۲۴ خرداد ۱۴۰۳ |۶ ذیحجهٔ ۱۴۴۵ | Jun 13, 2024
عباس ثاقب

حوزہ/تم پہ اللہ کی مار ہے/۶؍ جولائی، نام نہاد مرکز ولایت علیؑ لاہور کے غالیوں کے نام؛نتیجۂ فکر:جناب عباس ثاقبؔ زید عزہ

حوزہ نیوز ایجنسیl
تم سے کس نے کہا
تم علیؑ کی محبت کے حقدار ہو؟
تم نے اپنے عقیدے
زمانے کے بگڑے ہوئے
بے عمل جاہلوں سے لیے
جو نماز و طہارت سے بےزار ہیں
علم سے بُغض جن کی طبیعت میں ہے
جو خدا کو خدا مانتے ہی نہیں
جو نبیؐ کو نبیؐ مانتے ہی نہیں
جو علیؑ کو علیؑ مانتے ہی نہیں
جو خدا، جو نبیؐ، جو علیؑ ان کے ذہنوں میں ہیں
وہ خدا، وہ نبیؐ، وہ علیؑ اور ہیں

تم عجب لوگ ہو!!
جن مراجع نے اپنی ہی اولاد کو
اور اپنے جوانوں کو
آلِ علیؑ کی محبت پہ قرباں کیا
ان کو منبر پہ دشنام دینے لگے؟!

تم تشیع کے جسم مقدس پہ 
رِستے ہوئے اور تعفن سے بھرپور ناسور ہو
تم سا منہ پھٹ زمانے نے دیکھا نہیں
تم دریدہ دہن، کتنے منہ زور ہو!
جس ولی زماں، نائبِ حُجّتِ عصر (عج)
سید علی اور 
سید علی سیستانی
کی اک جنبشِ لب نے
داعش کی بنیاد کو کھود ڈالا
انہیں بھونکتے ہو؟
اگر یہ نہ ہوتے تو داعش کے خونخوار کتے
تمہارے گھروں تک پہنچتے
تمہاری خواتین کی عزت و آبرو
ان کے قدموں کے نیچے تڑپتی

تمہارے لبوں پر
علیؑ کی ولایت کا جو تذکرہ ہے
وہ صفّین میں نوک نیزہ پہ
اٹھے ہوئے ایک قرآن سے کم نہیں
تم فسادی ہو، تم فتنہ گر ہو

تمہارا ہر اک لفظ بوجہل کا آئینہ دار ہے
تم میں میثمؓ نہ بوذرؓ نہ سلماںؓ نہ عمارؓ و مقدادؓ کا کوئی کردار ہے
ہر حسینی کا، ہر زینبی اور ہر فاطمی کا
تمہارے عمل سے
برائت کا اظہار ہے
تم پہ اللہ کی مار ہے

نتیجۂ فکر:جناب عباس ثاقبؔ زید عزہ

تبصرہ ارسال

You are replying to: .