جمعرات 16 جولائی 2026 - 14:07
بحرین میں شیعہ علما کی گرفتاریوں اور خفیہ مقدمات پر انسانی حقوق کے حلقوں کی تشویش

حوزہ/ بحرین میں شیعہ علماء کے خلاف جاری عدالتی کارروائی پر انسانی حقوق کے ماہرین نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خفیہ سماعتوں، وکلا سے ملاقات پر پابندی اور دیگر قانونی خلاف ورزیوں نے مقدمات کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بحرین میں شیعہ علماء کی گرفتاریوں اور ان کے خلاف جاری عدالتی کارروائی پر انسانی حقوق کے حلقوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان مقدمات میں منصفانہ ٹرائل کے بنیادی تقاضوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ملک میں 40 سے زائد شیعہ علماء جیلوں میں قید ہیں، جبکہ حکومت نے ان میں سے 19 علما کے خلاف خفیہ طور پر مقدمات کی سماعت شروع کر دی ہے۔ ان علما میں سید مجید المشعل، شیخ علی الصددی، شیخ محمد صنقور، شیخ فاضل الزاکی، شیخ محمد الخرسی، شیخ عیسی المؤمن، سید موسی الوداعی، شیخ محمد جواد الشہابی، شیخ مرزا المعتوق، شیخ حامد عاشور اور شیخ ایوب البحرانی سمیت دیگر افراد شامل ہیں۔

انسانی حقوق کے ماہرین کے مطابق مقدمات میں متعدد سنگین بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ ان کے مطابق سماعتیں خفیہ طور پر ہو رہی ہیں، زیر حراست علماء کو اپنے وکلا اور اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، جبکہ وکلا کو مقدمات کی دستاویزات تک رسائی بھی حاصل نہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وکلا کو اپنے مؤکلین سے ملاقات کی درخواست پر دباؤ اور ممکنہ ٹارچر کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کے بجائے ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت کی گئی، جبکہ گھر والوں سے ہونے والی مختصر فون کالز کی نگرانی کی جاتی ہے اور مقدمات کا ذکر ہوتے ہی رابطہ منقطع کر دیا جاتا ہے۔

قانونی کارکنوں کے مطابق بعض زیر حراست علماء نے اپنے اہل خانہ کو بتایا ہے کہ ان سے اپنے خلاف الزامات پر دستخط کرائے گئے۔

انسانی حقوق کے مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر عدالتی کارروائی بنیادی قانونی ضمانتوں سے محروم ہو تو اس کی شفافیت اور غیر جانبداری پر اندرون اور بیرون ملک سوالات اٹھنا فطری ہیں۔ ان کے مطابق یہ معاملہ صرف چند افراد کے مقدمات تک محدود نہیں بلکہ بحرین میں قانون کی حکمرانی اور عدالتی نظام پر عوامی اعتماد کا بھی امتحان ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha