۵ آذر ۱۳۹۹ | Nov 25, 2020
News Code: 363118
9 اکتوبر 2020 - 21:32
مولانا سید نجیب الحسن زیدی

حوزه/ ایک بچی اپنے بابا سے چند دن کی جدائی کو برداشت نہ کر سکی اس کی باتوں کا معصومانہ انداز ہمیں کہاں سے کہاں لے گیا۔

تحریر : مولانا سید نجیب الحسن زیدی

حوزہ نیوز ایجنسی | قم سے مہران کا راستہ تقریبا ۶۹۲ کلو میٹر تھا درمیان سفر صرف نماز اور کھانے کے لئے رکتے اور پھر چل دیتے ٹیکیسی میں گڑ مڑ ہو کر بیٹھے بیٹھے کب نیند آ گئی پتہ ہی نہ چلا راستے میں ایک جگہ ضرور بے تحاشہ آنے والی ان گنت چھینکوں کے لئیے تھوڑا رکنا پڑا میڈیکل اسٹور سے دوا لی کھائی اور پھر سو گئے دو کا نشہ تھا یا تھکن کے سبب نیند کا جھونکا ایک بار پھر ہر چیز سے بےخبر ہو گئے کہاں پہنچے اور کتنا سفر طے کیا کچھ ہوش ہی نہ رہا ہم کہاں پہنچ گئے  یہ پتہ تو اس وقت چلا جب کرمانشاہ کے نزدیک ایران کے سیکورٹی گارڈز نے آگے راستہ بند ہے کی علامت دکھائی اور واپس جانے کو کہا تب پتہ چلا کہ ہم مہران کے تھوڑے سے فاصلہ پر تھے اوراب ہم سے کہا جا رہا تھا کہ واپس جاو ہم نے  دل ہی دل میں دعاء کی مولا اب اتنے راستہ کے بعد واپس جانا بہت سخت ہے آپ ہی کچھ کریں بس زیارت کربلا نصیب ہو جائے ہم لوگوں نے ڈرائور سے آگے بڑھتے رہنے کو کہا جگہ جگہ روڈ پر رکاوٹیں تھیں جنکے ساتھ پولیس کی گاڑیاں نقل و حرکت پر نظر رکھے تھیں پھر صرف وہی لوگ رکاوٹوں کو عبور کر کے آگے بڑھ پا رہے تھے جنکے پاس مخصوص پاس تھے ایسے میں ایک دم سے گاڑی ایک مقام پر رکی تو ہماری سانس اٹک کے رہ گئی  یا اللہ اب کیا ہوگا ہم دیکھ رہے تھے کہ سیکورٹی آفیسرز ہماری طرح مسلسل  دیگرگاڑیوں کو واپس ہونے کی ہدایت دے رہے تھے  اور  آگے جانے کا  بظاہر اب کوئی راستہ  نظر نہیں آ رہا۔

اس وقت پتہ نہیں آقائےکاشانی نے و مھدی نصیری ( ٹیکسی ڈرائور)نے سیکورٹی افسر کو کیا اشارہ میں سمجھایا کہ ہمارے تعجب کی انتہا نہ رہی اس  نے ایک اشارہ کیا اور آگے کے لئے راستہ کھول دیا گیا کرمانشاہ سے آگے کا منظر بڑا عجیب تھا جگہ جگہ ادھ جلے ٹینک پڑے تھے جنگی آلات اور بھاری اسلحے، فوجی ٹرک ، بکتر بند گاڑیاں ،اور موٹرز پڑے تھے کہیں جنگی جہاز و ہیلی کاپٹرز کا ملبہ تھا تو کہیں فوجی قلعہ بندیاں تھیں ان سب کو  ایران و عراق کے درمیان ۸ سالہ جنگ کی یاد گار کے طور پر ایرانی حکومت نے جوں کے توں باقی رکھا تھا تاکہ ایرانی قوم یہ نہ بھولے کہ اس کے ساتھ کیا ہوا تھا اور شہیدوں نے کس طرح اپنا خون دیکر اسلامی انقلاب کو بچایا تھا ۔یہ وہ مقام تھا جہاں ۱۹۸۸ء میں ایران نے ایک تاریخی فتح حاصل کر کے ساری دنیا کو حیرت میں ڈال دیا تھا ۱۹۸۸ء  میں صدام نے سلامتی کونسل کی طرف سے جنگ بندی کی قرار داد کو منظوری دینے کے بعد بھی کچھ خیانت کاروں کے ساتھ مل کر ہوئے اسلام انقلاب کی پشت میں خنجر مارا تھا اس طرح کہ ۵۹۸ نمبر قرار داد کو ایک طرف قبول کیا دوسری طرف مجاہدین خلق(منافقین) سے ساز باز کر کے اس قرارداد کی مان مانے طریقہ سے خلاف ورزی کرتے ہوئے خرم شہر پر دوبارہ حملہ بول دیا تھا اور صدام کا خیال یہ تھا کہ ایک طرف ہم ایران کو خرم شہر میں الجھائے رکھیں گے تو دوسری طرف اپنے پالے ہوئے گماشتوں کے ذریعہ تہران تک پہنچ جائیں گے چنانچہ فروغ جاوداں نامی مشن کا آغاز کرتے ہوئے مجاہدین خلق کے کمانڈر نے اعلان کر دیا تھا کہ ۴۸ گھنٹوں کے اندر ہم تہران میں ہونگے چنانچہ عراقی فضائیہ اور زمینی فوج کی بھرپور حمایت میں انہوں نے ایران کے ۹۰ کلو میٹر تک اپنا قبضہ جما لیا تھا اور قصر شیرین، سرپل ذهاب، اسلام آباد جیسے شہر وں کو انہوں نے اپنے قلمرو کا حصہ بنا لیا تھا دوسری طرف عراق کی فضائیہ نے کرمانشاہ کے اطراف و اکناف میں زبردست بمباری کی اور تمام جنگی اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کیمیکل گیس کا بے تحاشہ استعمال کیا جس کے اثرات اب تک  وہاں کے باشندوں کے درمیان دیکھے جا سکتے ہیں اس حملہ کے جواب میں ایران کی مقداد اور حمزہ بٹالین نے لشکر محمد رسول اللہ ۲۷ اور انصار الحسین ہمدان کے ساتھ مل کر یاد گار اور تاریخی جنگ کے زرین باب کو مرصاد آپریشن کے نام سے رقم کیا جہاں دشمن نے اسے فروغ جاوداں کا نام دیا تھا وہیں ایرانی فوج نے اسے مرصاد کا نام دیا تھا اور اس آپریشن کا کوڈ علی ابن ابی طالب علیہ السلام تھا علی ؑکا نام لیکر کوئی جنگ ہو اور علی ؑ مدد کے لئیے نہ آئییں کیسے ممکن ہے  چنانچہ مرصاد آپریشن کی کامیابی فاتح خیبر مولا کی ایک خاص عنایت تھی ایرانی جوانوں نے اول تو  دشمن کی نقل و حرکت پر خاموشی کے ساتھ  نظر رکھی  اور جب  تمام کا  تمام لشکر ان کے حملوں کی زد میں آ گیا تو ان پر گھات لگا کر زبردست حملہ کیا زمین پر ایران سپاہ پاسداران کے جیالے لڑ رہے تھے تو آسمان سے ایرانی فضائیہ کا پورا تعاون حاصل تھا نتیجہ یہ ہوا پانچ ہزار کے قریب دشمن کا لشکر تہس نہس ہو کر رہ گیا اور سب کے سب  تہران پر اپنا پرچم لہرانے کا خواب لئیے اسی علاقہ میں بھسم ہو کر رہ گئے اور دنیا نے ایک بار پھر دیکھ لیا کہ اگر آئیڈیا لوجی مضبوط ہو تو ٹیکنالوجی کے بس میں کچھ نہیں ہوتا جیت ہمیشہ آئیڈیا لوجی کی ہوتی ہے۔
ایمان کی طاقت سےبڑا  اسلحہ کوئی نہیں یہ ایران کے جیالوں نے بارہا ثابت کیا تھا ایک بار اور ثابت کر دیا ۔۔۔۔اس آپریشن میں کی کامیابی کا ایک بڑا نام کمانڈر شہید صیاد شیرازی کا ہے جنکی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا جنہیں بعد میں منافقین نے انتقامی کاروائی کرتے ہوئے شہید کر دیا اس سے بے خبر کہ شہید صیاد شیرازی جیسے کردار کبھی نہیں مرتے انکے جسموں کو گولیوں سے چھلنی کیا جا سکتا ہے انکی فکر و انکے کردار کو نہیں نہ ختم کیا جا سکتا ہے نہ مارا جا سکتا ہے۔۔۔

بہر کیف! آپریشن مرصاد کی یادگار سرزمین سے گزرتے ہوئے ہم انجام کار مہران بارڈر پر پہنچ گئے  بارڈر پر پہنچنے کے بعد ہمیں اب بلدچی کا تعاون درکار تھا جو عراق کی سرحد کے نزدیک اپنے مسافروں کی تلاش میں کھڑے ملتے ہیں لیکن مہران بارڈر سے عراق کی سرحد کی طرف جیسے ہی بڑھے ہمیں فوج کے جوانوں نے روک دیا اور واپس جانے کو کہا اب یہاں نہ کوئی اشارہ کام آیا اور نہ ہی کوئی صراحت فوج تو فوج ہوتی ہے اسکے سامنے اسکی محولہ ذمہ داریاں ہی سب سے اہم ہوتی ہیں لہذا ہم لوگ چپ چاپ واپس ہو لئیے اس لئیے کہ واپسی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا سرحد کی کڑی نگرانی ہو رہی تھی ایسے میں سرحد کو پار کرنا بہت مشکل تھا۔۔۔ کچھ دیر بعد ہم مہران کے معروف بلد چی کے گھر پر تھے جسکا کام کچھ پیسہ لیکر سرحد پار کرانا تھا لیکن وہ ان دنوں جانے کو تیار نہ تھا پیسہ بڑھا کر دینے کی بات بھی کی لیکن اس کا کہنا تھا ہم ایسا رسک صرف چار لوگو کے لئیے نہیں  لے سکتے بیشک آپکو سرحد پار کرا سکتے ہیں لیکن کچھ دن آپکو انتظار کرنا ہو گا کیونکہ ابھی عراق کی سنگین صورت حال کے پیش نظر قوانین سخت کر دئیے گئے ہیں اور سرحدوں کی ایران و عراق دونوں فوجوں کی جانب سے کڑی نگرانی ہو رہی ہے لیکن ہم لوگ اتنی دور آ چکے تھے کہ واپس جانے کا کوئی مطلب نہ تھا اور جیب میں اتنے پیسہ بھی نہیں تھے کہ چند دن مہران کے کسی مسافر خانہ میں ٹہر نے کا خرچ برداشت کر سکیں اسی دوران ہم جس بلدچی کے یہاں مقیم تھے اس کے ہی کسی جاننے والے نے ایک دوسرے بلدچی کا پتہ بتایا اور کہا کہ شاید وہ آپ لوگوں کو سرحد پار کرا دے کچھ ہی دیر میں ہم سفر کے لئیے تیار ہو رہے تھے اس لئیے کہ جس بلدچی کی نشاندہی کی گئی تھی *اس نے ہماری بات مان لی تھی یہ طے پایا تھا کہ دو بلدچی ہمارے ساتھ عراق تک جائیں گے اور ہمیں عراق میں ان لوگوں تک پہنچائیں گے جو زائرین کو کربلا لے جاتےہیں  اب بس ہمیں ان کے احکامات کو ماننا تھا* سب سے پہلے ان لوگوں نے کہا کہ اپنے جوتے اتار دیں اور اسپورٹ شوز لیں اپنا سامان کم سے کم کر دیں اور صرف ضرورت کا سامان رکھیں ہم نے انکی ہدایت کے مطابق ایسا ہی کیا پھر انہوں نے چھوٹے چھوٹے واٹر کولر لینے کو کہا ہم نے وہ بھی لے لئے اب ایک چھوٹا سا بیگ تھا جس میں کچھ کپڑے اور ضروری سامان اوراسی کے ساتھ ہمیں اپنے نئے سفر کا آغاز کرنا تھا اس دوران یہ بات ہوئی کہ آگے خطرہ کافی رہے گا ایران کی سرحد پر تو خیر ایرانی ہیں آپ انکی پکڑ میں آئے تو وہ زیادہ سے زیادہ واپس مہران چھوڑ دیں گے لیکن ان باولے امریکیوں کا پتہ نہیں ان کے ہتھے چڑھ گئے تو رائی کا کیا پہار بنا ڈالیں اور خدا نخواستہ بعثی فوج کے کسی اہلکار کے ہتھے چڑھ گئے پھر خدا ہی خیر کرے اس لئے  آپ لوگ نکلتے نکلتے چاہیں تو اپنے گھر والوں سے بات کر لیں اس وقت موبائل اتنا عام نہیں تھا اور عام ہو بھی تو ہم جیسے طلاب کے پاس نہیں تھا اس لئے بلدچی کے گھر سے ہی سب نے اپنے اپنے رشتہ داروں سے بات کی ۔

اس دوران جب آقای کاشانی نے اپنے گھر فون کیا تو انکی باتوں کو سن کر ہم سب کے سب منقلب ہو گئے فون کی گھنٹی بجی انکی ۴ سالہ بچی نے بڑھ کر فون اٹھایا اور اٹھاتے ہی شاید یوں  بولی کہ بابا آپ بات کر رہے ہیں کب سے آپ کے فون کا انتظار کر رہی تھی بڑی دیر کر دی فون کرنے میں ایسا ہمیں اس لئیے لگا کہ جس انداز سے آقای کاشانی بات کر رہے تھے اس سے اندازہ یہی لگ رہا تھا یہ ایک بچی اپنے بابا سے چند دن کی جدائی کو برداشت نہ کر سکی اس کی باتوں کا معصومانہ انداز ہمیں کہاں سے کہاں لے گیا۔۔۔ آقای کاشانی کاشان کے خاص  میٹھے لہجہ میں اپنی بچی کو سمجھا رہے تھے اور سفر کی مشکلات بتا رہے تھے کہ بیٹا میں جہاں تھا تیری یاد میں تھا تجھے کہیں نہیں بھولاو  ۔۔۔۔ اور میرے ذہن و دل و دماغ پر حسین ع کی ننھی بچی سکینہ چھائی تھی جس نے اپنے بابا کو رخصت کر دیا تو پھر اسے اپنے باپ سے بات کرنا نصیب نہ ہوا اور نصیب بھی ہوا تو اس وقت جب باپ کا بدن نازنین تو مقتل مین پڑا تھا لیکن اس پر سر نہ تھا کہ سکینہ اپنے بابا کے سر کو اپنے ہاتھوں میں لیکر چوم لیتی میرے اچھے بابا کہاں چلے گئے اپنی چہیتی کو چھوڑ کر بابا مجھے رات میں ڈر لگتا ہے بابا ۔۔۔ بابا تم نہیں ہوتے تو مجھے نیند نہیں آتی بابا ۔۔۔میں اپنے تصورات سے تب پلٹا جب ریسور ہاتھ میں لئے جناب حیدری کاشانی تقریبا تھراتی ہوئی آواز میں کہہ رہے تھے نہیں بیٹا ابھی کربلا نہیں پہنچا ہوں یہاں پر پانی ہے میری بچی ۔۔۔ شاید بچی نے معصومیت سے اپنے بابا سے پوچھا تھا بابا آپ کربلا پہنچ گئے یزیدیوں نے آپ پر پانی تو بند نہیں کیا بابا ۔۔۔۔ بچی نے اپنے بابا سے اور کیا باتیں کیں مجھے نہیں معلوم لیکن ادھر سے ایک باپ کی آواز ہم سن سکتے تھے جو اپنی  ۴ سالہ بچی سے کہہ رہا تھا بیٹا پانی ابھی ہے ابھی کربلا نہیں آئی ہے بیٹا یہاں سب کچھ ہے کھانا بھی ہے پانی بھی ہے ہم زیارت کے لئیے نکل رہے ہیں ہمارے پاس سب کچھ ہے ہم۔ اکیلے نہیں ہیں دو ہندوستانی دوست ہمارے ساتھ ہیں ۔۔۔۔۔ دوسری طرف صدیوں کے فاصلہ کو چیرتی کی آواز آ رہی تھی ائے مرے بابا کے گھوڑے اتنا بتا دے جب میرے بابا کا سر تن سے جدا ہوا تو اس نے پانی پی لیا تھا یا نہیں ۔۔۔۔۔

جاری ہے...
 

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
6 + 0 =