جمعہ 17 جولائی 2026 - 23:31
لوگوں کی عزت کا لحاظ؛ حدیثِ امام رضا (ع) کی روشنی میں

حوزہ/بدقسمتی سے موجودہ دور میں مادہ پرستی نے معاشرتی اقدار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اکثر لوگوں کا معیارِ عزت صرف مال و دولت، عہدہ اور شہرت بن گیا ہے۔ امیر افراد کی خوشامد کی جاتی ہے، جبکہ غریب اور کمزور لوگوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات دفاتر، تعلیمی اداروں، بازاروں اور حتیٰ کہ دینی مجالس میں بھی انسانوں کے ساتھ ان کی مالی حیثیت کی بنیاد پر مختلف رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف اسلامی تعلیمات بلکہ سیرتِ رسولِ اکرم اور اہلِ بیت کے بھی خلاف ہے۔

تحریر: سيده ناظمہ حسینی

حوزہ نیوز ایجنسی|

بسم الله الرحمٰن الرحیم

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيدنا محمد وآله الطاهرين، واللعنة الدائمة على أعدائهم أجمعين إلى يوم الدين.

حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام، حضرت امام محمد تقی علیہ السلام اور حضرت امام علی نقی علیہ السلام کی سیرت بھی احترامِ انسانیت اور حسنِ اخلاق سے بھرپور ہے۔ ائمۂ اہلِ بیت علیہم السلام نے ہمیشہ اپنے اصحاب کو یہی تعلیم دی کہ لوگوں کے ساتھ ان کے مقام و مرتبے کے مطابق نہیں بلکہ ان کی انسانیت کے احترام کے ساتھ پیش آؤ۔ کسی غریب، یتیم، مزدور یا کمزور انسان کو حقیر سمجھنا درحقیقت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عزت کی توہین ہے۔

اسلام نے صرف غریبوں کی مالی مدد کا حکم نہیں دیا، بلکہ ان کی عزتِ نفس کی حفاظت پر بھی خصوصی زور دیا ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿قَوْلٌ مَعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِّنْ صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى﴾"بھلی بات اور معاف کر دینا اس صدقے سے بہتر ہے جس کے بعد دل آزاری ہو۔"(سورۂ بقرہ: 263)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی ضرورت مند کی مدد اس انداز میں کی جائے کہ اس کی عزت مجروح ہو یا اسے شرمندگی محسوس ہو تو ایسا عمل اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ اسلام چاہتا ہے کہ خدمتِ خلق اخلاص، محبت اور احترام کے ساتھ انجام دی جائے۔

بدقسمتی سے موجودہ دور میں مادہ پرستی نے معاشرتی اقدار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اکثر لوگوں کا معیارِ عزت صرف مال و دولت، عہدہ اور شہرت بن گیا ہے۔ امیر افراد کی خوشامد کی جاتی ہے، جبکہ غریب اور کمزور لوگوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات دفاتر، تعلیمی اداروں، بازاروں اور حتیٰ کہ دینی مجالس میں بھی انسانوں کے ساتھ ان کی مالی حیثیت کی بنیاد پر مختلف رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف اسلامی تعلیمات بلکہ سیرتِ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلِ بیت علیہم السلام کے بھی خلاف ہے۔

ایک حقیقی مومن وہ ہے جو ہر انسان کے ساتھ خندہ پیشانی، نرم گفتاری اور احترام کے ساتھ پیش آئے۔ اس کی زبان سے کسی کی تحقیر نہ ہو، اس کے رویے سے کسی کی دل آزاری نہ ہو اور اس کے کردار سے کسی کو احساسِ کمتری نہ ہو۔ یہی وہ اخلاق ہے جو دلوں کو جوڑتا ہے اور معاشرے میں محبت، اخوت اور اتحاد پیدا کرتا ہے۔

ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے گھروں، مدارس، تعلیمی اداروں، دفاتر اور معاشرتی اجتماعات میں اسلامی اخلاق کو فروغ دیں۔ بچوں کی تربیت اس انداز میں کریں کہ وہ ہر انسان کا احترام کرنا سیکھیں۔ انہیں یہ تعلیم دی جائے کہ صفائی کرنے والا، مزدور، کسان، یتیم، طالب علم، عالم، تاجر اور افسر سب اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور سب عزت و احترام کے مستحق ہیں۔

اگر معاشرے کا ہر فرد امام رضا علیہ السلام کی اس مبارک حدیث کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو معاشرے سے تکبر، غرور، طبقاتی نفرت، حسد اور احساسِ محرومی کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس محبت، مساوات، ہمدردی، اخوت اور عدل کو فروغ ملے گا، جو ایک اسلامی معاشرے کی بنیادی خصوصیات ہیں۔

یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اپنے نفس کا محاسبہ کریں۔ ہم غور کریں کہ کیا ہمارا سلام، ہماری گفتگو، ہماری نشست و برخاست اور ہمارا رویہ ہر انسان کے ساتھ یکساں ہے؟ کیا ہم غریب کے ساتھ بھی ویسی ہی محبت اور احترام سے پیش آتے ہیں جیسے کسی صاحبِ منصب یا دولت مند کے ساتھ؟ اگر اس میں فرق ہے تو ہمیں اپنے کردار کی اصلاح کرنی چاہیے اور اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات کی روشنی میں اپنی زندگی کو سنوارنا چاہیے۔

امام رضا علیہ السلام کی یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک انسان کی قدر و قیمت اس کے مال سے نہیں بلکہ اس کے دل، ایمان، تقویٰ اور کردار سے ہے۔ جو شخص لوگوں کی عزت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ بھی اسے دنیا و آخرت میں عزت عطا فرماتا ہے، اور جو دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے وہ درحقیقت اپنے اخلاق اور ایمان کو نقصان پہنچاتا ہے۔

امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام کی یہ مبارک حدیث اسلامی معاشرت کا ایک نہایت اہم اصول ہمارے سامنے پیش کرتی ہے۔ اسلام ایسا معاشرہ تشکیل دینا چاہتا ہے جہاں ہر انسان کو عزت، احترام اور محبت حاصل ہو، اور کسی کے ساتھ اس کی غربت یا کمزوری کی وجہ سے امتیازی سلوک نہ کیا جائے۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلِ بیت علیہم السلام کی پاکیزہ سیرت اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ عظمت انسان کے مال میں نہیں بلکہ اس کے ایمان، تقویٰ، حسنِ اخلاق اور خدمتِ خلق میں ہے۔

اگر ہم اپنے انفرادی اور اجتماعی رویوں کو قرآنِ کریم اور اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات کے مطابق ڈھال لیں، تو ہمارا معاشرہ عدل، محبت، اخوت، مساوات اور احترامِ انسانیت کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا، رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت اور اہلِ بیت علیہم السلام کی سیرت کی طرف لے جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم ہر انسان کی عزت و تکریم کریں، اپنے دلوں سے تکبر اور غرور کو دور کریں، غریبوں، یتیموں اور ضرورت مندوں کے ساتھ محبت، شفقت اور احترام کا برتاؤ کریں، اور اپنی زندگی کو اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات کے مطابق گزارنے کی سعادت حاصل کریں۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَصَلَّى اللَّهُ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرِينَ۔

اسلام ایک ایسا آسمانی دین ہے جس نے انسان کی انفرادی، اجتماعی، اخلاقی اور روحانی زندگی کے ہر پہلو کے لیے بہترین اصول عطا کیے ہیں۔ ان اصولوں میں ایک بنیادی اور نہایت اہم اصول احترامِ انسانیت ہے۔ اسلام کی نگاہ میں ہر انسان اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور اس کی بہترین تخلیق ہے، اسی لیے ہر انسان عزت و تکریم کا مستحق ہے۔ اسلام نے کسی انسان کی عزت کو اس کے مال، دولت، حسب و نسب، قوم، رنگ یا عہدے سے وابستہ نہیں کیا بلکہ تقویٰ، ایمان، علم اور حسنِ اخلاق کو فضیلت کا معیار قرار دیا ہے۔

آج کا معاشرہ مادّی سوچ کا شکار ہے۔ لوگوں کی عزت کا معیار ان کی دولت، شہرت، سیاسی اثر و رسوخ اور سماجی مقام بن چکا ہے۔ امیر لوگوں کے ساتھ انتہائی ادب، احترام اور خوش اخلاقی سے پیش آیا جاتا ہے جبکہ غریب، یتیم، مزدور اور ضرورت مند افراد کو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ یہ رویہ اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے، کیونکہ اسلام ہر انسان کو مساوی عزت دینے کا حکم دیتا ہے۔

اہلِ بیت علیہم السلام نے اپنے اقوال اور اپنے عملی کردار کے ذریعے ہمیشہ مساوات، عدل اور احترامِ انسانیت کا درس دیا۔ حضرت امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام کی ایک نہایت جامع حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے:

«مَنْ لَقِیَ فَقِیراً مُسْلِماً فَسَلَّمَ عَلَیْهِ خِلَافَ سَلَامِهِ عَلَی الْأَغْنِیَاءِ لَقِیَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَةِ وَهُوَ عَلَیْهِ غَضْبَانُ.»ترجمہ:"جو شخص کسی غریب مسلمان سے اس انداز میں سلام کرے جو امیروں سے کیے جانے والے سلام سے مختلف ہو، وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر غضبناک ہوگا۔"

یہ حدیث مختصر ہونے کے باوجود اپنے اندر بہت وسیع پیغام رکھتی ہے۔ اس میں صرف سلام کا ذکر نہیں بلکہ پورے معاشرتی رویے کی اصلاح مقصود ہے۔ اگر کوئی شخص مالدار لوگوں کے سامنے جھک جائے، ان سے خوش اخلاقی سے بات کرے لیکن غریب انسان کے ساتھ بے اعتنائی، سرد مہری یا تحقیر کا رویہ اختیار کرے تو وہ اسلامی اخلاق سے دور ہے۔ امام رضا علیہ السلام ایسے رویے کو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب قرار دیتے ہیں، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں عزت و احترام کی بنیاد انسانیت اور ایمان ہے، نہ کہ مال و دولت۔

قرآنِ مجید بھی اسی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:﴿وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ﴾"اور بے شک ہم نے اولادِ آدم کو عزت بخشی۔" (سورۂ اسراء: 70)

یہ آیت اعلان کرتی ہے کہ عزت اللہ تعالیٰ کی عطا ہے، اور کسی انسان کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دوسرے انسان کو حقیر سمجھے یا اس کی تذلیل کرے۔

کریم نے نہ صرف انسان کی عزت کو بیان کیا ہے بلکہ اس عزت کا حقیقی معیار بھی واضح فرمایا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾"بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔"(سورۂ حجرات: 13)

یہ آیت اسلامی معاشرے کے لیے ایک عظیم دستور ہے۔ اس میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہ دولت باعثِ فضیلت ہے، نہ حسب و نسب، نہ رنگ و نسل اور نہ ہی دنیاوی منصب؛ بلکہ اصل فضیلت ایمان، تقویٰ، حسنِ اخلاق اور نیک کردار میں ہے۔ اگر ایک غریب انسان متقی اور پرہیزگار ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک متکبر دولت مند سے کہیں زیادہ معزز اور مکرم ہو سکتا ہے۔

حضرت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اسی حقیقت کو اپنے متعدد فرامین میں بیان فرمایا۔ آپؐ نے فرمایا:"اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مال کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے۔"

یہ حدیث ہمیں متوجہ کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک انسان کی ظاہری حیثیت کی کوئی اہمیت نہیں، بلکہ اس کے اخلاص، نیت، ایمان اور کردار کی قدر ہے۔ لہٰذا ایک مسلمان کو بھی لوگوں کے ساتھ اسی معیار کے مطابق برتاؤ کرنا چاہیے۔

اسلام میں سلام کو نہایت اہم مقام حاصل ہے۔ سلام صرف ایک لفظ یا رسمی ملاقات نہیں بلکہ محبت، اخوت، امن اور احترام کا عملی اظہار ہے۔ جب ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو "السلام علیکم" کہتا ہے تو وہ درحقیقت اس کے لیے سلامتی، رحمت اور خیر کی دعا کرتا ہے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

"آپس میں سلام کو عام کرو تاکہ تمہارے درمیان محبت پیدا ہو۔"

سلام میں امیر و غریب، چھوٹے اور بڑے، حاکم اور محکوم کے درمیان کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ایک شخص دولت مند کو مسکرا کر سلام کرے اور غریب کو بے رخی سے دیکھے تو وہ امام رضا علیہ السلام کی اس حدیث کے مطابق ایک سنگین اخلاقی غلطی کا مرتکب ہوتا ہے۔

اہلِ بیت علیہم السلام کی پوری زندگی احترامِ انسانیت کا عملی نمونہ ہے۔ حضرت امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کا طرزِ زندگی اس سلسلے میں بہترین مثال پیش کرتا ہے۔ آپؑ رات کی تاریکی میں یتیموں، بیواؤں اور محتاجوں کے گھروں تک خود کھانا اور ضروری سامان پہنچاتے تھے تاکہ کسی کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔ آپؑ فرماتے ہیں:

"لوگ دو قسم کے ہیں؛ یا دین میں تمہارے بھائی ہیں یا خلقت میں تمہارے جیسے انسان۔"

یہ مختصر جملہ انسانی مساوات، عدل اور احترام کا ایسا جامع منشور ہے جس کی مثال دنیا کے بڑے بڑے انسانی حقوق کے قوانین میں بھی مشکل سے ملتی ہے۔

حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام اپنی سخاوت اور حسنِ اخلاق کے لیے مشہور تھے۔ روایت ہے کہ آپؑ نے کئی مرتبہ اپنا آدھا بلکہ بعض مواقع پر پورا مال اللہ کی راہ میں تقسیم کر دیا، لیکن کسی ضرورت مند کو کبھی احساسِ کمتری میں مبتلا نہیں ہونے دیا۔ آپؑ پہلے اس کی عزت کا خیال رکھتے، پھر اس کی ضرورت پوری فرماتے۔

حضرت امام حسین علیہ السلام نے بھی انسانی عزت کی حفاظت کو اسلامی معاشرے کی بنیاد قرار دیا۔ کربلا کا واقعہ بھی انسانی عزت، آزادی اور حق کی حفاظت کا عظیم درس دیتا ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے ظلم کے سامنے سر نہ جھکا کر پوری انسانیت کو یہ پیغام دیا کہ عزتِ نفس ہر دنیاوی مفاد سے زیادہ قیمتی ہے۔

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام برسوں تک رات کے اندھیرے میں ضرورت مند خاندانوں کے گھروں تک راشن پہنچاتے رہے۔ جب آپؑ کی شہادت ہوئی تو اہلِ مدینہ کو معلوم ہوا کہ ان کے گھروں میں خاموشی سے رزق پہنچانے والا کوئی عام شخص نہیں بلکہ امامِ معصوم تھے۔ یہ اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیم کا عملی نمونہ ہے کہ مدد بھی اس انداز میں کی جائے جس سے کسی کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔

  • اربعین حسینی؛ یادِ شہادت سے ذمہ داری کے شعور تک

    اربعین حسینی؛ یادِ شہادت سے ذمہ داری کے شعور تک

    حوزہ/اربعین، جو کربلا کے المیے کے چالیسویں دن کو کہا جاتا ہے، محض ایک یادگاری تقریب نہیں، بلکہ ایک زندہ تحریک ہے جو ہر سال کروڑوں انسانوں کو ایک پیغام…

  • اے شہید رہبر! اے راہِ حسینؑ کے مسافر الوداع!

    اے شہید رہبر! اے راہِ حسینؑ کے مسافر الوداع!

    حوزہ/آج ہم نے اپنے اشکوں کے ساتھ آپ کے جسد مطہر کو آپ کی ابدی آرام گاہ کے سپرد کیا۔ مگر آپ کی فکر، آپ کا کردار، آپ کا عزم اور آپ کا پیغام کبھی…

  • ہمارا راستہ، حسینیت

    ہمارا راستہ، حسینیت

    حوزہ/انسانی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو وقت کی گرد میں دفن نہیں ہوتے، بلکہ ہر دور میں ایک نئے پیغام کے ساتھ زندہ ہوتے ہیں۔ امام حسینؑ کا نام انہی…

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha