حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی مزاحمتی تحریک نُجَباء کے سربراہ حجۃ الاسلام شیخ اکرم الکعبی نے عراق سے ایران کے لیے پروازوں کی بندش پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پروازیں بحال نہ کی گئیں اور مسئلہ حل نہ ہوا تو عراقی عوام، مواکب اور زائرین سے ایئرپورٹس پر دھرنے کی تیاری کی اپیل کی جائے گی۔
شیخ اکرم الکعبی نے کہا کہ ایسے وقت میں عراق کی خودمختاری کی بات کرنا قابلِ قبول نہیں جب ان کے بقول عراق ایک ایسے چھوٹے ملک میں تبدیل ہوچکا ہے جہاں ایک امریکی مجرم حکمرانی کر رہا ہے۔
انہوں نے عراق کی تمام سیاسی قوتوں کو، خواہ ان کے نام اور سیاسی حیثیت کچھ بھی ہو، موجودہ صورت حال پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک مسلمان قوم جارح اور کافر قوتوں کی جانب سے مسلط کیے گئے محاصرے کو کیسے برداشت کرسکتی ہے؟
تحریک نُجَباء کے سربراہ نے دعویٰ کیا کہ موجودہ صورت حال میں عراق اس محاصرے میں شریک ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں شہری مقدس مقامات کی زیارت سے محروم ہو رہے ہیں اور ملک کو اقتصادی اور معنوی نقصان پہنچ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس معاملے پر زیادہ دیر انتظار نہیں کریں گے۔ اگر یہ مسئلہ حل نہ کیا گیا، عراق امریکی تسلط سے آزاد نہ ہوا اور ایران کے ساتھ پروازیں بحال نہ کی گئیں تو ہم عراق کے عوام، آزاد منش افراد، امام حسینؑ کی خدمت کرنے والوں، انجمنوں اور امام رضاؑ کے زائرین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس ظالمانہ امریکی فیصلے کے خاتمے تک عراق کے ایئرپورٹس پر دھرنے کے لیے تیار رہیں۔
شیخ اکرم الکعبی نے زور دے کر کہا کہ ایران کے ساتھ فضائی رابطوں کی بحالی اور زائرین کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ضروری ہے، بصورت دیگر عوامی سطح پر احتجاج کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔










آپ کا تبصرہ