۴ آذر ۱۳۹۹ | Nov 24, 2020
پاکستان میں حسینیت کا ریفرنڈم اربعین حسینی

حوزہ/ اربعین حسینی کے موقع پر پورا پاکستان دنیا کے نقشے پر زینبی للکار بن کر بنو امیہ خائن طلقاء ابن طلقاء کی باقیات کو جناب سیدہ زینب کبریٰ کی نیابت میں کہہ رہا تھا: فواللہ لا تمحو ذکرنا! (اے طلقاء کے بیٹے یزید!) اللہ کی قسم، تو ہماری یاد کو نہ مٹاسکے گا۔

تحریر: ایم ایس مہدی،پاکستان 

حوزہ نیوز ایجنسی | بیس 20صفر 1422ھجری قمری کو پاکستان میں سید الشہداء امام حسین ؑ اور دیگر شہدائے کربلا کی یاد میں عظیم الشان اجتماعات و جلوس بعنوان چہلم یا اربعین حسینی منعقد ہوئے۔ چہلم امام حسین ؑ یا چہلم شہدائے کربلا یعنی 20صفر کو عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر سڑکوں، گلیوں، محلوں میں موجزن نظر آیا۔

جب میرے جیسا کوئی شخص شمع حسینی کے ان پروانوں کو دیکھتا ہے تو اس کے دل سے یہ دعا نکلتی ہے: جیون تیرے لعل بی بی (جناب سیدہ سلام اللہ علیہا۔۔ یہاں بی بی سے مراد بنت رسول اللہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ہیں)۔ آسان اردو میں جیویں تیرے لعل بی بی۔

پاکستان میں اربعین حسینی

چہلم شہدائے کربلا ۔۔سنی شیعہ اتحاد کا مظہر

فواللہ لا تمحو ذکرنا

فواللہ لا تمحو ذکرنا۔۔۔خاندان نبوۃ و رسالت خاتم الانبیاء حضرت محمد رسول اللہ (ﷺ) کے مطیع و فرماں بردار، محب، شیعہ مومن مسلمانوں نے سانحہ کربلا کے بعد ہمیشہ ہر دور کے یزیدی ناصبیوں کے مقابلے میں، اہل بیت نبوۃﷺ کے ہر دشمن کے مقابلے میں اس زینبی للکار فواللہ لا تمحو ذکرنا کو یاد رکھا۔

اللہ کی قسم تو ہمارا ذکر نہ مٹاسکے گا!۔

سانحہ کربلا کے بعد یزید بن معاویہ بن ابوسفیان بنو امیہ حاکم وقت کے دربار میں جب نواسی رسول اللہ ﷺ کودیگر نسل نور و کوثر کو قیدی بناکرپیش کیا گیا تب سیدہ زینب سلام اللہ علیہا نے یزید بن معاویہ بن ابوسفیان کو للکار کر کہا تھا: فواللہ لا تمحو ذکرنا، اللہ کی قسم تو ہمارا ذکر نہ مٹاسکے گا!۔ یا ذکر کو اردو میں ذکر کی بجائے یاد کہہ لیں تو یوں ہوگا: (اے یزید) واللہ تو ہماری یاد کو نہ مٹاسکے گا۔

مولوی مفتی شاید یہ سمجھ رہے تھے کہ

تو دنیا نے 20صفر1422ھجری قمری کے روز پاکستان میں دیکھا، یوں تو ہرسال ہی یہی کچھ دیکھا جاتا رہا تھا، لیکن اس مرتبہ یزید بن معاویہ کا دفاع کرنے والے مولوی مفتی شاید یہ سمجھ رہے تھے کہ آل سعود ناصبی بادشاہت کے ریالوں کی طاقت سے وہ اہل بیت نبوۃﷺ، جوانان جنت کے سرداروں حسنین کریمین علیہم السلام کا ذکر، انکی یاد معاشرے سے مٹانے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

نواسی رسول ﷺ سیدہ زینبؑ الکبریٰ

لیکن جس نواسی رسول ﷺ سیدہ زینبؑ کبری بنت فاطمہؑ زہرا و علی المرتضیٰ ؑنے یوم عاشورا شام غریباں کو جلے ہوئے خیام حسینی پر سانحہ کربلا کے اولین عزاداروں کی پہرہ داری کی تھی، حفاظت کی تھی، جس مظلومہ بی بی نواسی رسو ل اللہ ﷺ نے قیدی ہونے کے باوجود حاکم وقت یزید لعنتی کو کہا للکار کر کہا تھا کہ:

یا بن الطلقاء:

اے (ہمارے) آزاد کیے ہوؤں کی اولاد۔ ام المومنین بی بی خدیجۃ الکبریٰ کی نواسی بی بی سیدہ طاہرہ معصومہ و مظلومہ زینب کبریٰ نے ابن الطلقاء یزید بن معاویہ بن ابوسفیان سے کہا: اللہ کی قسم تو ہمارا ذکر نہ مٹاسکے گا۔

حسین ؑیا حسین ؑکے نعروں کے ساتھ سینہ کوبی، غم و ماتم

خاندان اہل بیت نبوۃﷺ کی اس بے مثال لازوال محمدص صفت، علی ؑ صفت، فاطمہ ؑ صفت سیدہ زینب الکبریٰ نے جو کہا، دنیا گواہ رہی، دنیا گواہ ہے کہ اس للکار کو مجسم سچ کرکے دکھانے والے وہی ہیں جو کبھی دس محرم کو تو کبھی 20صفر کو تو کبھی کسی اور دن یا حسین ؑیا حسین ؑکے نعروں کے ساتھ سینہ کوبی، غم و ماتم کرتے نظر آتے ہیں۔اربعین حسینی ۱۴۲۲ ھجری قمری یعنی چہلم شہدائے کربلا کے دن پاکستان میں یہ للکار گونجتی رہی۔

غیر مقلد آل سعود کی زایونسٹ وہابی ناصبی فقہ سے فتوے صادر

یوں تو پوری دنیا ہی میں ہر شیعہ مومن مسلمان ہر حسینی یہی کرتا ہے۔ لیکن پاکستان میں اس مرتبہ آل سعود کو نسل پرست زایونسٹ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حق میں ماحول بنانے کے لیے پاکستانی قوم کو منقسم کرکے باہم دست و گریباں کرنے کی سوجھی۔ چند مولوی مفتی بک گئے جھک گئے، یعنی کوا چلا ہنس کی چال، اپنی چال بھول گیا۔ غیر مقلد آل سعود کی زایونسٹ وہابی ناصبی فقہ سے فتوے صادر ہونے لگے۔ حالانکہ یہ سلسلہ بھی پرانا تھا، لیکن اس مرتبہ اسے اپ ڈیٹ کرکے منظم انداز میں فتنہ و فساد کے لیے استعمال کیا گیا۔

چند مولوی مفتی بک گئے جھک گئے

کافر کافر کا نعرہ نہ تو نعمانی حنفی فقہ میں تھا نہ ہی حنبلی فقہ کا تھا۔ لیکن پاکستان میں ایک جاہل جذباتی مخلوق ایسی بھی ہے جو ایسے ناصبیوں کی حقیقت سے لاعلم ہے اور اس نادان مخلوق کو یہ منظم سازشی ٹولہ استعمال کرتا ہے۔ اس سال محرم الحرام 1422ع میں بکنے جھکنے والے مولویوں نے پاکستانیوں کولڑانے کے لیے مسلکی منافرت و تعصب کی کھلے عام تبلیغ کرکے فعل حرام انجام دے کر اپنے آقاؤں کو یہ پیغام دیا کہ انہوں نے سعودی ریالوں کو حلال کردیا۔ جبکہ ہر مسلمان کو معلوم ہونا چاہیے کہ حرام کاری و حرام خوری، حرام ہی ہے کیونکہ حلال حرام کا تعلق اللہ کی شرع سے ہے، بندوں کی طرف سے نہیں ہے۔

اربعین یا چہلم امام حسین ع کی مناسبت سے جلوس

یہ ایک چال تھی جو اہل بیت نبوہﷺ کے دشمنوں زایونسٹ سعودی ناصبیت اور اسکے ریال خور مولوا مفتا نے چلی۔ اہل بیت نبوۃﷺ کے شیعوں نے مومنین مسلمین و حسینیوں نے اسکے جواب میں بس اتنا کہا کہ اس کا جواب اربعین حسینی کے جلوس ہوں گے حالانکہ اربعین یا چہلم امام حسین ع کی مناسبت سے یہ جلوس ہر سال 20صفر کو ہوتے ہیں۔ یعنی کوئی نیا پن نہیں تھا۔

عزاداران حسینی کو حیرت، تعجب، غم و غصہ اور صدمہ

بس اتنا ضرور تھا کہ اس سال یزیدیت کی صفوں میں چند نئے چہروں کو دیکھ کر عزاداران حسینی کو حیرت، تعجب، غم و غصہ اور صدمہ ضرور ہوا تھا۔ اس لیے حسینیوں نے اس سال اربعین حسینی یعنی چہلم شہدائے کربلا کے موقع پر بھرپور شرکت کی۔ اور ملک بھر میں پہلے سے زیادہ جوش و جذبے، عقیدت، تزک و احتشام و احترام کے ساتھ یزیدیت کو ایک اور مرتبہ عوامی ریفرنڈم کے ذریعے مردہ باد کردیا۔

پاکستان میں حسینیت کا ریفرنڈم اربعین حسینی

اب گنتے رہو تعداد کتنی تھی۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں چالیس لاکھ سے زائد عزاداران حسینی تھے۔ جلوس کے اختتام تک کراچی میں منظر یہ تھا کہ عزاداران حسینی جلوس کے پہلے سرے سے آخری سرے تک موجود تھے۔

چہلم امام حسین ع جلوس پہلا سرا بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کے سامنے

پہلا سرا پاکستانیوں کے بابائے قوم بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کے سامنے اور اطراف میں تھا۔ آخری سرا جناح صاحب کے بچپن کے مکان وزیر مینشن سے ہوتا ہوا حسینیہ ایرانیان کھارادر تک تھا۔

پورے پاکستان کے اندراربعین حسینی کے عظیم الشان ماتمی جلوس

کراچی کی بندرگاہ سے چند قدم کے فاصلے سے لے کر آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کے بلند پہاڑی مقامات تک اربعین حسینی چہلم شہدائے کربلا کے اجتماعات و جلوس رواں دواں تھے۔ دنیا کو معلوم ہو کہ وہ پاکستان جو زمینی لحاظ سے افغانستان، ایران، چین کے درمیان ہے اورجس کے جنوب میں سمندر ہے۔ اس پورے پاکستان کے اندر چہلم شہدائے کربلا اربعین حسینی کے عظیم الشان ماتمی جلوس نکالے گئے۔

اس پورے پاکستان میں شیعہ اسلامی قائدین و علمائے کرام نے خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیﷺ و اہل بیت نبوۃﷺ آل ؑ محمد ﷺ اور خاص طور پر امام حسین علیہ السلام سمیت شہدائے کربلا اور سانحہ کربلا کے اسیران کے حوالے سے مجالس عزا میں خطاب کیا۔ دوران جلوس باجماعت فرض (واجب) نمازیں ادا کیں۔ کل20صفر 1422ھجری قمری اربعین حسینی کے موقع پر یہ پورا پاکستان دنیا کے نقشے پر زینبی للکار بن کر بنو امیہ خائن طلقاء ابن طلقاء کی باقیات کو جناب سیدہ زینب کبریٰ کی نیابت میں کہہ رہا تھا: فواللہ لا تمحو ذکرنا! (اے طلقاء کے بیٹے یزید!) اللہ کی قسم، تو ہماری یاد کو نہ مٹاسکے گا!!۔

نوٹ: حوزہ نیوز پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں حوزہ نیوز اور اس کی پالیسی کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
1 + 1 =