تحریر: حافظہ طاہرہ بتول
حوزہ نیوز ایجنسی|
مقدمہ
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی معرفت، عبادت اور قربِ الٰہی کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ انسان کی حقیقی کامیابی نہ صرف دنیاوی آسائشوں میں ہے اور نہ ہی محض ظاہری ترقی میں، بلکہ وہ کامیابی اللہ تعالیٰ کی رضا، قلبی سکون، پاکیزہ کردار اور آخرت کی نجات میں پوشیدہ ہے۔ یہی وہ مقصد ہے جس کی طرف تمام انبیائے کرامؑ، ائمۂ اہلِ بیتؑ اور اولیائے الٰہی نے انسان کی رہنمائی فرمائی ہے۔
اللہ تعالیٰ سے قرب حاصل کرنے کے بے شمار ذرائع ہیں، لیکن ان میں ایک ایسا عظیم سرمایہ بھی ہے جسے قرآنِ کریم نے اہلِ ایمان کی صفت، رسولِ اکرمؐ نے مؤمن کی عزت، ائمۂ اہلِ بیتؑ نے ایمان کی زینت اور اولیائے الٰہی نے اپنی روحانی کامیابیوں کا راز قرار دیا ہے۔ یہ عظیم عبادت نمازِ شب ہے۔
رات کی خاموشی میں، جب دنیا غفلت کی نیند سو رہی ہوتی ہے، اللہ کے محبوب بندے اپنے رب کے حضور قیام کرتے ہیں، اشکِ ندامت بہاتے ہیں، اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں اور اس کی رحمت کے امیدوار بنتے ہیں۔ یہی وہ مبارک لمحے ہیں جن میں بندہ اپنے پروردگار کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
نمازِ شب صرف چند رکعات کا نام نہیں، بلکہ یہ بندے اور خدا کے درمیان محبت، اخلاص، توبہ، امید اور معرفت کا ایسا نورانی رشتہ ہے جو انسان کی زندگی کو بدل دیتا ہے۔ یہی عبادت دلوں کو زندہ کرتی ہے، گناہوں کو مٹاتی ہے، رزق میں برکت پیدا کرتی ہے، مشکلات کو آسان بناتی ہے اور انسان کو دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے۔ اسی لیے اسے بجا طور پر "کامیابیوں کا خزانہ" کہا جا سکتا ہے۔
نمازِ شب قرآنِ کریم کی روشنی میں:
قرآنِ مجید نے متعدد مقامات پر شب بیداری اور رات کی عبادت کرنے والوں کی عظمت کو بیان فرمایا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ. (سورۂ سجدہ: 16)
ترجمہ: "ان کے پہلو بستروں سے جدا رہتے ہیں، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں، اور جو رزق ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔"
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اللہ کے محبوب بندے آرام و آسائش پر رضائے الٰہی کو مقدم رکھتے ہیں۔ وہ رات کی خلوت میں اپنے رب سے راز و نیاز کرتے ہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ انہیں اپنی خاص رحمتوں اور بے شمار برکتوں سے نوازتا ہے۔
اسی طرح ارشادِ الٰہی ہے: وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا. (سورۂ اسراء: 79) ترجمہ: "اور رات کے ایک حصے میں تہجد ادا کیجیے، امید ہے کہ آپ کا پروردگار آپ کو مقامِ محمود عطا فرمائے گا۔"
یہ آیت اس حقیقت کی دلیل ہے کہ رات کی عبادت انسان کو روحانی بلندی اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بلند مقام عطا کرتی ہے۔
نمازِ شب احادیثِ اہلِ بیتؑ کی روشنی میں
رسولِ اکرمؐ نے فرمایا: شَرَفُ الْمُؤْمِنِ قِيَامُهُ بِاللَّيْلِ، وَعِزُّهُ اسْتِغْنَاؤُهُ عَنِ النَّاسِ."مؤمن کی شرافت نمازِ شب ہے اور اس کی عزت لوگوں سے بےنیازی میں ہے۔"(الکافی، ج 2، ص 148)
ایک اور حدیث میں آپؐ نے فرمایا:عَلَيْكُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ، فَإِنَّهُ دَأْبُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ، وَقُرْبَةٌ إِلَى رَبِّكُمْ، وَمَكْفَرَةٌ لِلسَّيِّئَاتِ، وَمَنْهَاةٌ عَنِ الْإِثْمِ."نمازِ شب کو لازم پکڑو، کیونکہ یہ تم سے پہلے صالحین کی سنت ہے، تمہیں تمہارے رب کے قریب کرتی ہے، گناہوں کا کفارہ بنتی ہے اور انسان کو گناہوں سے روکتی ہے۔"(بحار الأنوار، ج 87، ص 161)
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں:صَلَاةُ اللَّيْلِ تُحَسِّنُ الْوَجْهَ، وَتُحَسِّنُ الْخُلُقَ، وَتَدُرُّ الرِّزْقَ."نمازِ شب چہرے کو نورانی، اخلاق کو سنوارتی اور رزق میں برکت کا سبب بنتی ہے۔"(وسائل الشیعہ، ج 5، ابواب صلاة اللیل)
اولیائے الٰہی کی نظر میں نمازِ شب:
تمام انبیائے کرامؑ، آئمہ اہلِ بیتؑ اور اولیائے الٰہی کی زندگیاں نمازِ شب سے مزین تھیں۔ انہوں نے اپنی روحانی قوت، اخلاص اور اللہ تعالیٰ سے قرب کا راز اسی عبادت میں پایا۔
آیت اللہ العظمیٰ محمد تقی بہجت کے پاس ایک نوجوان آیا اور عرض کیا:
"آقا! میں معنوی ترقی، دل کی صفائی اور امامِ زمانہؑ کی خاص توجہ حاصل کرنا چاہتا ہوں، اس کا آسان راستہ کیا ہے؟"
آپ نے مختصر مگر جامع جواب دیا:
"نمازِ شب کو کبھی ترک نہ کرو، اور اگر پوری نمازِ شب ادا نہ کر سکو تو کم از کم نمازِ وتر کی پابندی کرو۔"
آپ فرمایا کرتے تھے:
"جو شخص اللہ سے خلوت چاہتا ہے، اسے رات کی تنہائی میں اپنے رب سے گفتگو کرنی چاہیے۔"
آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہای نے بھی متعدد مواقع پر جوانوں کو نصیحت فرمائی ہے کہ روحانی ترقی، ارادے کی مضبوطی اور اللہ تعالیٰ سے گہرا تعلق حاصل کرنے کے لیے نمازِ شب سے غفلت نہ برتیں، کیونکہ رات کی خلوت میں کی جانے والی عبادت انسان کے دل کو نورانی اور اس کی روح کو طاقت عطا کرتی ہے۔
نتیجہ:
آج کا انسان بے شمار مادی سہولتوں کے باوجود روحانی بے سکونی، ذہنی اضطراب اور اخلاقی کمزوری کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں نمازِ شب ایک ایسی الٰہی نعمت ہے جو دلوں کو سکون، دعا کو قبولیت، زندگی کو برکت، رزق کو وسعت، اخلاق کو حسن اور انسان کو اللہ تعالیٰ کی قربت عطا کرتی ہے۔
اگر پوری نمازِ شب ادا کرنا ممکن نہ ہو تو کم از کم ایک رکعت نمازِ وتر سے اس نورانی سفر کا آغاز کیا جا سکتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو وہ عبادت سب سے زیادہ پسند ہے جو اخلاص کے ساتھ ہمیشہ کی جائے، خواہ مقدار میں کم ہی کیوں نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ ہمیں نمازِ شب کی پابندی، اخلاصِ عبادت، حسنِ عمل اور اپنی دائمی قربت نصیب فرمائے، تاکہ ہماری زندگی ایمان، تقویٰ، سکون، نورِ الٰہی اور حقیقی کامیابی سے منور ہو جائے۔ آمین۔









آپ کا تبصرہ