بدھ 20 مئی 2026 - 16:33
دشمنوں کے خطرات اور دباؤ کا مقابلہ قومی اتحاد اور یکجہتی سے ہی ممکن ہے

حوزہ / مرکز مدیریت حوزه علمیه اس عظیم الشان شہید کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ اس پیچیدہ میدان سے کامیاب عبور کے لیے "جہادی انتظامیہ" اور عوام و نظام اسلامی کے خدمتگزاروں کے درمیان مضبوط تعلق کی ضرورت ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرکز مدیریت حوزه علمیه کا شہید خدمت آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی کی شہادت کی برسی پر جاری کردہ بیان درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مِنَ الْمُؤْمنینَ رجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَیْه فَمنْهُم مَّن قَضَی نَحْبَهُ وَمنْهُم مَّن یَنتَظرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدیلًا

خادم الرضا(ع)، آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی رضوان اللہ علیہ اور ان کے عالی مرتبہ ساتھیوں کی ملکوتی رحلت کی برسی، انقلاب اسلامی کے معیار پر "خالص خدمت" اور "شہادت کی ثقافت" کے ناقابلِ جدا رشتے کی یاد دلاتی ہے۔

ایک ایسی شخصیت جنہوں نے صدارت کے عہدے پر نہ صرف قوانین پر عملدرآمد کیا بلکہ اخلاق، عدالت اور ولایت مداری کا عملی نمونہ تھے اور اپنی انتھک جدوجہد سے اپنا نام ملت ایران کی تاریخ میں "شہید خدمت گزار" کے طور پر درج کیا۔

آج ملک اسٹریٹجک مقابلے کے ایک پیچیدہ اور کثیر جہتی میدان کے بیچ میں کھڑا ہے۔ نظام اسلامی کے دشمن اپنے تمام ذرائع علمی اور میڈیا کی ہائبرڈ جنگوں سے لے کر ظالمانہ اقتصادی دباؤ اور سیکیورٹی خطرات تک، قومی اتحاد اور طاقت کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں اور ملت کے فولادی عزم کو توڑنا چاہتے ہیں۔

ایسے تاریخی موڑ پر شہید رئیسی کی سیرت ہمارے لیے ایک یادگار نہیں بلکہ ایک "آپریشنل حکمت عملی" ہے۔ ایک ایسی حکمت عملی جو "انقلابی عقلانیت"، "عدالت کا پھیلاؤ"، "فعال مقاومت" اور "اندرونی صلاحیتوں پر انحصار" کی مضبوط بنیادوں پر تعمیر کی گئی ہے۔

مرکز مدیریت حوزه علمیه اس عظیم الشان شہید کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ اس پیچیدہ میدان سے کامیاب عبور کے لیے "جہادی انتظامیہ" اور عوام و نظام کے خدمتگزاروں کے درمیان مضبوط تعلق کی ضرورت ہے اور اس خدمتگزار منتظم کے طرز عمل کی پیروی کرتے ہوئے درج ذیل بنیادی اصولوں پر زور دیتا ہے:

۱_ انقلاب اسلامی کی تہذیب ساز اقدار پر حکمرانی کی تمام سطحوں پر استقامت۔

۲_ قومی آزادی اور سلامتی کے تحفظ کے لیے دشمنوں کی ہائبرڈ جنگوں کے مقابلے میں ایثار اور مزاحمت کے جذبے کو مضبوط کرنا۔

۳_ سماجی انصاف کے حصول اور عوام کی معیشت کی مشکلات دور کرنے کے لیے انتھک کوشش بطور ملک کی اولین ترجیح۔

۴_ دشمن کے حملوں کا مقابلہ کرنے اور علمی و اقتصادی ترقی کی بلندیوں تک پہنچنے کے لیے علمی اور انتظامی صلاحیتوں کی توسیع۔

۵_ دشمنوں کے خطرات اور دباؤ کے مقابلے میں قومی اتحاد اور ہمدردی کو مضبوط کرنا۔

یہ مرکز امام راحل، رہبر شہید (رہ) اور مقام معظم رہبری کے عظیم نظریات کے ساتھ تجدید عہد کرتے ہوئے اس شہید خدمت کے راستے کو جاری رکھنے پر تاکید کرتا ہے اور خداوند متعال سے شہدائے خدمت کے لیے بلند درجات اور اولیاء اللہ کے ساتھ ہم جواری کی دعا کرتا ہے۔ امید ہے کہ ملت کی بصیرت اور نظام اسلامی کے ذمہ داروں کی کوششوں کے سایے میں ایران اسلامی کے سرفرازی کا پرچم ہمیشہ بلند رہے گا۔

مرکز مدیریت حوزه علمیه

30 اردیبہشت 1405 / 20 مئی 2026ء

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha