پیر 7 ستمبر 2026 - 12:22
پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف جدوجہد؛ معاشرے کی اصلاح میں علمائے دین کا عملی کردار

حوزہ/ اسلامی تعلیمات میں معاش کے لیے محنت اور جدوجہد صرف معاشی ضرورت نہیں بلکہ انسانی عزت و وقار کی حفاظت کا ذریعہ بھی ہے۔ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے لوگوں کو صبح سویرے اپنے کام اور روزگار کی طرف جانے کی دعوت دیتے ہوئے اسے عزت کا راستہ قرار دیا۔ علمائے دین کی عملی زندگی بھی ہمیشہ بھیک مانگنے کی عادت کی حوصلہ شکنی اور باعزت روزگار کی ترغیب سے عبارت رہی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی تعلیمات میں معاش کے لیے محنت اور جدوجہد صرف معاشی ضرورت نہیں بلکہ انسانی عزت و وقار کی حفاظت کا ذریعہ بھی ہے۔ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے لوگوں کو صبح سویرے اپنے کام اور روزگار کی طرف جانے کی دعوت دیتے ہوئے اسے عزت کا راستہ قرار دیا۔ علمائے دین کی عملی زندگی بھی ہمیشہ بھیک مانگنے کی عادت کی حوصلہ شکنی اور باعزت روزگار کی ترغیب سے عبارت رہی ہے۔

آیت اللہ العظمیٰ بروجردیؒ کے پاس ایک مرتبہ ایک فقیر بھیک مانگنے کے لیے آیا۔ انہوں نے اس شخص کو دیکھ کر اندازہ لگایا کہ وہ کام کرنے اور روزی کمانے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن بھیک مانگنا اس کی عادت بن چکی ہے۔ چنانچہ انہوں نے اسے نصیحت کی اور اپنی بات سمجھانے کے لیے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے ایک فرمان کا حوالہ دیا۔

استاد شہید آیت اللہ مرتضیٰ مطہریؒ اپنی کتاب ’’آزادی معنوی‘‘ میں اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’میں نے پہلی بار یہ حدیث مرحوم آیت اللہ العظمیٰ بروجردی سے سنی تھی۔ ایک مرتبہ ایک غریب اور بھکاری شخص ان کے پاس آیا اور کچھ مانگنے لگا۔

انہوں نے اس کے چہرے کو دیکھا اور محسوس کیا کہ یہ ایسا شخص ہے جو کام اور کاروبار کرسکتا ہے، لیکن بھیک مانگنا اس کا پیشہ بن چکا ہے۔

انہوں نے اسے نصیحت کی اور امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کا یہ جملہ بھی سنایا۔ آپ فرماتے تھے: اغْدُوا إِلَى عِزِّكُمْ؛ صبح سویرے اپنی عزت و سربلندی کی طرف جاؤ؛ یعنی اپنے کام، روزگار اور رزق کی تلاش میں نکلو۔‘‘

یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ اسلامی تعلیمات میں محنت، خود انحصاری اور باعزت روزگار کو انسانی وقار سے جوڑا گیا ہے، جبکہ بلا ضرورت دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔

ماخذ: آزادی معنوی، استاد شہید آیت اللہ مرتضیٰ مطہری، صفحہ 82

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha