اتوار 26 اپریل 2026 - 12:26
شہید رہبر کو نشانہ بنا کر روحِ انقلاب کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی، اسے بچانا ہماری ذمہ داری ہے، علامہ ساجد نقوی

حوزہ/ چہلم شہید رہبر علی خامنہ ای کے موقع پر قائد ملت جعفریہ پاکستان اپنے خطاب میں کہا کہ اگر دنیا میں کسی نے امریکہ اور اسرائیلی سامراج کو للکا را ہے تو اس پورے عرصے میں تو وہ انقلاب اسلامی ایران نے للکارا ہے، باہمی ہمدردی ،باہمی برداشت اور تسلیم کرنا صبر و حوصلہ سے کام لینا مل کر چلنا یہ روح انقلاب ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے جامعة المنتظر میں شہید رہبر آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای اور ان کے رفقا کے رسمِ چہلم کے انعقاد پر سرمایۂ ملت حضرت آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ شہید رہبر ایک عظیم اور ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔

انہوں نے کہا کہ رہبرِ شہید کو نشانہ بنانے کا اصل مقصد انقلابِ اسلامی کا خاتمہ تھا، کیونکہ یہی وہ انقلاب تھا جس نے سامراج، غلامی، جبر، بے انصافی اور طبقاتی تفریق پر مبنی عالمی نظام کو للکارا۔ ان کے بقول، اگر دنیا میں کسی نے اس ظالمانہ نظام کو چیلنج کیا ہے تو وہ انقلابِ اسلامی ہے۔ یہی دشمنی دراصل انقلاب کی روح کے خلاف تھی۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ دشمنوں نے آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کو شہید کرکے روحِ انقلاب کو قتل کرنے کی کوشش کی، لہٰذا اس روح کو زندہ رکھنا اور انقلاب کے پیغام کو محفوظ بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم پاکستان میں رہتے ہوئے بھی اس انقلاب کے تحفظ کی ذمہ داری محسوس کرتے ہیں۔ آزادی، استقلال، قدس کی آزادی اور فلسطینیوں کے حقوق جیسے موضوعات کو انقلابِ اسلامی نے عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ انقلاب سے پہلے بہت سے لوگوں کو یہ احساس بھی نہ تھا کہ فلسطینیوں کے حقوق بھی ہیں اور قدس دشمنوں کے قبضے میں ہے، جبکہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس کی آزادی کے لیے آواز بلند کریں۔

قائد ملت جعفریہ نے کہا کہ وہ پاکستان کے حالات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ “میں اس ملک میں رہتا ہوں جس کا اپنا آئین، اپنی سیاست اور اپنی پالیسیاں ہیں۔ ہم نے نہایت حکمت اور ظرافت کے ساتھ ایسے اقدامات کیے جن سے ملکی پالیسیوں کو درست سمت ملی۔” انہوں نے کہا کہ آج پاکستان، ایران اور انقلابِ اسلامی کے نزدیک ایک قابلِ اعتماد ملک سمجھا جاتا ہے، جس میں ہماری بھی کچھ نہ کچھ کوشش شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں اتحاد و وحدت کی فضا قائم کرنے کے لیے ہمیشہ عملی اقدامات کیے گئے۔ چند ماہ قبل منعقد ہونے والے اجلاس میں 28 سے 30 مذہبی جماعتوں نے شرکت کی، جن میں مولانا فضل الرحمن بھی ان کی دعوت پر شریک ہوئے۔ ان کے مطابق، رہبرِ شہید کے اس فتوے نے اس وحدت کو مزید تقویت دی جس میں مقدسات کی توہین سے اجتناب اور اتحاد و وحدت کے فروغ پر زور دیا گیا تھا۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ ملک میں فرقہ واریت، گروہ بندی اور لشکر سازی کا جو سلسلہ شروع کیا گیا، وہ دراصل انقلابِ اسلامی کی حمایت کو کمزور کرنے کی کوشش تھی۔ “اصل نشانہ ہم تھے، مگر ہم نے اس سازش کو ناکام بنایا۔”

انہوں نے زور دیا کہ اپنی صفوں میں اتحاد و وحدت، باہمی ہمدردی، برداشت، صبر و حوصلہ اور مل جل کر چلنے کی فضا پیدا کی جائے۔ ان کے بقول یہی روحِ انقلاب ہے۔ انہوں نے منفی طرزِ عمل سے گریز کرنے اور اپنے زیر اثر افراد کو بھی ایسے رویوں سے روکنے کی تلقین کی تاکہ بہتر سے بہتر ماحول پیدا ہو اور قوم اپنا مؤثر کردار ادا کر سکے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha