حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نئے تعلیمی سال کے آغاز کی تقریب کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین ملکی نے کہا کہ گزشتہ سال رہبر شہید کا بیانیہ جاری ہونے کے اگلے ہی روز آیت اللہ اعرافی نے ہنگامی اجلاس طلب کیا تاکہ اس کے نکات پر عملی اقدامات شروع کیے جا سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس دوران بیانیے کے مختلف پہلوؤں پر کئی کتابیں لکھی گئیں اور تقریباً ایک ماہ قبل اس سے متعلق درسی کتاب بھی مکمل کرکے تمام صوبوں کو بھیج دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ بیانیے میں حوزہ کی شناخت، تعلیمی مدت مختصر کرنے، معاشرے اور نظام کی ضروریات کا جواب دینے سمیت مختلف اہم موضوعات پر توجہ دی گئی ہے۔
حوزہ قم میں 100 سے زائد تخصصی شعبے
حجۃ الاسلام ملکی نے کہا کہ آیت اللہ اعرافی کے دور میں اب تک 100 سے زائد تخصصی شعبے اور رجحانات عملی طور پر شروع کیے جا چکے ہیں اور اس وقت حوزہ علمیہ قم میں ڈاکٹریٹ کی سطح پر بھی 100 سے زائد تخصصی شعبے فعال ہیں۔ انہوں نے اسے رہبر شہید کی جانب سے حوزہ میں تبدیلی اور تخصص کے حوالے سے کیے گئے مطالبات کی تکمیل کی جانب اہم قدم قرار دیا۔
فقہ معاصر؛ عصری ضروریات کا جواب
انہوں نے مزید کہا کہ نظام کی ضروریات کا جواب دینے کے لیے ’’فقہ معاصر‘‘ کا شعبہ تقریباً 5، 6 سال قبل امام شہید کی ہدایت پر قائم کیا گیا، جس کے تحت اب تک بڑے پیمانے پر کام ہوا ہے۔ اس میدان میں اساتذہ کی تائید شدہ دروسِ خارج کی تقریباً 150 جلدوں پر مشتمل تقریرات مرتب کی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ رہبر شہید نے ان علمی کاوشوں کی حوصلہ افزائی کی اور ان پر خوشی کا اظہار کیا تھا۔
فقہ کے ساتھ کلام، فلسفہ اور تفسیر کے دروسِ خارج
نائب مدیر حوزہ علمیہ قم نے کہا کہ دروسِ خارج کو صرف فقہ و اصول تک محدود رکھنے کے بجائے کلام، فلسفہ اور تفسیر کے میدانوں تک وسعت دینے پر بھی عمل کیا گیا ہے۔ اب فقہ عمومی، تخصصی فقہ، معاصر فقہ اور نئے مسائل کے ساتھ کلام، فلسفہ اور تفسیر کے دروسِ خارج بھی منعقد ہو رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ’’فقہ مضاف‘‘ کے شعبے بھی اس سال شروع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جن میں فلسفۂ حقوق اور دیگر تخصصی موضوعات شامل ہیں۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ رہبر شہید کے مطالبات کا بڑا حصہ پورا ہو چکا ہے، تاہم کچھ اہم امور باقی ہیں جنہیں آئندہ مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔









آپ کا تبصرہ