جمعہ 30 اکتوبر 2026 - 16:05
ایرانی قوم امریکہ کے دھوکے میں نہیں آنے والی: امام جمعہ تہران

حوزہ/ تہران کے عارضی امام جمعہ نے نماز جمعہ کے خطبے میں کہا ہے کہ امریکہ بار بار مذاکرات کی بات کر رہا ہے، خط بھیج رہا ہے اور درمیان میں لوگ بھیج رہا ہے، لیکن ایرانی قوم ان چالوں میں نہیں آئے گی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران کے عارضی امام جمعہ حجت الاسلام محمدجواد حاج علی اکبری نے نماز جمعہ کے خطبے میں کہا ہے کہ امریکہ بار بار مذاکرات کی بات کر رہا ہے، خط بھیج رہا ہے اور درمیان میں لوگ بھیج رہا ہے، لیکن ایرانی قوم ان چالوں میں نہیں آئے گی۔

حجت الاسلام محمدجواد حاج علی اکبری نے کہا کہ امریکہ نے ماضی میں جو وعدے توڑے، وہ لوگ ابھی بھولے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب امریکہ مذاکرات کی بات کرتا ہے تو اس میں کوئی بڑی سازش چھپی ہو سکتی ہے، اس لیے عوام کو ہوشیار رہنا چاہیے۔

انہوں نے عفت اور حیا کے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ عفت انسان کی شخصیت کی بنیاد ہے۔ جب انسان اپنی خواہشات پر قابو پاتا ہے تو وہ اچھائیوں کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں خاندان کو توڑنے کی جنگ چل رہی ہے اور بے حیائی کو عام کیا جا رہا ہے، جس سے معاشرہ تباہ ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عفیفانہ زندگی صرف ایک نصیحت نہیں بلکہ ایک اچھے معاشرے کی بنیاد ہے۔ جس معاشرے میں حیا زیادہ ہوگی، وہاں لوگ زیادہ خوش رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو شروع سے ہی عفت کی تعلیم دینی چاہیے، اور اس میں ماں باپ اور اسکول دونوں کا کردار ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ عفت زبردستی کی چیز نہیں بلکہ انسان کے اندر سے آتی ہے۔ قانون صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو بے راہ ہو جائیں۔

انہوں نے کہا کہ دشمن دیکھے گا کہ ایران کے نوجوان شہیدوں کی راہ پر چلنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رہبر معظم انقلاب نے گزشتہ 40 دنوں میں نوجوانوں کے بارے میں تین اہم پیغامات دیے ہیں جو ملک کی ترقی کا راستہ دکھاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ 70 سال سے ایران کے خلاف سازشیں کر رہا ہے۔ امریکہ کا سامنے آ کر لڑنا اس کی طاقت نہیں بلکہ کمزوری ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی مذاکرات کی درخواستوں میں خطرہ ہو سکتا ہے، اس لیے ہمارے فوجی چوکس ہیں اور عوام بھی میدان میں ہیں۔

جوہری ڈاکٹرائن پر نظرثانی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ مطالبہ جذباتی نہیں بلکہ عوام کی سمجھداری کا نتیجہ ہے۔ پہلے بھی 70 فیصد سے زیادہ لوگوں نے اس کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین اور حکام اس پر غور کریں اور تجاویز رہبر معظم کو پیش کی جائیں، اور جو فیصلہ وہ کریں ہم سب ماننے والے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha