پیر 27 اپریل 2026 - 15:15
ہر عمل کی ایک بازگشت ہوتی ہے؛ نیکی کا صلہ نیکی: علامہ شیخ محمد حسن جعفری

حوزہ/مرکزی جامع مسجد سکردو بلتستان میں امام جمعہ والجماعت علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے ہفتہ وار درس کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کائنات کا ایک اٹل اصول یہ ہے کہ ہر عمل کا ایک ردِّ عمل ضرور ہوتا ہے۔ انسان جو کچھ کرتا ہے، اس کی بازگشت کسی نہ کسی صورت میں اس کی زندگی، معاشرے اور ماحول میں ظاہر ہوتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرکزی جامع مسجد سکردو بلتستان میں امام جمعہ والجماعت علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے ہفتہ وار درس کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کائنات کا ایک اٹل اصول یہ ہے کہ ہر عمل کا ایک ردِّ عمل ضرور ہوتا ہے۔ انسان جو کچھ کرتا ہے، اس کی بازگشت کسی نہ کسی صورت میں اس کی زندگی، معاشرے اور ماحول میں ظاہر ہوتی ہے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص کسی بلند چٹان کے سامنے کھڑے ہو کر بلند آواز سے ''یا علیؑ'' کہے، تو پہاڑوں سے واپس آنے والی گونج یوں محسوس ہوتی ہے جیسے فضا بھی اس ذکر میں شریک ہو گئی ہو؛ یہاں ''یا علیؑ'' کہنا ایک عمل ہے، جبکہ اس کی بازگشت ردِّ عمل کی صورت میں سامنے آتی ہے۔ یہی اصول انسانی کردار، گفتار اور اعمال پر بھی لاگو ہوتا ہے، انسان جو بوئے گا، وہی کسی نہ کسی شکل میں کاٹے گا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے، لوگوں کے دکھ بانٹے، ضرورت مندوں کی مدد کرے اور معاشرے میں خیر و بھلائی کو فروغ دے تو اللہ تعالیٰ اس کے عمل کا بہترین اجر عطا فرماتا ہے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:"مَنْ قَضَى لِأَخِيهِ الْمُؤْمِنِ حَاجَةً كَانَ كَمَنْ عَبَدَ اللَّهَ دَهْرَهُ"''جو شخص اپنے مومن بھائی کی حاجت پوری کرے، وہ گویا عمر بھر عبادت کرنے والے کے مانند ہے۔''(بحار الأنوار، علامہ مجلسیؒ، ج 74، ص 315)

انہوں نے مزید کہا کہ ایک اور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں:''أَحَبُّ النَّاسِ إِلَى اللَّهِ أَنْفَعُهُمْ لِلنَّاسِ''''اللہ کے نزدیک سب سے محبوب انسان وہ ہے جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہو۔''(مستدرک الوسائل، ج 12، ص 429)

علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے کہا کہ معاشرے میں خیر کا اثر ہمیشہ خیر کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ جو شخص ایک خاندان کے درمیان صلح کرواتا ہے وہ دراصل دلوں کو جوڑنے کا کام کرتا ہے۔ جو پڑوسیوں کی مشکلات کم کرتا ہے وہ معاشرتی سکون کو فروغ دیتا ہے۔ جو غریبوں، مسکینوں اور نادار افراد کا سہارا بنتا ہے وہ انسانیت کی خدمت انجام دیتا ہے۔ جو علم سکھاتا ہے، وہ جہالت کے اندھیروں میں روشنی بانٹتا ہے اور جو شعور بیدار کرتا ہے وہ قوموں کی فکری تعمیر میں حصہ لیتا ہے۔ اسی طرح وہ جوان جو محرم و نامحرم کی تمیز کو ملحوظ رکھتا ہے، اپنی نگاہوں کی حفاظت کرتا ہے اور اخلاقی حدود کا احترام کرتا ہے وہ دراصل اپنے کردار سے پاکیزگی، وقار اور دینی شعور کا مثبت پیغام دیتا ہے۔ ایسے اعمال کا عکس العمل نہ صرف فرد کی ذات میں، بلکہ پورے معاشرے میں خیر، امن اور اخلاقی استحکام کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha