حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بزرگ عالم دین آیت اللہ عبدالقائم شوشتریؒ نے اپنے استادِ محترم آیت اللہ محمدتقی بہجتؒ سے ایک روح پرور واقعہ نقل کیا ہے جو امام زمانہؑ سے ملاقات کے حوالے سے بہت اہمیت رکھتا ہے۔
یہ واقعہ ایک ایسے شخص کے بارے میں ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی بے پناہ مہربانی سے اپنے محبوب امام حضرت مہدیؑ کی زیارت کا موقع عطا فرمایا۔ تاہم، ملاقات کے دوران وہ شخص یہ نہیں جان سکا کہ وہ کس عظیم ہستی کے سامنے بیٹھا ہے۔ وہ معمولی باتیں کرتا رہا اور اسے علم نہ ہو سکا کہ سامنے والا کوئی عام شخص نہیں بلکہ خدا کا حجت اور زمانے کا امام ہے۔
بیان کیا گیا ہے کہ اس شخص نے امامؑ سے گفتگو کے دوران بار بار یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ ایک ایسا عمل کرنا چاہتا ہے جو خاص طور پر امام زمانہؑ کی نظر میں پسندیدہ ہو۔ اس کا دل چاہتا تھا کہ وہ کوئی ایسی نیکی کرے جس کے بارے میں اسے یقین ہو کہ یہ امامؑ کے دل کو خوش کرے گی۔
امام زمانہؑ نے اس کی اس خلوص پر مبنی خواہش کو سن کر خود ہی اسے ایک بہترین عمل بتا دیا۔ ارشاد فرمایا: "ایک کام جو بہت زیادہ میری نظر میں پسندیدہ ہے وہ یہ ہے کہ جیسے ہی اذان کی آواز سنو، فوراً دعا پڑھنا شروع کر دو 'اَللّٰهُمَّ کُن لِوَلِیِّکَ الْحُجَّةِ بْنِ الْحَسَنِ صَلَوَاتُکَ عَلَیْہِ وَعَلٰی آبَائِہِ'..." اس دعا کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ! اپنے ولی حضرت حجت بن الحسنؑ کے لیے ہر مشکل میں مددگار، نگہبان، راہنما اور یار و مددگار بن۔
یہ دعا دراصل امام زمانہؑ کی حفاظت اور ان کی نصرت کے لیے مانگی جاتی ہے اور اس کا وقت بھی بہت خاص ہے یعنی اذان کے فوراً بعد۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب انسان اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور درگاہِ الٰہی سے مانگنے کا بہترین موقع ہوتا ہے
ملاقات ختم ہونے کے بعد جب اس شخص کو حقیقت کھلی کہ وہ کس کی خدمت میں حاضر تھا، تو وہ بے حد پشیمان ہوا۔ اسے دیر سے احساس ہوا کہ اس نے کس دولت کو نہ پہچان کر ضائع کر دیا۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ امامؑ کی دی ہوئی اس ہدایت کو اس نے سنبھال کر رکھ لیا اور بعد میں دوسروں تک پہنچایا۔
آیت اللہ بہجتؒ جیسی عبقری شخصیت کا اس واقعے کو بیان کرنا اس کی اہمیت کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ انہوں نے اپنے شاگردوں کو بار بار تاکید کی کہ اذان کے وقت اس دعا کا اہتمام کریں، کیونکہ یہ امام زمانہؑ کی طرف سے خود بتائی گئی عبادت ہے۔
مذکورہ واقعہ کتاب "حضرت حجت" کے صفحہ 336 پر درج ہے۔ یہ کتاب معتبر ذرائع سے اکٹھی کی گئی ایسی ہی روحانی کرامات اور ہدایات پر مشتمل ہے۔
آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہم میں سے ہر شخص چاہے اسے امامؑ کی زیارت نصیب نہ بھی ہو، لیکن ان کی بتائی ہوئی اس دعا کو پڑھ کر ان کا قرب حاصل کر سکتا ہے۔ بس ضرورت ہے اذان کی آواز سنتے ہی نماز سے پہلے یہ دعا پڑھنے کی پابندی کرنے کی۔ یہ ایک معمولی سا عمل ہے لیکن امام زمانہؑ کے نزدیک بہت پسندیدہ ہے۔









آپ کا تبصرہ