۱۰ خرداد ۱۴۰۳ |۲۲ ذیقعدهٔ ۱۴۴۵ | May 30, 2024
News ID: 360960
13 جون 2020 - 20:49
گلزار دہلوی

حوزہ/گلزار دہلوی اب ہمارے بیچ نہیں رہے مگر گلزار دہلوی کو ہر وہ شخص دل میں زندہ رکھے گا جو اتحاد،دوستی،عشق اور اردو ادب کی راہ کا مسافر ہوگا۔

حوزہ نیوز ایجنسی| کچھ عرصہ پہلے میری نظروں سے ایک شعر گزرا اور  شعر دل میں اترا محسوس ہوا کہ اردو کی پرورش کرنے والا کوئی شاعر ہے پھر چاہت ہوئی کہ اس شاعر کے جتنے بھی اشعار میسر ہوسکیں اُنہیں پڑھا جائے اور کچھ سیکھا جائے اب تک غالب،میر تقی میر،علامہ اقبال،منور رانا کے اشعار میں دلچسپی تھی یکایک میری نظر اس شعر پر پڑی جسکے بعد میرے دل نے کہا اس شاعر کو بھی پڑھا جائے اور شعر یہ تھا۔
"جہاں انسانیت وحشت کے ہاتھوں ذبح ہوتی ہو 
جہاں تذلیل ہے جینا وہاں بہتر ہے مر جانا "

اس شعر کے خالق تھے "ڈاکٹر پنڈت آنند موہن زتشی عرف گلزار نظامی دہلوی" 
گلزار دہلوی ۷ جولائی ۱۹۲۶ کو دہلی میں پیدا ہوئے بچپن سے ہی شاعری سے دوستی ہوگئی اور شعر کہنے لگے گھر کا ماحول بھی شاعرانہ تھا جسکا اثر انکی ذات پر پڑا اور وہ اردو ادب کے ایک بہترین شاعر ہوئے انکے اشعار پڑھ کر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہورہا تھا کہ یہ کس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں گنگا جمنا تہذیب کے شاعر میں رنگ برنگ افکار سے لبریز اشعار ملے جہاں خدائے یکتا کے صفات بیان کئے  وہیں بھگوان شری رام کی فضیلت پر بھی شعر بندی کی ، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام ، قرآن ،حضرت علی علیہ السّلام،حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا،حضرت امام علی ابن الحسین علیہ السلام ،معراج کے حوالے سے بھی اشعار لکھے اور ہر ایک شعر قابل داد تھے ۔
محسوس ہوتا تھا یہ شاعر ہندوستان کی سر زمین کا ہی ہو سکتا ہے جو اپنے ساتھ ہر قوم کو لئے ہوئے تھا آزادی سے پہلے اپنے اشعار سے جانبازوں کو حوصلے بڑھائے تو آزادی کے بعد آزاد ہندوستان کے گیت گائے اسی وجہ سے پنڈت جواہر لال نہرو بھی انکے اشعار کے گرویداں تھے ،وطن سے محبت کا درس دینے کا انکا شاعرانہ انداز سب سے نرالا تھا نہ جانے کتنے انگنت موضوعات پر قلم اٹھایا اور اس میں مزید توسیع کی اور اتحاد کا پیغام دیا یہی نہیں بلکہ شاہ سعود کی آمد پر جس طریقے سے اپنے اشعار کے ذریعے عربی ثقافت اور ہندی ثقافت کا ملاپ کیا وہ قابل رشک ہے۔
"گونجیں گے اب فضاؤں میں ناقوس اور اذان
ہند و عرب کا آج سے یکساں سرود ہے"

اسکے علاوہ بین الاقوامی سطح پر بھی اشعار کہے جیسے "ایران،عرب،چین،بنگلہ دیش،پاکستان،مصر وغیرہ کو بھی اپنے اشعار کے ذریعے محبت کا پیغام دیا۔ 
ایران اور ہندوستان کی دوستی پر گلزار دہلوی کے یہ اشعار ملاحظہ کریں:- 
"ہند و ایران میں تفاوت ہے
وہ ادب ہو کہ مذہب اسلام
مستند ہیں مرے لئے دونوں
میر و غالب کے حافظ و خیام"

مصر میں انقلاب آنے کے بعد گلزار صاحب نے اہل مصر کو خراج تحسین پیش کیا۔
"جب کبھی جبر نے فرعون کئے ہیں پیدا
طور نے جل کے تجلّی کی شہادت دی ہے
دشمن حرف صداقت کو مٹانے کے لئے
موسیٰ وقت نے دنیا پہ عنایت کی ہے"

اس ضمن میں تقریباً ۱۵ اشعار قلم بند کئے اور فکری کمک کی، جب ہندوستان میں افغانستان کا شاہ آیا تو اپنے فارسی میں بیش قیمت اشعار سے نوازا اور ہند و افغان کی دوستی کو اجاگر کیا۔ 
" در جہان دوستی تابندہ و پائندہ باد
اتحاد و اتفاق ہند و افغاں زندہ باد"

فارسی زبان پر مشتمل آپنے پورا کلام لکھا اور یہ واضح کیا کہ چاہے وہ اردو ادب ہو یا فارسی ادب میں ہر چمنستان ادب کا گلزار ہوں۔
جب ہند میں سعودی کے سفیر "الشبیلی" آئے تو آپ نے زمزم کے حوالے سے مکمل کلام لکھ کر محبت کا پیغام دیا۔ 
" ہم کہ اپنے دور کے فرہاد ہیں اور کوہکن
آب زم زم ہی ہمارے واسطے ہے جوئے شیر"

ہند و عراق کی دوستی کے حوالے سے گلزار دہلوی صاحب نے جو اشعار لکھے وہ اپنے آپ میں ایک مکمل دیوان ہیں جسکو پڑھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ یہ انسان ہر ملک کی بنیادی خبریں رکھتا تھا اور وہاں کی تہذیب کو اپنے اشعار میں سمونا بخوبی جانتا تھا۔
" ہندوستاں سے ربط مکمل کا جام لے
ارض علی کے نام ہمارا سلام لے
گو یہ وطن ہے مسلم و ہندو و جین کا
یکساں سبھی کے دل میں ہے ماتم حسین کا"

اسی طرح متعدد موضوعات پر اشعار لکھے جیسے اختلاط گنگ و نیل، ہند و پاک دوستی،ہند و نیپال دوستی،اتحاد ہند و جرمنی،ہند و چین دوستی،قیام بنگلہ دیش،الجزائر میں سامراجی مظالم کی مخالفت جیسے حساس پہلو کو اجاگر کیا اور دلیرانہ شاعری کی۔
اسی طرح سیاسی و سماجی شخصیات کے لئے بہترین اشعار قلم بند کیے جیسے مہاتما گاندھی،پنڈت موٹی لال نہرو،لالہ لاجپت رائے،پنڈت جواہر لال نہرو،شہید اشفاق اللہ، سبھاش چندر بوس،اندرا گاندھی،وجے لکشمی،رویندر ناتھ ٹیگور،لال بہادر شاستری،بابا کھڑک سنگھ،ڈاکٹر ذاکر حسین، ،ابوالکلام آزاد وغیرہ جیسی عظیم شخصیات کو اپنے اشعار کے ذریعہ زندہ رکھا۔
گلزار صاحب ادب کے باب میں ایک ایسے باب ہیں جسکے صفحات پلٹے جائیں تو ہر باب میں نیا باب مل ہی جاتا ہے۔
گلزار صاحب نے کاروان اردو ادب کے سپہ سالاروں کو بھی اپنے افکار سے زندہ رکھا، میر تقی میر، مرزا انیس،مرزا دبیر،مرزا غالب،علامہ اقبال،مولانا محمد علی،جگر مرادآبادی،کیفی اعظمی،ساغر نظامی،انور صابری،مجروح سلطانپوری،کوثر و کمال جائسی،جیسی ادبی شخصیات پر ایسے اشعار لکھے جیسے یہ اُردو ادب شناس کے ساتھ ادیب شناس بھی تھے اور معلوم ہوتا ہے کہ مندرجہ بالا ادبی شخصیات کو آپ سے زیادہ کوئی سمجھ نہ سکا ہوگا۔
غزل کی دنیا میں گلزار دہلوی کا نام سنہرے حروف سے لکھا جائیگا غزلیات میں آپنے جو ہوا چلائی وہ ہوا سب سے جدا ہے انکی غزلوں میں بادصبا کے جھونکے بھی ہیں اور گرم ہواؤں کی حرارت بھی۔۔عشق اور حالات کے جو تقاضے تھے اسے اپنی غزلوں کے سانچے میں اتارنا بخوبی جانتے تھے۔ 

گلزار دہلوی کی غزل کے کچھ اشعار ملاحظہ کریں:-

فلاح آدمیت میں صعوبت سہہ کے مر جانا 
یہی ہے کام کر جانا یہی ہے نام کر جانا 
جہاں انسانیت وحشت کے ہاتھوں ذبح ہوتی ہو 
جہاں تذلیل ہے جینا وہاں بہتر ہے مر جانا 
یوں ہی دیر و حرم کی ٹھوکریں کھاتے پھرے برسوں 
تری ٹھوکر سے لکھا تھا مقدر کا سنور جانا 

ان اشعار میں مختلف نظریات اور رنگ و روپ میں معنی خیز گفتگو کر گئے گویا انسان کو مصیبت برداشت کرنے کا حوصلا بخشا اور بیقراری کی کیفیت سے نکلنے کا راستہ فراہم کیا ایسے افکار گلزار دہلوی کی دہلیز پر ہی  رکتے ہیں۔ 

حقیقت کی عکاسی کرتا ہوا یہ شعر گلزار دہلوی کا ہی ہے جس نے انسانیت کے فقدان کا ماتم کیا-: 
ہر شے ہے اس جہان میں لیکن خدا گواہ 
گلزارؔ اس دیار میں انساں نہیں رہا 

اسی قسم کے اور مختلف اقسام کے اشعار گلزار دہلوی نے لکھے جو انکی شخصیت کا تعارف کراتی ہے۔ 
گلزار دہلوی صاحب کو  بابائے اردو،گلزار خسرو،طوطی نظامی،شاعر قوم،امام ارد،مجاہد اردو،آفتاب اردو جیسے القابات سے نوازا گیا اور پدموبھوشن،میر تقی میر اوارڈ سے بھی پذیرائی کی گئی۔

 اگر چہ گلزار دہلوی اب ہمارے بیچ نہیں رہے مگر گلزار دہلوی کو ہر وہ شخص دل میں زندہ رکھے گا جو اتحاد،دوستی،عشق اور اردو ادب کی راہ کا مسافر ہوگا۔

تحریر: عرفان عابدی مانٹوی

نوٹ: حوزہ نیوز پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں حوزہ نیوز اور اس کی پالیسی کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .