تحریر: مولانا طلال علی مہدوی
حوزه نیوز ایجنسی| غیبت امام زمانہ عج کے دوران امت کی فکری و شرعی تربیت و رہنمائی اور دین و احکامات کو تحریف اور فتنوں سے بچانے کیلئے نظام نیابت انتہائی ضروری ہے۔
سورۃ النساء آیت 59 میں ارشاد ہوا: "اے صاحبان ایمان! اللہ کی اطاعت کرو اور رسولؐ کی اطاعت کرو اور جو تم میں سے صاحب امر ہیں ان کی اطاعت کرو"۔ سورۃ التوبۃ آیت 122 میں ارشاد ہے: "اور مومنین کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ سب کے سب نکل کھڑے ہوں، پس ایسا کیوں نہ ہوا کہ ہر کی ہر جماعت میں سے ایک گروہ نکلتا تاکہ وہ دین کی سمجھ حاصل کرے، اور جب اپنی قوم کی طرف واپس لوٹتے تو انہیں آگاہ کرتے تاکہ وہ پرہیز کرتے۔"
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں: "فقہاء میں جو شخص اپنے نفس کا محافظ ہو، دین کا نگہبان ہو، نفسانی خواہشات کا مخالف ہو اور اپنے مولا کے امر کا مطیع ہو عوام پر لازم ہے کہ اس کی تقلید کرے"۔ (الوسائل الشیعة، ج 27)
خود امام زمانہ عج اپنی توقیع میں فرماتے ہیں: "آنے والے حوادث میں ہماری احادیث کے راویوں کی طرف رجوع کرو، کیونکہ وہ تم پہ میری حجت ہیں اور میں ان پر خدا کی حجت ہوں"۔ (کمال الدین، ج 2)
نائبین امام زمانہ عج کو دو گروہ میں تقسیم کیا جاتا ہے:
1. نوابین خاص
2. نوابین عام
نوابین خاص (نواب اربعہ) کا سلسلہ غیبت صغریٰ 206ھ سے شروع ہوا اور غیبت صغریٰ کے اختتام 330ھ تک جاری رہا۔ ان کی تعداد چار تھی اور یہ افراد امام زمانہ عج سے خط و کتابت اور روبرو ملاقات کے ذریعے رابطے میں رہتے تھے۔
نائبین خاص میں؛
1۔ عثمان بن سعیدؒ 206ھ تا 267ھ
2۔ محمد بن عثمان 267ھ تا 305ھ
3۔ حسین بن روحؒ 305ھ تا 326ھ
4۔ علی بن محمد ثمریؒ 326ھ تا 330ھ، شامل ہیں۔
پہلے اور دوسرے نائب کو خود امام حسن عسکریؑ نے اپنی زندگی میں معین کیا اور یہ زمہ داری سونپی تھی جبکہ تیسرے اور چوتھے نائب کو خود امام زمانہ عج نے توقیع (خط) کے ذریعے منتخب کیا تھا۔
330 ہجری امامِ زمانہؑ کے غیبتِ کبریٰ کا آغاز ہوا جو تا حال جاری ہے۔ غیبتِ کبریٰ کے آغاز میں امامِ زمانہ عج نے جنابِ علی سمریؒ (آخری نائب خاص) کو توقیع کی اور صریحاً اپنی طویل غیبت کے آغاز سے آگاہ کیا اور جنابِ علیؒ کو ان کے بعد کسی کو نائب مقرر کرنے سے منع فرمایا اور نیابتِ خاصہ کے اختتام کا اعلان کیا۔ تاریخ کے اس مقام سے نیابتِ عامہ کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ نیابتِ عامہ ہی دراصل مجتہدین و فقہاء کی قیادت اور تقلید کا نام ہے۔
بیعت اور تقلید میں فرق:
بیعت یعنی کسی شخصیت کے ہاتھوں اپنے پورے وجود، جان مال اور روح کو تسلیم کرنا اور انہیں حاکمِ حقیقی جاننا جو کے صرف معصومینؑ کا حق ہے۔ جبکہ تقلید کے معنی ہیں شرعی احکامات کے حوالے سے کسی ماہر، تجربہ کار اور جامع الشرائط عالمِ مجتہد کے فتویٰ پہ "رجوع الجاہل الی العالم" کی نیت سے عمل کرنا۔
سورة النحل آیت 43 میں ارشاد ہے: "اگر تم نہیں جانتے تو اہل ِذکر سوال کرو"۔
اگرچہ اس کا مصداق اتم ائمہ اطہارؑ ہیں، لیکن روایت کے عمومی مفہوم اور عقلی قاعدے کے تحت ہر وہ شخص جو دین کے احکام سے ناواقف ہے، اس پر واجب ہے کہ وہ فقیہ اور مجتہد سے سوال کرے اور ان کے فتوے کے مطابق عمل کرے۔
کتاب الکافی میں نقل ہے کہ امام جعفر صادقؑ سے جب شیعہ افراد کے درمیان شرعی و سماجی تنازعات اور حکومتی مسائل کے متعلق سوال کیا گیا تو آنحضرتؑ فرماتے ہیں: "تم میں سے جو شخص ہماری احادیث کو روایت کرتا ہو، ہمارے حلال و حرام پر نظر رکھتا ہو اور ہمارے احکام کو جانتا ہو، تو لوگوں کو چاہیے کہ اسے اپنا حاکم تسلیم کریں۔ کیونکہ میں نے اسے تم پر حاکم قرار دیا ہے۔ پس اگر وہ ہمارے احکام کے مطابق فیصلہ کرے اور کوئی اس کے حکم کو رد کرے، تو اس نے اللہ کے حکم کو ہلکا جانا اور ہم معصومینؑ کو رد کیا۔ اور جو ہم پر رد کرتا ہے وہ اللہ پر رد کرتا ہے، اور یہ حد شرک کے برابر ہے۔"
شیخ صدوقؒ نے کتاب کمال الدین، من لا یحضرہ الفقیہ، امالی اور علل الشرائع جیسی معتبر کتب میں امام زمانہؑ کے ایسے خطوط نقل کئے ہیں جو نیابت عامہ پہ دلیل کرتے ہیں اور نظام ولید فقیہ کو امام زمانہؑ کی جانب سے ایک رائج نظام ثابت کرتے ہیں مثال کے طور پر تحریر کہ شروعات میں توقیع اسحاق بن عقوب نقل کی گئی جس میں امام نے ولایت فقیہ کو امت پر حجت قرار دیا ہے۔
شیخ مفیدؒ حدود کا قیام اور احکام الہی کا اجراء فقہاء کے دوش پر ایک اہم ذمہ داری قرار دیتے ہیں۔
شیخ طوسی فقیہ جامع الشرائط کی تقلید کو ولایت معصومینؑ کا تسلسل قرار دیتے ہیں۔
محقق حلیؒ و ابو عبد الله شہید اولؒ فقہاء کی سیاسی و شرعی نیابت و تقلید کو جائز اور شرعی فریضہ قرار دیتے ہیں۔
شیخ مرتضیٰ انصاریؒ مکاسب میں نیابت فقہاء اور ولایت فقیہ کو ولایت معصومینؑ کا اہم جز قرار دیتے ہیں۔
آیت اللہ سیستانی سماجی، عمومی اور فقہی معاملات میں جماع الشرائط مجتہد کی تقلید کو معصومینؑ کی نیابت عامہ سے تصور کرتے ہیں۔
ولایت فقیہ دراصل نظام امام زمانہؑ ہے
اسلامی شریعت صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ اسلامی شریعت میں عبادت، سماجیات اور سیاست اب کو یکسر اہمیت حاصل ہے۔ تو اگر غیبت کبریٰ میں جبکہ نیابت خاصہ کو خود امام زمانہؑ نے ختم کردیا ہے، اگر امت کو بغیر رہنما کے چھوڑ دیا جائے تو نظام اسلام معطل ہوجائے گا لہذا نائب امامؑ کی حیثیت سے ایک فقیہ کا اسلامی حکومت قائم کرنا اور امت کی نیابت کرنا دراصل امام زمانہؑ کی ولایت نافذ کرنے کی کوشش ہے۔
ولایت فقیہ کے فوائد
1۔ یہ نظام عصر غیبت میں عصر ظہور کی تیاری ہے کیونکہ اگر کوئی شخص ایسے نظام کے تابع نہیں رہ سکتا جس میں مختلف اشکال کی رعایت موجود ہے تو معصومؑ کے نظام کے تحت بعد از ظہور ہرگز نہیں چل سکتا کیونکہ معصومؑ کے حکم میں کوئی رعایت نہیں ہوتی۔
2۔ نظام ولایت فقیہ تشیع کو دنیا بھر میں ایک پرچم تلے متحد کرتا ہے جو امام زمانہؑ کے علامی انقلاب کا پیش خیمہ ہے۔
پس زمانہ غیبت کبریٰ مجتہدین و فقہاء کی نیابت عامہ اور ولایت فقیہ کا نظام آیات قرآنی، احادیث و اقوال معصومینؑ اور اکابرین تشیع کے مطابق دراصل امام زمانہؑ کی بیعت، ولایت اور نصرت کا ہی تسلسل ہے اور جو اس نظام کا انکار کرے اس نے قرآن و معصومینؑ کو جھٹلایا۔










آپ کا تبصرہ