۷ مرداد ۱۴۰۰ | Jul 29, 2021
نمائندہ ولی فقیہ ہندوستان

حوزہ/ماضی سے لیکر آج تک علماء و مراجع نجف وقم نے ہمارےملک کےمومنین کی سرپرستی اور قیادت پر خصوصی عنایات فرمائی ہیں اوریہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مدیر الاسوۃ فاؤنڈیشن و سرزمین ہندوستان کے برجستہ عالم دین حجت الاسلام و المسلمین مولانا سید حمید الحسن زیدی نے ہندوستان میں نمایندۂ رہبری کی قابل قدر مخلصانہ خدمات و ہدایات کے تعلق سے ستائش کرتے ہوئے کہا کہ علماء و مراجع، خاص طور پر رہبر معظم کی قیادت سے،آج ہمارے ملک کے بے شمار علاقوں میں دینی خدمات کا ایک طویل سلسلہ جاری ہے۔

اپکا مکمل بیانیہ مندرجہ ذیل ہے:

خداوند عالم کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے عصر حاضر کے قحط الرجال اور ناخوشگوار حالات میں علماء و مراجع، خاص طور پر رہبر معظم کی قیادت سے بہرہ مند فرمایا جن کی توجہ اور سوجھ بوجھ سے آج ہمارے ملک کے بے شمار علاقوں میں دینی خدمات کا ایک طویل سلسلہ جاری ہے۔

ماضی سے لیکر آج تک علماء و مراجع نجف وقم نے ہمارےملک کےمومنین کی سرپرستی اور قیادت پر خصوصی عنایات فرمائی ہیں اوریہ سلسلہ آج بھی جاری ہے، 
خداوند کریم بحق معصومین علیهم السلام ہمارے مراجع بزرگوار کوسلامتی اور طول عمر عطا فرمائے،
خاص طور پر عراق کے بدلتے سیاسی ماحول میں مرجع بزرگوار حضرت آیت اللہ العظمی سید علی حسینی سیستانی مدظلہ العالی کی حکیمانہ قیادت کو ہر بلاو مصیبت سے محفوظ رکھے۔

جیساکہ عام طور پر مومنین کرام واقف ہیں کہ رہبرمعظم انقلاب حضرت آیت اللہ العظمی سید علی حسینی خامنہ ای مدظلہ کی جانب سےبھی ہمارے ملک میں حجۃ الاسلام والمسلمین حاج آقای دین پرور حجۃ الاسلام والمسلمین حاج آقای علامہ ذیشان حیدر جوادی طاب ثراہ نمایندہ کے طور منتخب ہوچکے ہیں یہ دونوں بزرگوار اپنی اپنی جگہ پر منشأخیر رہے اگرچہ ان بزگواروں کے دور میں نمایندگی رہبری عام طور پر مومنین کے درمیان کماحقہ متعارف نہیں ہوسکی خاص طور پر علامہ جوادی اعلیٰ اللہ مقامہ کی نمایندگی کے ابتدائی دور میں اچانک رحلت سے بطور نمایندگی انکی خُدمات کا سلسلہ آگے نہیں بڑھ سکا اگرچہ بطور ایک فعال عالم دین پورے عالم تشیع کے لیےخاص طور پر اردوزبان سماج کے لیے آپ کی عظیم خدمات جگ ظاہر ہیں۔

علامہ جوادی طاب ثراہ کے بعد جس شخصیت نے بطور نمایندگی رہبر معظم ہندوستان کو اپنی خدمات کا مرکز قرار دیا وہ عظیم شخصیت حجۃ الاسلام والمسلمین حاج آقای مھدوی پور مدظلہ کی ہے جو ایک عرصہ سے اپنے خانہ وکاشانہ سے دور ہمارے ملک میں رہکر تمامتر ممکنہ خدمات انجام دے رہے ہیں اس وقت ہندوستان کا شاید ہی کوئی ایسا علاقہ ہو جہاں خود بنفس نفیس تشریف نہ لے گئے ہوں یا جہاں کے حالات کی خبر گیری  اور اپنےمحدودامکانات کے ساتھ علاقہ کی تعلیمی اور تبلیغی کارکردگی پر نظر نہ رکھی ہو ظاہرہے اس خبر گیری اور توجہ کے نتیجہ میں علاقہ کےتمام مومنین  یامبلغین کی تمام ضرورتوں کا تدارک نہیں ہوپاتا جس کی وجہ سے کچھ نہ کچھ شکایات اور بد گمانیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ 

لیکن اس دور قحط الرجال میں عالم اسلام کی عظیم قیادت سے جڑارہنا ہی وہ عظیم نعمت ہے جس کے ذریعہ ہماری معنوی رہنمائی کا راستہ کھلا ہے۔

حجۃ الاسلام والمسلمین حاج آقای مھدوی پور نے اپنے دوران قیام حتی الامکان مومنین ہندوستان کے ہر طبقہ تک پہونچنے کی کوشش کی ہے اورکرونا جیسی مہلک وبا کے دور میں بھی ایران سے ہندوستان آجانااس عزم کی بہترین دلیل اور قابل قدر ہے ہماری دعاہے کہ معبود تمام علماء اعلام مراجع عظام اور رہبر معظم انقلاب کا سایہ ہمارے سروں پر قایم رکھے اور کم ازکم نمایندگی کے ذریعہ ہی سہی ہم اپنے دینی اور سماجی رہنماؤں کی ہدایات سے بہرہ مندہوتے رہیں خدا وند کریم نمایندۂ محترم ولی فقیہ کو بھی ان کی خدمات پر بہترین اجر ثواب مرحمت فرمائے۔

سیدحمید الحسن زیدی
 مدیر
الاسوہ فاؤنڈیشن سیتاپور

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
1 + 6 =