور میں تحریف کے سدباب کے لیے ایرانی مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی نئے سسٹم "گفتگوی هوشمند با تفاسیر" کی رونمائی کر دی ہے۔ یہ اعلان تہران میں منعقدہ قرآنی نمائش کے دوران کیا گیا۔
مرکز نور کے ٹیکنیکل شعبے اور مصنوعی ذہانت لیبارٹری کے سربراہ احمد ربیعیزادہ نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ دوسرے سے آئی ماڈلز میں سنگین خامیاں پائی جاتی ہیں، جن میں سب سے اہم "توہم" یعنی غلط اور غیر مستند معلومات کی تخلیق ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بعض غیر ملکی اے آئی ماڈلز قرآنی آیات یا علمی مقالات کے حوالے غلط انداز میں پیش کرتے ہیں، جس سے محققین کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ اسی طرح ان اے آئی ماڈلز میں فکری و مذہبی جانبداری کا مسئلہ بھی موجود ہے، کیونکہ ان کی تربیت مخصوص ڈیٹا پر ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہی چیلنجز کے پیش نظر "نور" نے اے آئی کا ایک ایسا مستند نظام تیار کیا ہے جو براہِ راست اصل تفسیری کتب سے جواب فراہم کرتا ہے۔ اس نئے سسٹم کے ذریعے محققین دو ہزار سے زائد جلدوں پر مشتمل تفاسیر کے ساتھ مکالمہ کر سکتے ہیں۔ ہر جواب کے ساتھ کتاب، جلد اور صفحہ نمبر کا مکمل حوالہ دیا جاتا ہے تاکہ صارف فوری طور پر تحقیق و تصدیق کر سکے۔
مرکز نور کے مطابق اس نظام کی دقت قرآنی ریسرچ کے تخصصی میدان میں 77 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ اسی شعبے میں غیر ملکی ماڈلز کی دقت تقریباً 40 فیصد بتائی گئی ہے۔ ادارے نے مستقبل میں "گفتگو با احادیث"، فقہی متون اور تاریخی منابع کے ساتھ مربوط ایک جامع اسلامی ڈیجیٹل اسسٹنٹ تیار کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔









آپ کا تبصرہ